Latest news

ایران کا بندر عباس میں امریکی ’لوکاس‘ ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

Spread the love

محمود احمد، 25 اکتوبر 2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اکتوبر 2026ء

ایرانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے بندر عباس کی فضائی حدود میں ایک امریکی ’لوکاس‘ ڈرون کو روک کر مار گرایا ہے۔ ایرانی فوج کے مطابق یہ کارروائی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ڈرون کے خلاف کی گئی، تاہم واقعے کے مقام، ڈرون کو نشانہ بنانے کے طریقۂ کار اور اس کے ملبے سے متعلق مزید تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔

اس دعوے کی آزادانہ تصدیق اور امریکی حکام کی جانب سے اس مخصوص واقعے پر ردعمل کی تفصیلات دستیاب نہیں۔ اس لیے ڈرون کی شناخت، اس کے مشن اور اسے مار گرائے جانے کے حالات سے متعلق معلومات کو فی الحال ایرانی فوج کے بیان سے منسوب کرکے ہی بیان کیا جا سکتا ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں فوجی سرگرمیوں اور فضائی نگرانی سے متعلق معاملات کو اہمیت حاصل ہے۔ خلیج فارس کے قریب واقع بندر عباس ایران کی اہم بندرگاہوں میں شامل ہے۔ اس علاقے میں کسی فوجی ڈرون کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ایران اور امریکہ کے درمیان سکیورٹی صورت حال کے تناظر میں اہم سمجھا جا سکتا ہے، تاہم صرف اس اطلاع کی بنیاد پر کسی وسیع تر فوجی کارروائی یا آئندہ تصادم کے بارے میں نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

امریکی ’لوکاس‘ ڈرون کیا ہے؟

امریکی فوج نے یک طرفہ حملہ آور ڈرونز کی تیاری اور استعمال پر گزشتہ برسوں میں توجہ بڑھائی ہے۔ ان ڈرونز کو عموماً کم لاگت والے نظاموں کے طور پر تیار کیا جاتا ہے، جنہیں مخصوص اہداف کے خلاف حملہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ روایتی ڈرونز کے برعکس، خودکش یا یک طرفہ حملہ آور ڈرون عموماً اپنے ہدف سے ٹکرا کر تباہ ہو جاتے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دسمبر 2015 میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے پہلے یک طرفہ حملہ آور ڈرون اسکواڈرن کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ ایسے نظاموں کی تیاری کا مقصد نسبتاً کم لاگت پر فضائی حملوں کی صلاحیت پیدا کرنا اور مختلف فوجی حالات میں استعمال کے لیے متبادل فراہم کرنا ہے۔

فراہم کردہ معلومات میں امریکی ’لوکاس‘ ڈرون کے اس مخصوص ماڈل کی تکنیکی خصوصیات، پرواز کی حد، ہتھیاروں کی صلاحیت یا بندر عباس کے قریب اس کے ممکنہ مشن کی تفصیلات موجود نہیں۔ اس لیے ان خصوصیات کے بارے میں کوئی حتمی دعویٰ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

ایرانی ڈرون ٹیکنالوجی سے ممکنہ تعلق

بعض بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی یک طرفہ حملہ آور ڈرونز کے ڈیزائن پر ایران کے اسی نوعیت کے ڈرونز کی ٹیکنالوجی کا اثر رہا ہے۔ یہ دعویٰ فوجی ٹیکنالوجی کے اس وسیع تر رجحان کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں مختلف ممالک کم لاگت والے بغیر پائلٹ طیاروں کی تیاری اور انہیں جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔

تاہم کسی ڈرون کے ڈیزائن کا دوسرے نظام سے متاثر ہونا اور اس کی مکمل نقل ہونا دو الگ باتیں ہیں۔ موجودہ واقعے کے حوالے سے فراہم کردہ معلومات میں ’لوکاس‘ ڈرون اور کسی مخصوص ایرانی ڈرون کے درمیان تکنیکی مماثلت کی تفصیلی وضاحت یا سرکاری دستاویزات شامل نہیں ہیں۔

واقعے کے بعد اہم سوالات

ایرانی فوج کے دعوے کے بعد کئی پہلوؤں کی وضاحت ہونا باقی ہے، جن میں ڈرون کی درست شناخت، اس کی پرواز کا مقصد، اسے نشانہ بنانے کے شواہد اور واقعے کے ممکنہ نتائج شامل ہیں۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ آیا ڈرون کا ملبہ حاصل کیا گیا ہے یا اس کی شناخت کے لیے کوئی تکنیکی معائنہ کیا گیا ہے۔

اگر امریکی حکام اس واقعے پر باضابطہ ردعمل دیتے ہیں تو ڈرون کی ملکیت اور مشن سے متعلق مزید معلومات سامنے آ سکتی ہیں۔ فی الحال دستیاب معلومات میں ایرانی فوج کا دعویٰ بنیادی ذریعہ ہے اور اسے آزادانہ طور پر تصدیق شدہ واقعہ قرار دینے کے لیے مزید شواہد درکار ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: بندر عباس میں امریکی ’لوکاس‘ ڈرون مار گرانے کی اطلاع ایرانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ سے منسوب ہے۔ واقعے کی آزادانہ تصدیق، امریکی ردعمل اور ڈرون کے مشن کی تفصیلات دستیاب معلومات میں شامل نہیں۔ ایرانی اور امریکی ڈرون ٹیکنالوجی کے ممکنہ تعلق سے متعلق دعوے کو بھی حتمی تکنیکی نتیجہ نہیں سمجھنا چاہیے۔

ماخذ: ایرانی فوج کا شعبۂ تعلقاتِ عامہ، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام)، ڈرون ٹیکنالوجی سے متعلق بین الاقوامی میڈیا رپورٹس