
کاشف عباسی , September30,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 ستمبر 2026ء —
سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ اگر کسی فوجداری مقدمے میں ملزم ایک سال سے زائد عرصے سے زیر حراست ہو اور مقدمے کی کارروائی میں تاخیر ملزم یا اس کی جانب سے کسی شخص کے فعل یا کوتاہی کے باعث نہ ہوئی ہو تو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497(1) کے تیسرے پرووائزو کے تحت اسے ضمانت دینا قانونی تقاضا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ زیرِ سماعت قیدی کو ہر تاریخ پر عدالت کے سامنے پیش کرنا استغاثہ کی ذمہ داری ہے۔ جیل حکام کی جانب سے ملزم کو عدالت میں پیش نہ کیے جانے کے باعث ہونے والی تاخیر کا ذمہ دار ملزم کو قرار نہیں دیا جا سکتا۔
جسٹس عقیل احمد عباسی کی جانب سے تحریر کردہ تفصیلی فیصلے کے مطابق جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے چیک ڈس آنر کیس میں چوہدری شہزیب شمیم کی ضمانت سے متعلق درخواست منظور کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ اور ٹرائل کورٹ کے احکامات کالعدم قرار دے دیے۔
سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ ملزم یا اس کے وکیل نے کسی موقع پر مقدمے میں التوا کی درخواست نہیں کی۔ عدالتی ریکارڈ سے ظاہر ہوا کہ مقدمہ زیادہ تر اس وجہ سے زیر التوا رہا کہ ملزم کو جیل سے عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔
ٹرائل کورٹ نے 13 اپریل 2026ء کو ملزم کی پیشی کے لیے پروڈکشن وارنٹ بھی جاری کیے تھے، تاہم عدالتی حکم کے باوجود اسے پیش نہیں کیا گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ نے ڈیڑھ سال سے زائد عرصے کے دوران نہ تو ملزم کی عدالت میں پیشی یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے اور نہ ہی اپنے گواہوں کو عدالت میں پیش کیا، اس لیے مقدمے میں ہونے والی تاخیر ملزم کے کھاتے میں نہیں ڈالی جا سکتی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ دفعہ 497(1) کے تیسرے پرووائزو کے تحت ایسے شخص کو ضمانت دی جانی چاہیے جو ایسے جرم میں گرفتار ہو جس کی سزا موت نہیں اور وہ مسلسل ایک سال سے زائد عرصے سے زیر حراست ہو، بشرطیکہ مقدمے میں تاخیر ملزم یا اس کی جانب سے کسی شخص کے فعل یا کوتاہی کے باعث نہ ہوئی ہو۔
سپریم کورٹ نے مزید قرار دیا کہ ملزم کا دیگر مقدمات میں ملوث ہونا محض اس بنیاد پر اسے قانونی تاخیر کی بنیاد پر ضمانت کے حق سے محروم کرنے کے لیے کافی نہیں، خصوصاً ایسے جرم میں جو دفعہ 497(1) کے ممنوعہ زمرے میں شامل نہ ہو۔ عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس مؤقف کو بھی قانون کے منافی قرار دیا کہ دیگر مقدمات میں ملوث ہونے کی وجہ سے ملزم قانونی تاخیر کی بنیاد پر ضمانت کا مستحق نہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ محض اسی نوعیت کے دیگر مقدمات میں ملوث ہونا بذاتِ خود ضمانت سے محرومی کی بنیاد نہیں بن سکتا۔
مقدمے کا تعلق سہالہ پولیس اسٹیشن اسلام آباد میں 5 اپریل 2025ء کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 489-F کے تحت درج ایف آئی آر سے تھا۔ الزام تھا کہ ملزم نے ایک کروڑ روپے کا چیک جاری کیا جو بینک میں پیش کیے جانے پر ادائیگی روکنے کے باعث ڈس آنر ہوگیا۔
سپریم کورٹ کے مطابق دفعہ 489-F کے تحت جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا تین سال قید، جرمانہ یا دونوں ہے، جبکہ ملزم اس مقدمے میں ڈیڑھ سال سے زائد عرصے سے زیر حراست رہ چکا تھا اور اس کے باوجود مقدمے کا ٹرائل شروع نہیں ہوسکا۔
سپریم کورٹ نے چوہدری شہزیب شمیم کی درخواست کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کرلیا اور ٹرائل کورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے متعلقہ احکامات کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے قانونی تاخیر کی بنیاد پر ضمانت پر رہا کرنے کا حکم برقرار رکھا۔
فیصلے میں سپریم کورٹ کے سابقہ عدالتی فیصلوں علی انور پراچہ بنام ریاست و دیگر، محمد رفیق بنام ریاست، سید عائشہ سبحانی بنام ریاست و دیگر اور مہر ان بنام عبیداللہ کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
ضابطہ فوجداری کی جانچ پڑتال 497(1) کا تیسرا پرووائز ان کے حق کے لیے ضمانت کا قانونی حق ہے جو موت کی سزا کے زمرے میں نہ ہونے والے مریض میں ایک سال سے لمبی نیچے کے نیچے، بشرطی کہتا ہوں کہ ان کی کوتاہی نہ ہو۔ یہ خبر مکمل طور پر جاری کی گئی تحریری پر مبنی ہے۔
ماخذ: سپریم کورٹ آف پاکستان / نیوز اینڈ نیوز اسلام آباد۔