Latest news

این سی سی آئی اے راولپنڈی کا غیر قانونی کال سینٹر پر چھاپہ، 61 ملزمان گرفتار

Spread the love

کاشف عباسی , September 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 ستمبر 2026ء

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) راولپنڈی سرکل نے کمرشل مارکیٹ، سیٹلائٹ ٹاؤن میں مبینہ غیر قانونی فارن لون ریکوری اسکیم میں ملوث کال سینٹر پر چھاپہ مار کر 61 افراد کو گرفتار کر لیا۔ کارروائی کے دوران 71 موبائل فونز اور 155 لیپ ٹاپس بھی برآمد کیے گئے، جنہیں ڈیجیٹل ڈیٹا سمیت فرانزک تجزیے کے لیے قبضے میں لے لیا گیا ہے۔

این سی سی آئی اے کے ترجمان کے مطابق ادارے کو خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ راولپنڈی کے علاقے کمرشل مارکیٹ، سیٹلائٹ ٹاؤن میں ایک غیر قانونی کال سینٹر قائم ہے، جہاں سے بیرونِ ملک شہریوں کو قرضوں کی غیر قانونی وصولی کے نام پر دھمکیاں دے کر ہراساں کیا جا رہا ہے۔

اطلاع ملنے پر این سی سی آئی اے راولپنڈی سرکل نے ٹیم تشکیل دی اور متعلقہ مقام پر چھاپہ مارا۔ ترجمان کے مطابق کارروائی کے دوران 61 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، جبکہ وہاں موجود موبائل فونز اور لیپ ٹاپس کو مزید تکنیکی جانچ کے لیے تحویل میں لے لیا گیا۔

جعلی ریکوری ایجنٹ بن کر رقم بٹورنے کا الزام

این سی سی آئی اے کی ابتدائی تفتیش کے مطابق گرفتار افراد مبینہ طور پر جعلی ریکوری ایجنٹس بن کر غیر ملکی شہریوں سے رابطہ کرتے اور انہیں دھمکیاں دے کر رقوم وصول کرتے تھے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ اس سرگرمی سے متاثرہ شہریوں کو ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، جبکہ ایسے واقعات پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

ادارے کے مطابق گرفتار افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔ برآمد ہونے والے ڈیجیٹل آلات اور ان میں موجود ڈیٹا کا فرانزک تجزیہ کیا جائے گا تاکہ مبینہ سرگرمیوں، رابطوں اور مالی لین دین سے متعلق مزید شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔

سائبر فراڈ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان

ڈی جی این سی سی آئی اے سید علی ناصر رضوی نے کہا ہے کہ غیر قانونی کال سینٹرز ملک کی ساکھ اور عوام کے اعتماد کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ادارہ سائبر جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے اور غیر قانونی کال سینٹرز اور سائبر فراڈ میں ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

ڈی جی این سی سی آئی اے کے مطابق شہریوں کے تحفظ کے لیے ادارہ متحرک ہے اور عوام کو چاہیے کہ کسی بھی سائبر جرم کی اطلاع سائبر ہیلپ لائن 1799 پر دیں یا اپنے قریبی این سی سی آئی اے سرکل میں شکایت درج کروائیں۔

حکام کے مطابق جاری تحقیقات اور ڈیجیٹل فرانزک کے نتائج سے مبینہ فراڈ کے طریقہ کار اور اس میں ملوث دیگر افراد یا روابط کے بارے میں مزید معلومات سامنے آنے کی توقع ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر این سی سی آئی اے کے ترجمان کی فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہے۔ گرفتار افراد کے خلاف غیر قانونی قرضوں کی وصولی، دھمکیوں اور فراڈ میں ملوث ہونے کے الزامات تاحال زیرِ تفتیش ہیں؛ ان الزامات کو عدالت میں ثابت ہونا باقی ہے۔ برآمد شدہ آلات کے فرانزک تجزیے اور مقدمے کی مزید تفصیلات سامنے آنے کے بعد معاملے کی نوعیت واضح ہو سکے گی۔

ماخذ:
این سی سی آئی اے کے ترجمان کا بیان