
منصور احمد,September 29,2026
سلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 29 ستمبر 2026ء
وفاقی آئینی عدالت نے نیشنل بینک آف پاکستان کے دو سابق ملازمین عقیل عباس اور عثمان شاہد کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کام کی جگہ پر ہر نامناسب، ناپسندیدہ یا نقصان دہ رویے کو جنسی ہراسگی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت کے مطابق کام کی جگہ پر خواتین کو ہراسانی سے تحفظ دینے کے قانون کے تحت کارروائی کے لیے شکایت میں جنسی عنصر کا موجود ہونا ضروری ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے مقدمے کی سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ بھی شامل تھے۔
عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا 31 دسمبر 2024ء کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے صدرِ مملکت کی جانب سے پہلے جاری کیا گیا حکم بحال کر دیا۔ وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا کہ تحفظِ خواتین بمقابلہ ہراسگی قانون 2010ء ہر قسم کے نامناسب رویے یا عمومی شکایت پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔
جنسی ہراسگی اور عمومی بدسلوکی میں فرق
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ جنسی ہراسگی ایک قابلِ کارروائی جرم ہے، تاہم ہر ناپسندیدہ یا نقصان دہ رویہ اس قانونی تعریف میں شامل نہیں ہوتا۔ اگر کسی شکایت میں جنسی عنصر موجود نہ ہو تو وفاقی محتسب اس قانون کے تحت کارروائی کا مجاز نہیں ہوگا۔
عدالت کے مطابق اس کا مطلب یہ نہیں کہ کام کی جگہ پر بدسلوکی یا نامناسب رویے کو نظرانداز کیا جائے۔ متعلقہ ادارہ اپنے سروس رولز اور داخلی ضابطوں کے تحت ایسے واقعات پر تادیبی کارروائی کر سکتا ہے۔
فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ 2010ء کے قانون کا مقصد خواتین اور مردوں دونوں کو کام کی جگہ پر جنسی ہراسگی سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ عدالت نے کہا کہ قانون کو اس کے مخصوص مقصد اور دائرۂ کار کے مطابق ہی استعمال کیا جانا چاہیے۔
مقدمے کا پس منظر
یہ مقدمہ نیشنل بینک کی ملازمہ نادیہ سرور کی شکایت سے متعلق تھا، جنہوں نے عقیل عباس اور عثمان شاہد کے خلاف وفاقی محتسب سے رجوع کیا تھا۔ محتسب نے شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے دونوں ملازمین کے خلاف ملازمت سے برطرفی کی سزا عائد کی تھی۔
دونوں ملازمین نے صدرِ مملکت کے سامنے اپیلیں دائر کیں۔ صدرِ مملکت نے ان کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے برطرفی کی سزا تبدیل کر کے سرزنش کی سزا مقرر کی تھی۔
بعد ازاں نادیہ سرور نے صدرِ مملکت کے حکم کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ ہائی کورٹ نے 31 دسمبر 2024ء کو صدرِ مملکت کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے وفاقی محتسب کا فیصلہ بحال کر دیا تھا۔
عقیل عباس اور عثمان شاہد نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا، جس نے اب ان کی اپیلیں منظور کر لی ہیں۔
وفاقی آئینی عدالت نے مزید قرار دیا کہ ہائی کورٹ وفاقی محتسب کے فیصلوں میں آئینی دائرۂ اختیار کے تحت صرف محدود قانونی بنیادوں پر مداخلت کر سکتی ہے، مثلاً اختیار سے تجاوز، قانون کی خلاف ورزی یا شواہد کے غلط جائزے کی صورت میں۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
عدالت کا فیصلہ کام کی جگہ پر جنسی ہراسگی کے قانون کے دائرۂ اطلاق سے متعلق ہے۔ اس سے عمومی بدسلوکی یا غیر مناسب رویے کے خلاف ادارہ جاتی کارروائی کا اختیار ختم نہیں ہوتا۔ مقدمے میں شکایت کنندہ کے الزامات اور عدالت کی قانونی تشریح کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔
ماخذ: وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے سے متعلق دستیاب رپورٹنگ