Latest news

احسن اقبال کا وسطی ایشیا سے جدید ریل رابطوں اور نئے تجارتی راستوں کے ذریعے پاکستان کو جوڑنے کا عزم

Spread the love

منصور احمد,September 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کو وسعت دینے، جدید ریلوے رابطے قائم کرنے اور نئے تجارتی راستے کھولنے کے ذریعے اپنی جغرافیائی حیثیت کو معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور علاقائی رابطوں کے لیے مؤثر طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔

وفاقی وزیر یہ بیان پیر کے روز سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اس وقت دیا جب وہ منگولیا کے دارالحکومت اولان باتور میں سنٹرل ایشیا ریجنل اکنامک کوآپریشن (سی اے آر ای سی) کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے پہنچے۔ ایئرپورٹ پر پہنچنے پر منگولیا کی وزارتِ معیشت کے سٹیٹ سیکرٹری بتخو ایدیش نے ان کا استقبال کیا۔

احسن اقبال کے مطابق سی اے آر ای سی اجلاس پاکستان کے لیے وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ معاشی اور تجارتی روابط کو مزید مستحکم بنانے کا اہم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد علاقائی رابطوں کے فروغ، جدید بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور نئے تجارتی راستوں کے قیام کے ذریعے خطے میں تجارت و سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانا چاہتا ہے۔

وفاقی وزیر نے پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ملک وسطی ایشیا، چین اور عالمی منڈیوں کے درمیان ایک کلیدی راہداری کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے بقول اس محلِ وقوع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے علاقائی تعاون بڑھانا اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کو ایک دوسرے سے مربوط کرنا ناگزیر ہے۔

سی اے آر ای سی پروگرام کے رکن ممالک میں پاکستان کے علاوہ افغانستان، چین، قازقستان، کرغزستان، منگولیا، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان شامل ہیں، جو علاقائی رابطوں، توانائی، ٹرانسپورٹ اور تجارت کے شعبوں میں تعاون کے لیے مشترکہ فورم کے طور پر کام کرتا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
سی اے آر ای سی اجلاس ایک سالانہ نوعیت کا علاقائی فورم ہے جس میں رکن ممالک تجارت، توانائی اور رابطہ کاری کے منصوبوں پر بات چیت کرتے ہیں۔ پاکستان طویل عرصے سے وسطی ایشیا کے ساتھ تجارتی راہداری بننے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم اس مقصد کے لیے درکار انفراسٹرکچر منصوبے مختلف مراحل میں زیرِ تکمیل ہیں۔ اس خبر میں وفاقی وزیر کے بیان کو من و عن نقل کیا گیا ہے اور کسی نئے دعوے کا اضافہ نہیں کیا گیا۔

ماخذ:
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی)؛ وفاقی وزیر احسن اقبال کا ایکس پر بیان۔