

محمود احمد, September 20,2026
تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 20 ستمبر 2026ء
ایران کے اعلیٰ ترین مشترکہ عسکری کمانڈ مرکز ‘خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈ کوارٹر’ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ خطے کے بعض ممالک کی حمایت اور رضامندی سے ایران پر دوبارہ عسکری حملے کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اتوار کو جاری کردہ ہنگامی عسکری بیان میں کہا گیا ہے کہ تہران کو موصول ہونے والی معتبر معلومات کے مطابق امریکہ نے ایک یورپی ملک میں ہونے والے مشترکہ اجلاس کے دوران یہ فیصلہ کیا، جہاں علاقائی ممالک نے ایرانی سرزمین پر دوبارہ حملوں کے لیے واشنگٹن کو گرین سگنل فراہم کیا ہے۔
ایرانی عسکری ادارے نے خطے کے ان ممالک کو سخت ترین لہجے میں خبردار کیا ہے جو امریکی کارروائی میں کسی بھی قسم کا تعاون یا حمایت فراہم کر سکتے ہیں۔ بیان کے مطابق جو بھی علاقائی ملک ایران کے خلاف امریکی فوجی اقدام میں شامل ہوگا یا اپنی فضائی حدود و سرحدیں استعمال کرنے کی اجازت دے گا، اسے اس جنگ کا برابر کا فریق سمجھا جائے گا اور ایرانی مسلح افواج کی جانب سے اس کے خلاف کسی بھی قسم کی نرمی یا رعایت نہیں برتی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ کو بھی انتباہ دیا گیا ہے کہ دوبارہ حملے کی صورت میں خطے میں موجود تمام امریکی فوجی مراکز اور مفادات ایرانی فورسز کے مسلسل اور شدید حملوں کی زد میں رہیں گے۔
یہ عسکری الرٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کی جانب سے قطر اور پاکستان کے ذریعے امریکہ کو مذاکرات کی سات شرائط بھیجی جا چکی ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ردِعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ تہران اپنی دفاعی پوزیشن اور جنگی صلاحیتیں مکمل طور پر برقرار رکھتے ہوئے سفارتی مذاکرات کا راستہ کھلا رکھے ہوئے ہے، تاہم امریکہ کی جانب سے حملے کے اس تازہ دعوے پر فی الحال کوئی باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر ایرانی عسکری کمانڈ کے جاری کردہ رسمی بیان پر مبنی ہے۔ یورپی ملک میں ہونے والے اجلاس، شریک ممالک کی شناخت اور امریکہ کے متوقع حملے کے پلان کی آزادانہ یا امریکی حکام سے باضابطہ تصدیق ہونا باقی ہے۔
ماخذ: مڈل ایسٹ ملٹری ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز تہران / واشنگٹن۔