Latest news

امن و امان کے لیے ترقیاتی بجٹ سے 35 ارب روپے کی کٹوتی کر کے پولیس کو دیے: سہیل آفریدی

Spread the love

کاشف عباسی , September 28,2026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 28 ستمبر 2026ء

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے امن و امان کی صورتِ حال بہتر بنانے کے لیے اپنے ترقیاتی بجٹ میں 35 ارب روپے کی کٹوتی کرکے یہ رقم پولیس کو فراہم کی۔ ان کے مطابق مالی سال 2026ء کے دوران پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے لیے بجٹ میں 103 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

پشاور میں امن و امان سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت پولیس کو جدید خطوط پر استوار کرنے، اس کی نفری اور عملی صلاحیتوں میں اضافے اور سکیورٹی اداروں کو درکار وسائل فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

سہیل آفریدی کے مطابق پولیس کی استعداد کار بہتر بنانے کے ساتھ سپیشل برانچ کو مضبوط کیا جا رہا ہے، جبکہ پولیس کو جدید اسلحہ، ضروری آلات اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور بدامنی کے مسئلے کو صرف پولیس کو مالی وسائل فراہم کرکے حل نہیں کیا جا سکتا، بلکہ وفاقی حکومت کو بھی اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنا ہوگی۔

وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ وہ 15 اکتوبر 2025ء سے مسلسل یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ گزشتہ 22 برس سے جاری پالیسی کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا میں پائیدار امن کے قیام کے لیے صوبائی حکومت، انتظامیہ، پولیس اور دیگر متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لے کر نئی پالیسی تشکیل دینا ضروری ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر ان کی تجویز کردہ پالیسی پر عمل کیا جائے تو 100 دن کے اندر صوبے میں امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، ان کے بقول صوبے کے متعلقہ فریقوں کی رائے سننے کے لیے مطلوبہ آمادگی نہیں دکھائی جا رہی۔

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی مرضی اور عوامی مینڈیٹ کے برخلاف کوئی اقدام قابل قبول نہیں ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی دھمکیوں کے باوجود وہ اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا میں پولیس کی استعداد کار، جدید آلات اور امن و امان کے لیے مالی وسائل کی فراہمی صوبائی حکومت کے اہم امور میں شامل ہیں۔ رواں مالی سال کے بجٹ میں بھی پولیس اور امن و امان کے شعبے کے لیے خطیر رقم مختص کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

وزیراعلیٰ کی جانب سے ترقیاتی بجٹ میں 35 ارب روپے کی کٹوتی، پولیس بجٹ میں 103 فیصد اضافے اور 100 دن میں امن قائم کرنے کے بیانات ان کے اپنے دعوے ہیں۔ 100 دن میں امن کے قیام کے دعوے کی آزادانہ تصدیق یا اس کی ضمانت دستیاب معلومات سے نہیں ہوتی۔ پائیدار امن کے لیے پولیس کی استعداد کار کے ساتھ پالیسی، انتظامی اور دیگر متعلقہ عوامل بھی اہم ہیں۔

ماخذ: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیان پر مبنی فراہم کردہ خبر