Latest news

ٹرمپ: شی جن پنگ سے ملاقات میں مصنوعی ذہانت بڑا موضوع ہوگی

Spread the love

محمود احمد, September 24,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 24 ستمبر 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے دوران مصنوعی ذہانت (AI) اور اس سے متعلق جدید ٹیکنالوجی دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا ایک اہم موضوع ہوگی۔

ٹرمپ نے چینی صدر سے ملاقات سے قبل اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں کہا کہ وہ شی جن پنگ کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں مصنوعی ذہانت کو اہم موضوع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے اس ٹیکنالوجی کے لیے ’’سپر انٹیلیجنس‘‘ کی اصطلاح استعمال کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔

امریکی صدر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں بھی مصنوعی ذہانت کے لیے ’’سپر انٹیلیجنس‘‘ کی اصطلاح استعمال کرنے کی بات کی تھی۔ ٹرمپ کے مطابق وہ موجودہ اصطلاح کو تبدیل کرنا پسند کریں گے، کیونکہ ان کے خیال میں ’’مصنوعی ذہانت‘‘ کا لفظ اس ٹیکنالوجی کی حقیقی صلاحیت کو پوری طرح ظاہر نہیں کرتا۔

امریکا اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت گزشتہ چند برسوں میں ٹیکنالوجی اور اسٹریٹجک مسابقت کا اہم شعبہ بن چکی ہے۔ دونوں ممالک AI ماڈلز، جدید کمپیوٹنگ، سیمی کنڈکٹرز، ڈیٹا سینٹرز اور جدید چپس سمیت مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتیں بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ٹرمپ نے گزشتہ عرصے کے دوران متعدد مواقع پر کہا ہے کہ امریکا کو مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ میں اپنی برتری برقرار رکھنی چاہیے۔ انہوں نے رواں ماہ بھی اس شعبے کو قومی اور عالمی مسابقت کا اہم میدان قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ مصنوعی ذہانت میں سبقت حاصل کرنے والا ملک نمایاں برتری حاصل کرے گا۔

چین بھی مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری بڑھا رہا ہے۔ چینی کمپنیوں نے بڑے AI ماڈلز، صنعتی روبوٹس اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اپنی موجودگی مضبوط کی ہے، جس کے باعث مصنوعی ذہانت امریکا اور چین کے وسیع تر اقتصادی و ٹیکنالوجی تعلقات کا اہم حصہ بن گئی ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی کا معاملہ تاہم صرف مصنوعی ذہانت تک محدود نہیں۔ امریکا کی جانب سے جدید سیمی کنڈکٹرز اور AI سے متعلق بعض ٹیکنالوجی کی چین کو برآمد پر پابندیاں یا محدودیاں عائد کی گئی ہیں، جبکہ بیجنگ نے بھی بعض اہم معدنیات اور ٹیکنالوجی سے متعلق برآمدی پالیسیوں میں تبدیلیاں کی ہیں۔

ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سخت نئے ضوابط کے حوالے سے بھی محتاط رویہ اختیار کیا ہے اور کہا ہے کہ ضرورت سے زیادہ قوانین امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی رفتار اور مسابقت کو متاثر کر سکتے ہیں۔

شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات میں AI پر گفتگو کی صورت میں اس کا دائرہ ٹیکنالوجی کی ترقی، عالمی معیار، جدید کمپیوٹنگ، سیمی کنڈکٹرز اور ممکنہ ضابطہ کاری تک پھیل سکتا ہے۔ تاہم ملاقات سے قبل یہ واضح نہیں کہ دونوں رہنما اس شعبے میں کسی نئے معاہدے یا مشترکہ پالیسی پر اتفاق کریں گے یا نہیں۔

امریکی اور چینی صدور کی ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب دونوں ممالک تجارت، ٹیکنالوجی اور عالمی اقتصادی اثر و رسوخ کے کئی معاملات پر مسابقت کے ساتھ ساتھ مذاکرات بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
مصنوعی ذہانت کو ’’سپر انٹیلیجنس‘‘ کہنے کی تجویز اور اسے ملاقات کا اہم موضوع قرار دینے کی بات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اپنے بیانات پر مبنی ہے۔ امریکا اور چین کے درمیان AI اور جدید ٹیکنالوجی میں مسابقت موجود ہے، تاہم دونوں صدور کی ملاقات سے قبل کسی نئے AI معاہدے یا مشترکہ فیصلے کے بارے میں حتمی دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔

ماخذ:
ٹروتھ سوشل پر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان، وائٹ ہاؤس، امریکی انتظامیہ کے بیانات، بین الاقوامی خبر رساں ادارے۔