Latest news

اردن میں چرچ پر مسلح حملہ، 7 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی؛ امریکی سفارت خانے نے سکیورٹی بڑھانے کا اعلان کر دیا

Spread the love

محمود احمد, October24,2026

عمان (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اکتوبر 2026ء

اردن میں ایک یونانی آرتھوڈوکس چرچ پر مسلح حملے کے بعد سکیورٹی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ امریکی سفارت خانے نے اعلان کیا ہے کہ حملے کے تناظر میں شاپنگ مالز، غیر ملکی سفارت خانوں اور دیگر اہم مقامات پر حفاظتی انتظامات بڑھائے جا رہے ہیں۔ اردنی حکام نے اس واقعے کو انتہا پسندوں کی جانب سے کی گئی دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا ہے۔ حکام کے مطابق حملے میں سات افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے، جبکہ ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

اردن کے محکمہ پبلک سکیورٹی کے سربراہ کے مطابق فائرنگ کا واقعہ کرکوک کے علاقے میں واقع ایک یونانی آرتھوڈوکس چرچ میں تدفین کی تقریب کے دوران پیش آیا۔ مسلح افراد نے تقریب میں موجود لوگوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ان کی مکمل تعداد اور حالت کے بارے میں تفصیلات فوری طور پر واضح نہیں ہو سکیں۔

حملے کے بعد اردنی سکیورٹی اداروں نے ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کارروائیاں شروع کر دیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ طے کرنا قبل از وقت ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق اردن کے اندر سرگرم کسی گروہ سے تھا یا وہ کسی بیرونی تنظیم سے وابستہ تھے۔ تفتیش کے دوران حملے کے محرکات، منصوبہ بندی اور ممکنہ معاونین کے بارے میں معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔

امریکی سفارت خانے کا سکیورٹی انتباہ

عمان میں امریکی سفارت خانے نے حملے کے بعد شہریوں اور اپنے عملے کی حفاظت کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ شاپنگ مالز، غیر ملکی سفارت خانوں اور دیگر اہم مقامات پر اضافی حفاظتی اقدامات کا مقصد ممکنہ خطرات سے نمٹنا اور عوامی مقامات پر سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔

سفارت خانے کی جانب سے سکیورٹی بڑھانے کا اعلان ایسے واقعے کے بعد سامنے آیا ہے جس نے ملک میں حفاظتی انتظامات پر توجہ بڑھا دی ہے۔ تاہم دستیاب معلومات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کن مخصوص مقامات پر اضافی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، آیا عوامی اجتماعات پر کوئی پابندی عائد کی گئی ہے یا سکیورٹی اقدامات کتنی مدت تک برقرار رہیں گے۔

اردن میں ایسے حملے شاذ و نادر ہوتے ہیں

اردن عمومی طور پر خطے کے ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں بڑے پیمانے پر مسلح حملے نسبتاً کم پیش آتے ہیں۔ اس کے باوجود اردنی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران شدت پسندوں کی جانب سے حملوں کی متعدد کوششوں کو ناکام بنایا گیا ہے۔

چرچ میں تدفین کی تقریب کے دوران فائرنگ سے شہریوں کی ہلاکت نے مذہبی اجتماعات اور عوامی مقامات کی سکیورٹی سے متعلق خدشات کو نمایاں کیا ہے۔ مذہبی مقامات پر ایسے حملے نہ صرف جانی نقصان کا باعث بنتے ہیں بلکہ مختلف مذہبی برادریوں میں خوف اور عدم تحفظ بھی پیدا کر سکتے ہیں۔

حکام کے لیے اب اہم سوال یہ ہے کہ حملہ آوروں نے کارروائی کس مقصد کے تحت کی، انہیں اسلحہ کہاں سے ملا اور آیا اس واقعے میں کسی منظم نیٹ ورک کا کردار تھا۔ ان سوالات کے جواب تفتیش مکمل ہونے اور متعلقہ شواہد سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہو سکیں گے۔

تحقیقات جاری، حملہ آوروں کی شناخت تاحال غیر واضح

اردنی حکام نے بتایا ہے کہ حملے میں ملوث افراد کی تلاش جاری ہے۔ تاہم تاحال ان کی شناخت یا کسی مخصوص تنظیم سے وابستگی کی تصدیق نہیں کی گئی۔ حکام نے بھی اس مرحلے پر کسی ایک گروہ کو ذمہ دار قرار دینے سے گریز کیا ہے۔

واقعے کے بعد سکیورٹی اداروں کی توجہ ممکنہ مزید خطرات کی روک تھام، متاثرہ افراد کی مدد اور حملے کے ذمہ داروں تک پہنچنے پر مرکوز ہے۔ امریکی سفارت خانے کی جانب سے حفاظتی اقدامات میں اضافے کا اعلان بھی اسی صورت حال کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

آئندہ دنوں میں تحقیقات سے حملے کے محرکات، ملزمان کے ممکنہ رابطوں اور سکیورٹی انتظامات سے متعلق مزید معلومات سامنے آنے کی توقع ہے۔ فی الحال حکام نے عوامی مقامات پر احتیاط اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: حملے میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد اردنی حکام سے منسوب ابتدائی معلومات پر مبنی ہے۔ حملہ آوروں کی شناخت، ان کے ممکنہ تعلقات اور واقعے کے محرکات کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی۔ کسی مخصوص تنظیم کو ذمہ دار قرار دینے کے لیے تحقیقات کے نتائج کا انتظار ضروری ہے۔

ماخذ: اردن کا محکمہ پبلک سکیورٹی، عمان میں امریکی سفارت خانہ، اردنی حکام کے بیانات