Latest news

پاکستان کا طالبان حکام سے خواتین پر پابندیاں ختم کرنے اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

Spread the love

روزینہ اسماعیل,October30,2026

اقوام متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اکتوبر 2026ء

پاکستان نے افغانستان میں طالبان حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کریں، خواتین اور بچیوں پر عائد پابندیاں ختم کریں اور افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن اقدامات کریں۔ پاکستان نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغان مہاجرین کی ضروریات پوری کرنے میں اپنا کردار ادا کرے اور ایک مستحکم، پُرامن اور خوشحال افغانستان کے قیام کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں افغانستان کی انسانی حقوق کی صورت حال پر خصوصی نمائندے کے ساتھ ہونے والے انٹرایکٹو مکالمے کے دوران پاکستانی سفارتکار محمد جواد اجمل نے پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے خصوصی نمائندے کی رپورٹ اور بریفنگ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے افغانستان میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا۔

محمد جواد اجمل نے کہا کہ افغان خواتین اور بچیوں کو بنیادی آزادیوں، تعلیم اور انسانی وقار سے محروم رکھنا طالبان کی جانب سے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے مسلسل انحراف کا عکاس ہے۔ ان کے مطابق خواتین اور بچیوں کے خلاف امتیازی پابندیاں اسلامی قوانین، روایات اور مسلم عقیدے کے بنیادی اصولوں سے بھی مطابقت نہیں رکھتیں۔

خواتین اور بچیوں کے حقوق پر پاکستانی مؤقف

پاکستانی سفارتکار نے اس موقع پر جولائی 2026ء میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی خواتین سے متعلق نویں وزارتی کانفرنس کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں منظور کیے گئے اسلام آباد اعلامیے میں بھی افغان خواتین اور بچیوں پر طالبان کی جانب سے عائد مسلسل پابندیوں پر تشویش ظاہر کی گئی تھی اور انہیں اسلامی اقدار کے منافی قرار دیا گیا تھا۔

پاکستان نے اس مؤقف کے ذریعے واضح کیا کہ افغانستان میں خواتین اور بچیوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ نہ صرف انسانی حقوق کا معاملہ ہے بلکہ اسلامی تعلیمات اور معاشرتی انصاف کے اصولوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔

افغان مہاجرین کی ذمہ داری عالمی برادری بھی اٹھائے

پاکستانی سفارتکار نے افغان مہاجرین کے حوالے سے پاکستان کی طویل انسانی ہمدردی کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کئی دہائیوں کے دوران لاکھوں افغان شہریوں کو پناہ فراہم کی ہے۔

ان کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں مہاجرین کی میزبانی کے باوجود عالمی برادری کی جانب سے پاکستان کو ملنے والی معاونت اور تعاون ضرورت کے مطابق نہیں رہا۔ پاکستان اپنی دستیاب صلاحیتوں کے مطابق ضرورت مند افغان شہریوں کی مدد جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم یہ ذمہ داری صرف ایک ملک تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔

محمد جواد اجمل نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغان مہاجرین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مالی، انسانی اور دیگر ضروری وسائل کی فراہمی میں مؤثر کردار ادا کرے۔

افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی پر تشویش

اپنے خطاب میں پاکستانی سفارتکار نے افغانستان کی سلامتی کی صورت حال اور وہاں سرگرم دہشت گرد گروہوں کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی افغانستان کے مسائل کی بنیادی وجوہات میں شامل ہے اور افغان سرزمین پر متعدد مسلح گروہوں کی موجودگی پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

انہوں نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، مجید بریگیڈ، القاعدہ، داعش خراسان اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ سمیت مختلف تنظیموں کا نام لیتے ہوئے ان کی سرگرمیوں پر تشویش ظاہر کی۔

محمد جواد اجمل نے طالبان اور ان گروہوں کے درمیان مبینہ روابط کی نشاندہی کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بیرونی عناصر بھی افغانستان میں اپنے پراکسی گروہوں کی سرپرستی کر رہے ہیں، جنہیں پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان حکام کی جانب سے ان گروہوں کی کھلے عام مذمت اور ان سے لاتعلقی ظاہر نہ کرنا سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔ پاکستان نے مطالبہ کیا کہ افغان حکام اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

تین برس میں 4,700 سے زائد پاکستانیوں کی ہلاکت کا دعویٰ

پاکستانی سفارتکار نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ تین برس کے دوران افغان سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی کے نتیجے میں 4,700 سے زائد پاکستانی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

انہوں نے 16 مارچ کو پاکستان کی جانب سے کی گئی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کارروائیوں میں فوجی تنصیبات اور دہشت گردوں کے معاون ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق ان اہداف میں ڈرونز اور گولہ بارود ذخیرہ کرنے والی وہ تنصیبات بھی شامل تھیں جنہیں ٹی ٹی پی مبینہ طور پر پاکستانی شہریوں کے خلاف استعمال کرتی تھی۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے شہریوں اور قومی سلامتی کے خلاف مسلسل حملوں پر خاموش نہیں رہ سکتا۔ ان کے بقول پاکستان بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے عوام اور قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے خلاف دفاع کا حق استعمال کرے گا۔

پُرامن افغانستان کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ

خطاب کے اختتام پر محمد جواد اجمل نے طالبان حکام پر زور دیا کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور وعدوں کی پاسداری کریں، خواتین اور بچیوں کے حقوق بحال کریں اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کریں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایسے مستحکم، پُرامن اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے جو اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر تعلقات قائم کرے۔

پاکستان نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ افغانستان میں انسانی حقوق کی صورت حال بہتر بنانے، مہاجرین کی مدد اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے مشترکہ کوششوں کو مضبوط بنائے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: اقوام متحدہ میں پیش کیا گیا یہ بیان پاکستان کے سرکاری مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔ دہشت گرد گروہوں کی موجودگی، طالبان سے مبینہ روابط اور 4,700 سے زائد پاکستانیوں کی ہلاکت سے متعلق اعداد و شمار پاکستانی سفارتکار کے بیان سے منسوب ہیں؛ ان دعوؤں کو طالبان حکام کے مؤقف اور آزادانہ تصدیق سے الگ سمجھنا ضروری ہے۔

ماخذ: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی، پاکستان کا اقوام متحدہ میں بیان،