

محمود احمد, October22,2026
واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 22 اکتوبر 2026ء
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ ایران کے معاملے پر جلد کوئی اہم پیش رفت سامنے آ سکتی ہے، تاہم ان کے بقول امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور ایران سے متعلق ممکنہ امریکی و اسرائیلی فوجی منصوبوں کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔
جوائنٹ بیس اینڈریوز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ سے ایران کے ساتھ رابطوں، مذاکرات اور ممکنہ آئندہ اقدامات کے بارے میں سوال کیا گیا۔ اس پر امریکی صدر نے کہا کہ بیشتر لوگوں کا خیال ہے کہ ایران سے متعلق پیش رفت امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ہوگی، تاہم ان کے مطابق صورتِ حال پر نظر رکھنا ضروری ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات کا راستہ مکمل طور پر چھوڑ دیا ہے تو ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں مذاکرات نہیں ہوں گے، لیکن جلد ہی کچھ ہو جائے گا۔ ان کا یہ بیان کسی مخصوص فوجی کارروائی، سفارتی اقدام یا حتمی فیصلے کی واضح تفصیل فراہم نہیں کرتا، تاہم اس سے ایران کے معاملے پر امریکی پالیسی کے اگلے مرحلے کے بارے میں سوالات پیدا ہوئے ہیں۔
وسط مدتی انتخابات کا حوالہ
ٹرمپ کے بیان میں امریکی وسط مدتی انتخابات کا ذکر خاص اہمیت رکھتا ہے۔ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات صدر کی مدتِ صدارت کے درمیان منعقد ہوتے ہیں اور ان کے ذریعے کانگریس کے ایوانِ نمائندگان کی تمام نشستوں اور سینیٹ کی متعدد نشستوں کے لیے انتخاب ہوتا ہے۔ ان انتخابات کے نتائج صدر کی جماعت کی قانون سازی کی صلاحیت اور داخلی سیاسی ماحول پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ ایران کے معاملے پر کسی ممکنہ اقدام کا انتخابات سے پہلے یا بعد میں کیا تعلق ہوگا۔ انہوں نے صرف یہ کہا کہ بہت سے لوگوں کی رائے میں پیش رفت انتخابات کے بعد ہو سکتی ہے، لیکن ان کے مطابق جلد کچھ ہونے کا امکان موجود ہے۔ اس لیے ان کے بیان کو کسی طے شدہ تاریخ یا حتمی فیصلے کے اعلان کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔
امریکہ اور اسرائیل کے ممکنہ حملوں سے متعلق رپورٹ
ٹرمپ کے بیان کے ساتھ ہی امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ بھی زیرِ بحث ہے، جس میں نام ظاہر نہ کرنے والے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر حملوں کے منصوبے تیار کیے ہیں۔
تاہم اس رپورٹ میں بیان کردہ منصوبوں کے بارے میں امریکی حکومت یا اسرائیلی حکام کی جانب سے باضابطہ تصدیق کی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔ یہ فرق اہم ہے کہ ممکنہ فوجی منصوبوں سے متعلق میڈیا رپورٹ اور کسی حکومت کی جانب سے حملے کا حتمی فیصلہ دو الگ امور ہیں۔ کسی منصوبے کی تیاری بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ اس پر عمل درآمد کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں اپنے بیان کے دوران کسی مخصوص ہدف، تاریخ یا فوجی کارروائی کی تفصیلات نہیں بتائیں۔ اسی طرح انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان کے بقول جلد ہونے والی پیش رفت سفارتی، سیاسی یا عسکری نوعیت کی ہو سکتی ہے۔
خطے کی صورتِ حال پر ممکنہ اثرات
ایران اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی، تیل کی عالمی منڈی اور بین الاقوامی سفارتی کوششوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ خطے میں کسی نئی فوجی کارروائی کے خدشات سے توانائی کی ترسیل، تجارتی جہاز رانی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر اثر پڑنے کا امکان رہتا ہے۔
دوسری جانب مذاکرات یا سفارتی رابطوں کی بحالی کشیدگی کم کرنے کا راستہ فراہم کر سکتی ہے، لیکن اس کے لیے دونوں فریقوں کے مؤقف، شرائط اور ممکنہ معاہدے کی تفصیلات اہم ہوں گی۔ ٹرمپ کے حالیہ بیان سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ پسِ پردہ کوئی رابطہ جاری ہے یا نہیں، اور نہ ہی اس سے کسی معاہدے یا فوجی اقدام کی حتمی صورت سامنے آتی ہے۔
فی الحال توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ امریکی صدر کے بیان کے بعد واشنگٹن اور تہران کی جانب سے کیا ردعمل سامنے آتا ہے، اور آیا امریکہ یا اسرائیل اپنے ممکنہ اقدامات کے بارے میں مزید وضاحت کرتے ہیں۔ آئندہ سرکاری بیانات اور قابلِ تصدیق معلومات ہی یہ واضح کر سکیں گی کہ ایران کے معاملے میں اگلا قدم کیا ہوگا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے معاملے پر جلد پیش رفت کا اشارہ دیا ہے، لیکن انہوں نے کسی مخصوص کارروائی یا تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔ انتخابات کے بعد حملوں کے منصوبوں سے متعلق دعویٰ ایک رپورٹ میں نام ظاہر نہ کرنے والے حکام سے منسوب ہے؛ اسے باضابطہ طور پر تصدیق شدہ فوجی فیصلے کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔
ماخذ: وائٹ ہاؤس، امریکی صدر کے صحافیوں سے گفتگو، نیویارک ٹائمز