Latest news

وزیراعظم شہباز شریف سے لاہور چیمبر کے فاؤنڈرز گروپ کی ملاقات، کاروباری برادری کے مسائل اور سرمایہ کاری پر تبادلۂ خیال

Spread the love

منصور احمد,October24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اکتوبر 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے فاؤنڈرز گروپ کے ایک وفد نے ملاقات کی، جس میں ملک کی مجموعی معاشی صورت حال، کاروبار اور تجارت کے فروغ، صنعتی شعبے کو درپیش مسائل اور کاروباری برادری کو سہولتیں فراہم کرنے سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں معیشت کے استحکام، سرمایہ کاری میں اضافے اور نجی شعبے کے ساتھ حکومتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

وزیراعظم نے قومی معیشت کی ترقی اور استحکام میں کاروباری برادری کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے نجی شعبے کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم پر قائم ہے۔

ملاقات کے دوران وفد نے کاروباری طبقے اور صنعتوں کو درپیش مسائل سے وزیراعظم کو آگاہ کیا اور ان کے حل کے لیے اپنی تجاویز پیش کیں۔ وفد نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کو سراہتے ہوئے سرمایہ کار دوست اقدامات کی بھی تعریف کی۔

کاروبار اور صنعت کے فروغ پر زور

ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ملک میں کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دینے کے لیے حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مؤثر رابطہ اور باہمی تعاون ضروری ہے۔ شرکا نے سرمایہ کاری میں اضافے، صنعتوں کو درپیش رکاوٹوں کے خاتمے اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا۔

پاکستان کی معیشت میں صنعت، تجارت اور چھوٹے و بڑے کاروباروں کا اہم کردار ہے۔ کاروباری سرگرمیوں میں بہتری سے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، پیداوار بڑھانے اور ملکی و بیرونی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی رسائی وسیع کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اسی تناظر میں کاروباری برادری کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز اور حکومتی پالیسیوں کے درمیان رابطہ اہم سمجھا جاتا ہے۔

وفد نے وزیراعظم کو کاروباری برادری کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا، تاہم ملاقات کے اعلامیے میں ان مسائل کی مکمل تفصیل یا ان کے حل کے لیے منظور کیے گئے کسی مخصوص پیکیج، رعایت یا نئی پالیسی کا اعلان نہیں کیا گیا۔

وزیراعظم کا نجی شعبے کے ساتھ تعاون کا عزم

شہباز شریف نے کہا کہ حکومت معاشی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کے لیے نجی شعبے کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق کاروبار کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور صنعت و تجارت کو سہولتیں فراہم کرنا معاشی ترقی کے لیے اہم ہیں۔

کاروباری برادری کی توقعات میں پالیسیوں کا تسلسل، کاروبار کرنے میں آسانی، صنعتی مسائل کا حل اور سرمایہ کاری کے لیے بہتر حالات شامل ہوتے ہیں۔ ان شعبوں میں پیش رفت سے کاروباری اعتماد بہتر بنانے اور نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی میں مدد مل سکتی ہے۔

ملاقات میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ تاہم اس تعاون کے عملی نتائج کا انحصار آئندہ حکومتی اقدامات، کاروباری برادری کی تجاویز پر پیش رفت اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطوں پر ہوگا۔

لاہور چیمبر کے ساتھ وزیراعظم کا سابقہ تعلق

گفتگو کے دوران وفد کے ارکان نے شہباز شریف کی لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر کی حیثیت سے خدمات کا بھی ذکر کیا۔ وفد نے ان کے سابقہ تعلق کو یاد کرتے ہوئے چیمبر اور کاروباری برادری کے مسائل سے ان کی واقفیت کا حوالہ دیا۔

لاہور چیمبر کاروباری اور صنعتی شعبے کی نمائندگی کرنے والے اہم اداروں میں شامل ہے۔ اس کے نمائندے حکومت کے ساتھ مختلف معاشی امور پر بات چیت کرتے اور کاروباری طبقے کی تجاویز متعلقہ حکام تک پہنچاتے ہیں۔ ایسے رابطوں کے ذریعے صنعتوں، تاجروں اور سرمایہ کاروں کو درپیش مسائل اجاگر کرنے کا موقع ملتا ہے۔

وفاقی وزرا اور کاروباری وفد کی شرکت

ملاقات میں وفاقی وزیرِ قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک بھی شریک تھے۔

لاہور چیمبر کے وفد میں میاں مصبّر رحمان، فاروق افتخار، شیخ محمد آصف، شہزاد ملک، الماس حیدر، شاہد حسن شیخ، عبدالباسط، میاں طارق مصبّر، کاشف انور شیخ اور میاں خالد مصبّر شامل تھے۔

مجموعی طور پر ملاقات میں کاروباری برادری کے مسائل، سرمایہ کاری کے فروغ اور حکومت و نجی شعبے کے درمیان تعاون کو بہتر بنانے پر توجہ دی گئی۔ اب اہم مرحلہ یہ ہوگا کہ وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز پر کس حد تک پیش رفت ہوتی ہے اور ان سے صنعت و تجارت کو عملی سہولتیں فراہم کرنے میں کیا مدد ملتی ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: یہ خبر وزیراعظم اور لاہور چیمبر کے فاؤنڈرز گروپ کے وفد کی ملاقات سے متعلق فراہم کردہ بیان پر مبنی ہے۔ اعلامیے میں کاروباری مسائل اور تجاویز پر گفتگو کا ذکر ہے، تاہم کسی مخصوص نئے معاشی پیکیج، ٹیکس رعایت یا پالیسی فیصلے کی منظوری کی تصدیق نہیں کی گئی۔

ماخذ: وزیراعظم کا دفتر، لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری