

روزینہ اسماعیل,October31,2026
اقوام متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اکتوبر 2026ء
پاکستان نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا مستقل، غیر جانب دارانہ اور بلا امتیاز نوٹس لے اور کسی بھی ریاست کو طاقت یا سیاسی اثرورسوخ کی بنیاد پر جواب دہی سے مستثنیٰ نہ رکھا جائے۔ پاکستان نے کونسل کو محاذ آرائی اور سیاست زدگی سے دور رکھتے ہوئے تعمیری مکالمے، تعاون اور باہمی افہام و تفہیم کا مؤثر عالمی پلیٹ فارم بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔
پاکستان نے غیر ملکی قبضے، عوام کے حقِ خودارادیت سے انکار اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملات کو عالمی سطح پر یکساں اہمیت دینے کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ اسلاموفوبیا، مذہبی عدم برداشت، نسل پرستی اور اجنبیوں سے نفرت کے بڑھتے ہوئے رجحانات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے عالمی برادری سے ان رویوں کے خاتمے کے لیے مسلسل کوششیں کرنے کی اپیل کی۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انسانی حقوق کونسل کی رپورٹ پیش کیے جانے کے موقع پر پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب سفیر عثمان جادون نے خطاب کرتے ہوئے انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لیے کونسل کے کردار کے ساتھ پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
انسانی حقوق کونسل میں دوہرے معیار سے گریز کی ضرورت
سفیر عثمان جادون نے کہا کہ انسانی حقوق کونسل کا کام آفاقیت، غیر جانب داری، معروضیت اور عدمِ امتیاز کے بنیادی اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق کونسل کو سیاسی محاذ آرائی کے بجائے تعمیری مکالمے اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ انتخابی طرزِ عمل، سیاسی اثرورسوخ اور دوہرے معیارات کونسل کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اگر انسانی حقوق کے معاملات میں مختلف ممالک کے ساتھ مختلف رویہ اختیار کیا جائے تو اس سے عالمی انسانی حقوق کا نظام بھی کمزور ہو سکتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لیتے ہوئے کسی ملک کی سیاسی یا معاشی حیثیت کو بنیاد نہیں بنانا چاہیے، بلکہ ہر معاملے کو یکساں اصولوں اور شواہد کی روشنی میں دیکھنا ضروری ہے۔
اسلاموفوبیا اور مذہبی عدم برداشت پر تشویش
اپنے خطاب میں سفیر جادون نے اسلاموفوبیا، مذہبی عدم برداشت، نسل پرستی اور اجنبیوں سے نفرت کے بڑھتے ہوئے رجحانات کو بھی اہم عالمی چیلنج قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ نفرت انگیز رویوں کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر مستقل کوششوں کی ضرورت ہے، جبکہ مختلف مذاہب، ثقافتوں اور معاشروں کے درمیان باہمی احترام، رواداری اور پُرامن بقائے باہمی کو فروغ دینا بھی ضروری ہے۔
پاکستان کے مطابق انسانی حقوق کا تحفظ صرف قانونی دستاویزات یا قراردادوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کے لیے معاشروں میں برداشت، مساوات اور انسانی وقار کے احترام کو عملی طور پر فروغ دینا ہوگا۔
مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے انسانی حقوق پر اثرات
پاکستانی مندوب نے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے انسانی حقوق پر اثرات سے متعلق انسانی حقوق کونسل کی کوششوں کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث معاشروں میں بڑی تبدیلیاں آ رہی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ عالمی تعاون کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ٹیکنالوجی کے فوائد تمام طبقات تک منصفانہ انداز میں پہنچیں۔
انہوں نے بالخصوص خواتین، بچیوں اور کمزور طبقات کے حقوق کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ڈیجیٹل ترقی کے نتیجے میں کسی گروہ کو امتیازی سلوک یا بنیادی حقوق سے محرومی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
سفیر جادون نے غذائیت سے بھرپور خوراک، صاف پانی اور صفائی ستھرائی کی سہولیات تک رسائی کو بھی انسانی حقوق کے اہم پہلوؤں میں شامل قرار دیا۔ ان کے مطابق ان بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے عالمی سطح پر مربوط کوششیں ضروری ہیں۔
ترقی کے حق اور معاشی مسائل کو اہمیت دینے کا مطالبہ
پاکستان نے انسانی حقوق کے مختلف زمروں کے درمیان توازن برقرار رکھنے پر بھی زور دیا۔ سفیر عثمان جادون کے مطابق شہری و سیاسی حقوق کے ساتھ معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق بھی یکساں اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ تمام انسانی حقوق آفاقی، ناقابلِ تقسیم اور ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔
انہوں نے حقِ ترقی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ممالک اب بھی غربت، عدم مساوات، قرضوں کے بوجھ اور موسمیاتی تبدیلیوں جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق، ترقی اور پائیداری کے باہمی تعلق کو زیادہ مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے 2030 کے ایجنڈے پر پیش رفت ممکن ہو سکے۔
پاکستانی مندوب نے اس مؤقف کی حمایت کی کہ انسانی حقوق کی پالیسیوں میں ترقی پذیر ممالک کے معاشی حالات اور وسائل کی محدودیت کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے، تاکہ ترقی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کو ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ باہم مربوط مقاصد کے طور پر آگے بڑھایا جا سکے۔
آزادانہ نگرانی اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری
سفیر جادون نے انسانی حقوق کونسل کے انسدادی کردار کو مستقل مزاجی اور بلا امتیاز بنیادوں پر استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے آزادانہ نگرانی اور رپورٹنگ کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی قانون کی پاسداری یقینی بنائی جانی چاہیے۔
انہوں نے کونسل کو مناسب وسائل فراہم کرنے، اس کے مختلف مینڈیٹس کو مؤثر اور مربوط بنانے اور اداروں کے درمیان غیر ضروری دہرے کام سے بچنے کے لیے بہتر رابطہ کاری کی ضرورت بھی اجاگر کی۔
ان کے مطابق تکنیکی معاونت اور ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافے کے پروگرام متعلقہ ممالک کی ضروریات، ثقافتی حساسیت اور قومی ترجیحات کے مطابق ہونے چاہییں۔ اس سے ریاستوں کو اپنے ادارے مضبوط بنانے اور انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی ذمہ داریاں بتدریج پوری کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
انسانی وقار کا تحفظ ہی کونسل کی کامیابی کا معیار قرار
خطاب کے اختتام پر پاکستانی مندوب نے ایسے عالمی انسانی حقوق نظام کی ضرورت پر زور دیا جو اپنے اطلاق میں آفاقی، ترجیحات میں منصفانہ، وسائل کے اعتبار سے مستحکم اور سیاست زدگی سے پاک ہو۔
انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کونسل کی حقیقی کامیابی کا اندازہ صرف اس کی منظور کردہ قراردادوں یا قائم کیے گئے مینڈیٹس کی تعداد سے نہیں لگایا جانا چاہیے، بلکہ اصل معیار یہ ہونا چاہیے کہ کونسل دنیا بھر میں ہر انسان کے وقار اور بنیادی حقوق کے تحفظ میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔
پاکستان نے اپنے مؤقف میں واضح کیا کہ انسانی حقوق کے عالمی نظام کو مؤثر بنانے کے لیے تمام ممالک کے ساتھ یکساں سلوک، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر انسانی وقار کے تحفظ کو ترجیح دینا ضروری ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: اقوام متحدہ میں پاکستان کا یہ بیان انسانی حقوق کونسل کے طریقۂ کار، عالمی سطح پر امتیازی سلوک اور ترقی پذیر ممالک کے مسائل سے متعلق پاکستانی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔ انسانی حقوق کے تحفظ میں غیر جانب داری اور یکساں معیار کا مطالبہ عالمی اداروں کی ساکھ اور تمام افراد کے بنیادی حقوق کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔
ماخذ: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی، اقوام متحدہ میں پاکستان کا مستقل مشن