

روزینہ اسماعیل, September 24,2026
نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 24 ستمبر 2026ء
پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری تلاطم اور سفارتی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپنے ثالثی و مصالحتی کردار کو بلا تعطل جاری رکھنے کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کی خاطر اپنے ہمسایہ ملک ایران اور امریکا کے درمیان ایک مخلص، غیر جانب دار اور مثبت ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور اس بنیادی سفارتی ہدف سے ہرگز دستبردار نہیں ہوا ہے۔ وزیراعظم نے جون کے مہینے میں طے پانے والی تاریخی ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ بعد میں رونما ہونے والے چند واقعات نے حالات کو پیچیدہ بنایا، تاہم سفارت کاری ایک مسلسل عمل ہے اور پاکستان دونوں فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی ہر ممکن کوششیں جاری رکھے گا۔
اسی سفارتی تحرک کے سلسلے میں نیویارک میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ایک اہم تفصیلی ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات کے علاوہ علاقائی سیکیورٹی اور عالمی صورتحال پر گہرائی سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے پرامن حل اور علاقائی استحکام کی خاطر مسلسل مکالمے پر زور دیا، جبکہ دونوں وزرائے خارجہ نے نیویارک اجلاس کے دوران اور اس کے بعد بھی باہمی مشاورت اور قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ یہ اہم ملاقات دونوں رہنماؤں کے درمیان گزشتہ ہفتے ہونے والے ٹیلیفونک رابطے کا تسلسل تھی جس میں خطے میں بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت اور توانائی کی باقاعدہ فراہمی کو یقینی بنانے پر بات کی گئی تھی۔ پاکستانی حکام کے مطابق ان تمام اقدامات کا مقصد کسی ایک فریق کا حصہ بننے کے بجائے محض سفارت کاری اور مکالمے کے ذریعے خطے میں امن کی راہ ہموار کرنا ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کی پریس ٹاک اور پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ دفتری بیانات کی روشنی میں تیار کی گئی ہے۔
ماخذ: بین الاقوامی سفارتی ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز نیویارک / اسلام آباد۔