

منصور احمد,September 24,2026
ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 24 ستمبر 2026ء
سعودی عرب کی قومی ائل کمپنی آرامکو (Saudi Aramco) نے خطے میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی اور بین الاقوامی سمندری شاہراہوں کو درپیش خطرات کے پیشِ نظر خام تیل کی برآمدات کو محفوظ بنانے کے لیے ایک بڑا ہنگامی حکمتِ عملی کا منصوبہ تیار کرنا شروع کر دیا ہے۔ آرامکو کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) امین ناصر نے جاپانی جریدے ‘نکی ایشیا’ (Nikkei Asia) کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں انکشاف کیا کہ کمپنی موجودہ 3 بنیادی برآمدی راہداریوں کے علاوہ اب چوتھے اور پانچویں متبادل راستے کی انجینئرنگ اور فزیبلٹی پر کام کر رہی ہے تاکہ کسی ایک سمندری راستے پر انحصار ختم کیا جا سکے۔
امین ناصر نے مزید بتایا کہ عالمی صارفین کو ایندھن کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے بیرونِ ملک خام تیل ذخیرہ کرنے کی صلاحیت (Offshore Storage Capacity) میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جس کے لیے جاپان جیسے اہم اقتصادی شراکت داروں سے بات چیت پیش رفت کے مراحل میں ہے۔ یہ دفاعی منصوبہ بندی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور سیکیورٹی خدشات کے باعث عالمی شپنگ اخراجات میں بیجا اضافہ ہوا ہے، جبکہ 17 ستمبر کو سعودی عرب کی اہم ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے 3 پمپنگ اسٹیشنوں پر بھی حملہ ہوا تھا۔ آرامکو کے سربراہ نے واضح کیا کہ کمپنی کا بنیادی مقصد عالمی سپلائی چین کو مستحکم رکھنا اور عارضی ناکابندی کے اثرات کو صفر کرنا ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ تفصیلی رپورٹ جاپانی معاشی جریدے ‘نکی ایشیا’ کو دیے گئے سی ای او آرامکو کے انٹرویو، رائٹرز (Reuters) کی بین الاقوامی انرجی رپورٹس اور مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ سیکیورٹی حالات کی روشنی میں مرتب کی گئی ہے۔
ماخذ: بزنس اینڈ انرجی ڈیسک، نکی ایشیا (Nikkei Asia) / رائٹرز (Reuters) / نیوز اینڈ نیوز ریاض۔