Latest news

آیت اللہ خامنہ ای کا مسلح افواج کو جنگی تیاری مکمل رکھنے کا حکم، دشمن کے حملے کا جواب ایران خود طے کرے گا

Spread the love

محمود احمد, October31,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اکتوبر 2026ء

ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے مسلح افواج کے اعلیٰ کمانڈروں سے ملاقات کے دوران ملک کی دفاعی اور جنگی تیاریوں کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو درپیش کسی بھی خطرے کا فوری اور مؤثر جواب دینے کے لیے فوج کو ہر وقت مکمل طور پر تیار رہنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کی جانب سے دوبارہ فوجی یا دہشت گردانہ کارروائی کی صورت میں ایران اپنے ردِعمل کے وقت، نوعیت اور طریقۂ کار کا فیصلہ خود کرے گا۔

ایرانی رہبرِ اعلیٰ نے واضح کیا کہ ملک کی سلامتی کو لاحق خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلح افواج کی تیاری کسی مخصوص جغرافیائی حدود تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق دفاعی حکمتِ عملی ایسی ہونی چاہیے جو کسی بھی ممکنہ خطرے کا بروقت مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

خامنہ ای نے کہا کہ ایران کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے لاحق خطرات کے پیشِ نظر اپنی دفاعی پالیسی اور عسکری اہداف کا مسلسل جائزہ لینا چاہیے۔ انہوں نے فوجی قیادت پر زور دیا کہ بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے مطابق دفاعی منصوبہ بندی کو بہتر بنایا جائے اور مسلح افواج کی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کیا جائے۔

دفاعی صلاحیت اور جدید عسکری ٹیکنالوجی مضبوط بنانے پر زور

ملاقات کے دوران آیت اللہ خامنہ ای نے ایرانی مسلح افواج کی دفاعی صلاحیت، انٹیلی جنس نظام اور جدید عسکری ٹیکنالوجی کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ فوج کو درکار وسائل اور سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ وہ ملک کی سرحدوں، اہم تنصیبات اور قومی سلامتی کا مؤثر انداز میں تحفظ کر سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون اور رابطہ مضبوط ہونا چاہیے۔

ایرانی رہبرِ اعلیٰ کے مطابق جدید دور کے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے صرف روایتی عسکری صلاحیت کافی نہیں، بلکہ انٹیلی جنس معلومات، جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی نظام کی بہتری بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

انہوں نے فوجی قیادت کو ہدایت کی کہ ممکنہ خطرات کا اندازہ لگانے، دفاعی منصوبوں کی تیاری اور ضروری اقدامات کے لیے مسلسل کام جاری رکھا جائے۔

امریکہ اور اسرائیل سے متعلق سخت مؤقف

خامنہ ای نے اپنے خطاب میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کو لاحق خطرات کا خصوصی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ علاقائی صورتحال میں ایران کو اپنی دفاعی حکمتِ عملی کے اہداف کا مسلسل جائزہ لینا اور انہیں بہتر بنانا چاہیے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دشمن دوبارہ ایران کے خلاف فوجی یا دہشت گردانہ کارروائی کرتے ہیں تو تہران اپنے ردِعمل کا فیصلہ خود کرے گا۔ ان کے بیان کے مطابق ایران کسی دوسرے فریق کو یہ طے کرنے کا اختیار نہیں دے گا کہ وہ کب اور کس انداز میں جواب دے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ قطر کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی بحالی سے متعلق اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جبکہ ممکنہ فوجی کارروائیوں کے خدشات بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔

عوامی حمایت کو دفاعی طاقت کا اہم ستون قرار دے دیا

ایرانی رہبرِ اعلیٰ نے مسلح افواج کی طاقت کے ساتھ عوامی حمایت کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق قومی دفاع صرف فوجی وسائل اور ہتھیاروں پر منحصر نہیں ہوتا بلکہ عوام کا اعتماد، یکجہتی اور ملک کے دفاع کے لیے حمایت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ملاقات کے دوران ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ حکام نے ملکی سلامتی، سرحدی صورتحال اور دفاعی تیاریوں کے بارے میں آیت اللہ خامنہ ای کو بریفنگ دی۔ حکام نے دفاعی ضروریات اور موجودہ سکیورٹی حالات سے متعلق تفصیلات بھی پیش کیں۔

اس ملاقات سے متعلق فراہم کردہ معلومات میں کسی نئے فوجی آپریشن یا فوری کارروائی کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم رہبرِ اعلیٰ کے خطاب میں جنگی تیاریوں کو برقرار رکھنے اور ممکنہ خطرات کا مؤثر جواب دینے کی پالیسی کو نمایاں کیا گیا ہے۔

خطے کی صورتحال پر ممکنہ اثرات

تجزیاتی اعتبار سے خامنہ ای کا یہ بیان ایران کی دفاعی پالیسی میں سخت مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک طرف تہران اپنی فوجی تیاریوں اور دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط رکھنے کا پیغام دے رہا ہے، جبکہ دوسری طرف امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں کی بحالی کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

اگر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو خطے میں کشیدگی کم کرنے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں، تاہم کسی نئی فوجی کارروائی کی صورت میں صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے آئندہ دنوں میں سفارتی کوششوں اور فریقین کے عملی اقدامات کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: آیت اللہ خامنہ ای کا بیان ایران کی اعلیٰ قیادت کی دفاعی ترجیحات اور امریکہ و اسرائیل کے حوالے سے سخت مؤقف کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم اس بیان کو کسی نئے حملے یا فوجی کارروائی کے باضابطہ اعلان کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

ماخذ: ایرانی رہبرِ اعلیٰ کا دفتر، ایرانی فوج، پاسدارانِ انقلاب