Latest news

فرانس میں مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاج، 135 سے زائد افراد گرفتار

Spread the love

محمود احمد, October24,2026

پیرس (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اکتوبر 2026ء

فرانس میں مہنگائی، قوتِ خرید میں کمی اور بڑھتے معاشی دباؤ کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں ہزاروں افراد ایک بار پھر سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ حکام کے مطابق ہفتے کے روز ملک بھر میں 100 سے زیادہ مقامات پر مظاہرے ہوئے، جبکہ فرانسیسی وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ احتجاج کے دوران اب تک 135 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گزشتہ ہفتوں میں بعض احتجاجی ریلیوں کے پُرتشدد رخ اختیار کرنے کے بعد حکومت نے سکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے ہیں۔

پیرس پولیس کے مطابق کارروائیوں کے دوران بعض افراد سے اسلحہ اور گیس ماسک بھی ضبط کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت میں صورتِ حال قابو میں ہے اور فی الحال شہر میں امن و امان کی صورتِ حال پُرسکون ہے۔ تاہم مظاہروں کے پھیلاؤ اور گزشتہ ہفتے پیش آنے والے واقعات کے پیش نظر مختلف علاقوں میں اضافی پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

احتجاج میں شریک افراد کی شکایات کا مرکزی نکتہ روزمرہ اخراجات میں اضافہ اور قوتِ خرید میں کمی ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے دباؤ نے عام شہریوں، محنت کشوں اور طلبہ کے لیے مالی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ ان کے مطالبات میں بہتر معاشی حالات، بنیادی ضروریات تک آسان رسائی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات شامل ہیں۔

طلبہ کے مطالبات سے شروع ہونے والی تحریک وسیع ہوگئی

فرانس میں احتجاجی سلسلے کا آغاز گزشتہ ماہ طلبہ کی جانب سے تعلیمی اداروں میں بہتر سہولیات کے مطالبے کے ساتھ ہوا تھا۔ بعد ازاں یہ تحریک تعلیمی مسائل سے آگے بڑھ کر مہنگائی، قوتِ خرید اور دیگر معاشی و سماجی شکایات تک پھیل گئی۔

موجودہ مظاہروں میں مزدور یونینوں اور مختلف احتجاجی گروہوں کی شرکت نے تحریک کو مزید وسعت دی ہے۔ ہفتے کے روز ہونے والی ریلیوں میں شرکا کی بڑی تعداد نے حکومتی پالیسیوں اور معاشی حالات پر اپنی ناراضی کا اظہار کیا۔

مزدور یونینوں کی شمولیت سے احتجاج کو منظم شکل ملنے کے ساتھ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنے مطالبات پیش کرنے کا موقع بھی ملا ہے۔ تاہم مظاہرین کی مجموعی تعداد کے بارے میں کوئی ایک مصدقہ قومی تخمینہ فراہم کردہ معلومات میں موجود نہیں۔

پولیس کی اضافی تعیناتی اور گرفتاریاں

گزشتہ ہفتوں کے دوران بعض احتجاجی ریلیوں میں تشدد اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کی اطلاعات کے بعد فرانسیسی حکام نے اس بار بڑے پیمانے پر سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں اضافی پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تاکہ مظاہروں کے دوران امن و امان برقرار رکھا جا سکے اور ممکنہ پرتشدد واقعات کو روکا جا سکے۔

وزیرِ داخلہ کے مطابق 135 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ پیرس پولیس نے اسلحہ اور گیس ماسک ضبط کرنے کی اطلاع دی ہے۔ تاہم فراہم کردہ معلومات میں گرفتار افراد کے خلاف عائد الزامات، ضبط کیے گئے اسلحے کی نوعیت اور ان واقعات کی مکمل تفصیلات واضح نہیں کی گئیں۔

حکام کا مؤقف ہے کہ دارالحکومت میں صورتِ حال قابو میں ہے۔ دوسری جانب احتجاج کا ملک بھر میں پھیلنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاشی مسائل کے حوالے سے عوامی بے چینی بدستور موجود ہے۔

گزشتہ ہفتے کے مظاہروں میں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں

فرانسیسی حکام کے مطابق گزشتہ ہفتے ہونے والے احتجاج کے دوران 2,500 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ ان واقعات میں تقریباً ایک ہزار پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ ان اعداد و شمار نے حکومت کے لیے امن و امان برقرار رکھنے اور احتجاج کے بنیادی اسباب سے نمٹنے کے چیلنج کو نمایاں کیا ہے۔

پولیس کی بڑی تعداد میں تعیناتی سے فوری طور پر مظاہروں پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے، لیکن مہنگائی اور قوتِ خرید سے متعلق شکایات کے حل کے لیے معاشی اقدامات بھی اہم ہوں گے۔ اگر عوام کو محسوس ہو کہ ان کے مالی مسائل پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی تو احتجاجی تحریک مزید جاری رہ سکتی ہے۔

حکومت کے سامنے معاشی اور سیاسی چیلنج

فرانس میں جاری احتجاج نے مہنگائی اور عوامی قوتِ خرید کو ایک بار پھر قومی بحث کا اہم موضوع بنا دیا ہے۔ روزمرہ اخراجات میں اضافہ، آمدن اور ضروریات کے درمیان بڑھتا فرق اور بہتر سہولیات کے مطالبات مختلف طبقوں کو ایک مشترکہ احتجاجی پلیٹ فارم پر لا رہے ہیں۔

حکومت کے لیے ایک طرف شہریوں کی معاشی مشکلات پر ردعمل دینا ضروری ہے، تو دوسری جانب مظاہروں کے دوران تشدد اور عوامی تحفظ کے معاملات سے نمٹنا بھی اہم ہے۔ آئندہ دنوں میں احتجاج کی شدت کا انحصار حکومتی اقدامات، یونینوں کے مؤقف اور مظاہرین کے مطالبات پر پیش رفت پر ہو سکتا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: گرفتاریوں، پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے اور مظاہروں کی تعداد سے متعلق اعداد و شمار فرانسیسی حکام کے حوالے سے فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہیں۔ مظاہرین کے معاشی مطالبات اور حکومتی سکیورٹی اقدامات کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے؛ تمام مظاہروں کو پُرتشدد قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ماخذ: فرانسیسی وزارتِ داخلہ، پیرس پولیس، فرانسیسی حکام کے بیانات