

منصور احمد,October14,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 اکتوبر 2026ء
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت اور اپوزیشن پر زور دیا ہے کہ قومی مسائل کے حل اور ملکی مفاد کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے اور سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جن سے کشیدگی بڑھے اور حالات اس نہج پر پہنچیں کہ ایمرجنسی نافذ کرنے کی ضرورت پیش آئے۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ سیاسی گنجائش پیدا کرنا اور فیصلے اتفاقِ رائے سے کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی اور صدرِ پاکستان کا مؤقف یہ رہا ہے کہ کسی بڑے آئینی اقدام سے پہلے پاکستان تحریکِ انصاف اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں اور وفاقی حکومت کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کی جائے۔
انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے دو نمائندے بھی مذاکراتی کمیٹی کا حصہ تھے اور اپوزیشن سے رابطوں کے ذریعے اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ بلاول بھٹو کے مطابق ابتدا میں ماضی کے تجربات کی بنیاد پر مذاکرات کی کامیابی کے امکانات محدود دکھائی دیتے تھے، تاہم بعد میں انہیں اطلاعات ملیں کہ بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے اور پی ٹی آئی سمیت اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ کسی مفاہمت کا امکان پیدا ہو رہا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ اگر سیاسی ماحول بہتر ہو جائے اور ایسے حالات پیدا ہو جائیں جن میں ایمرجنسی کی ضرورت باقی نہ رہے تو وہ خود قومی اسمبلی میں وزیراعظم سے ایمرجنسی ختم کرنے کی درخواست کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے بھی اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کے لیے رابطے کیے تاکہ موجودہ صورتِ حال کا حل سیاسی طریقے سے نکالا جا سکے۔
خیبر پختونخوا کی صورتِ حال پر پیپلز پارٹی کا مؤقف
بلاول بھٹو زرداری نے صوبے کی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف کو موجودہ سیاسی اور آئینی بحران کا ذمہ دار قرار دیا۔ ان کے بقول، صوبہ سنگین سکیورٹی چیلنجز سے گزر رہا ہے اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون نہ کرنے کا اعلان کیا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ وفاقی حکومت دہشت گردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور ضرورت پڑنے پر تنہا بھی کارروائی کرے گی۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ پاکستان دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ماضی کی طرح آئندہ بھی کارروائیاں جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھنا چاہیے اور دہشت گردی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کے درمیان تعاون ضروری ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ پاکستان کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ تمام شہریوں کا مشترکہ ملک ہے۔ ان کے مطابق قومی سلامتی اور دہشت گردی کے معاملے پر حکومت، اپوزیشن اور دیگر سیاسی قوتوں کے درمیان وسیع اتفاقِ رائے وقت کی اہم ضرورت ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: بلاول بھٹو زرداری نے مذاکرات اور سیاسی اتفاقِ رائے کی حمایت کے ساتھ خیبر پختونخوا کی صورتِ حال پر پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ وزیراعلیٰ اور پی ٹی آئی سے متعلق الزامات ان کے سیاسی مؤقف کے طور پر پیش کیے گئے ہیں؛ ان کی آزادانہ تصدیق اس خبر میں نہیں کی گئی۔
ماخذ: قومی اسمبلی میں بلاول بھٹو زرداری کا خطاب،