

منصور احمد,October09,2026
تہران / خلیج فارس (نیوز اینڈ نیوز) — 9 اکتوبر 2026ء
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحری فورس نے آبنائے ہرمز کے جنوب میں ایک بڑے مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) بردار جہاز کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں جہاز کے انجن روم اور پیشرانی نظام کے قریب شدید آگ بھڑک اٹھی۔ ایرانی حکام کے مطابق جہاز کا نام ’’این وی سن شائن‘‘ ہے۔
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ جہاز ایک ’’غیر مجاز راستے‘‘ سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا، جس پر کارروائی کی گئی۔ ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ آگ نے جہاز کے اہم حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی نگرانی اور وہاں بحری آمدورفت کے انتظام کی ذمہ داری اس کی بحری فورس کے پاس ہے۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ خطے میں اس کے بقول ’’جارح قوتوں‘‘ کی موجودگی یا مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی اور بحری راستے کے انتظامی نظام کو متاثر کرنے کی کوشش کا سخت جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ادارے نے اطلاع دی کہ متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب ایک تجارتی جہاز نامعلوم گولے یا میزائل کی زد میں آیا، جس کے بعد اس میں آگ لگ گئی۔ ادارے کے مطابق آگ پر بعد میں قابو پا لیا گیا۔
تاہم دستیاب معلومات سے یہ واضح نہیں کہ یو اے ای کے قریب پیش آنے والا واقعہ اسی جہاز سے متعلق تھا جس کا ذکر ایرانی بیان میں کیا گیا، یا دونوں الگ واقعات تھے۔ جہاز کو پہنچنے والے نقصان کی مکمل نوعیت اور عملے کی صورتحال سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کردہ رپورٹ میں موجود نہیں۔
پاسدارانِ انقلاب نے اپنے ایک دوسرے بیان میں خبردار کیا کہ مستقبل میں اس کی کارروائیاں صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہیں گی۔ ایرانی حکام کے مطابق ایسے جہاز جو ان کے بقول غیر مجاز راستے اختیار کریں گے یا امریکی اقدامات کی حمایت کریں گے، خطے کے دیگر سمندری راستوں پر بھی نگرانی اور تعاقب کا سامنا کر سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے، جہاں سے تیل اور گیس لے جانے والے متعدد جہاز گزرتے ہیں۔ اس خطے میں کسی بھی بحری حملے یا آمدورفت میں رکاوٹ سے تجارتی جہازرانی اور توانائی کی عالمی رسد کے بارے میں خدشات بڑھ سکتے ہیں۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
جہاز کو نشانہ بنانے سے متعلق تفصیلات ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے دعوے کے طور پر بیان کی گئی ہیں۔ یو اے ای کے ساحل کے قریب پیش آنے والے واقعے کا اس دعوے سے تعلق، حملے کے ذمہ دار فریق اور جہاز کو پہنچنے والے نقصان کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ معلومات سے نہیں ہوتی۔
ماخذ: ایرانی خبر رساں ادارہ تسنیم، یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO)، فراہم کردہ رپورٹ