Latest news

سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق: معلومات تک رسائی شفاف اور جوابدہ معاشرے کی بنیاد ہے

Spread the love

منصور احمد,September 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 ستمبر 2026ء

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ مستند اور بروقت معلومات تک رسائی ہر شہری کا بنیادی جمہوری حق ہے، جبکہ شفافیت، جوابدہی اور عوامی اعتماد کے فروغ کے لیے معلومات کی دستیابی ناگزیر ہے۔

معلومات تک رسائی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں سردار ایاز صادق نے کہا کہ آئینِ پاکستان شہریوں کو عوامی اہمیت کے معاملات میں معلومات تک رسائی کا حق فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق معلومات تک رسائی شفاف، جوابدہ اور باخبر معاشرے کی بنیاد ہے اور اس سے شہریوں کو باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملتی ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پارلیمان قانون سازی اور مؤثر نگرانی کے ذریعے معلومات تک رسائی کے حق کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔ درست اور بروقت معلومات اداروں کو جوابدہ بنانے اور عوامی معاملات میں شفافیت یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے معلومات تک رسائی کو پہلے سے زیادہ آسان بنا دیا ہے، تاہم جھوٹی، گمراہ کن اور غیر مصدقہ معلومات کا پھیلاؤ ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ان کے مطابق مستند معلومات کی بروقت فراہمی گمراہ کن اطلاعات کے تدارک اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

سردار ایاز صادق نے فیک نیوز کی روک تھام کے لیے سرکاری اداروں، میڈیا اور عوام کے مشترکہ کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ معلومات کی تصدیق اور ذمہ دارانہ انداز میں ان کی فراہمی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ معلومات تک رسائی عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کو مضبوط بنانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ مستند معلومات کی فراہمی جمہوری عمل، شفاف طرزِ حکمرانی اور عوامی شمولیت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی کے مطابق معلومات تک رسائی کے حق کا تحفظ اور عوام کو قابلِ اعتماد معلومات کی فراہمی ایسے معاشرے کی تشکیل میں مدد دیتی ہے جہاں شہری عوامی معاملات سے باخبر رہ سکیں اور اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لے سکیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے معلومات تک رسائی کے عالمی دن کے موقع پر جاری کردہ پیغام پر مبنی ہے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 19-A عوامی اہمیت کے معاملات میں معلومات تک رسائی کے حق سے متعلق ہے، تاہم اس حق پر قانون کے تحت معقول پابندیاں بھی لاگو ہو سکتی ہیں۔

ماخذ:
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ، پاکستان,