

منصور احمد,October14,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 اکتوبر 2026ء
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور صوبائی حکومت کو غیرفعال کرنے کے حکومتی اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوری نظام میں منتخب حکومت کو اس طرح ہٹانا درست نہیں۔ انہوں نے اس اقدام کو صوبائی خودمختاری اور جمہوری عمل کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ان کے بقول حکومت نے آئین کی دفعہ 58 ٹو بی جیسا طریقۂ کار دوبارہ متعارف کرانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اس اقدام کی مذمت کرتی ہے اور آئندہ بھی اس پر اپنا احتجاج جاری رکھے گی۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے جمہوریت اور صوبائی خودمختاری متاثر ہوں گی۔ انہوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ اس طرح کے اقدامات سے دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیے اور مشترکہ کوششوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے سوال اٹھایا کہ اگر حالات کی بنیاد پر ایمرجنسی نافذ کرنا ضروری سمجھا جا رہا ہے تو پھر کچے کے علاقوں میں بھی اسی نوعیت کے اقدامات کیے جانے چاہییں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے فیصلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ جمہوری اصولوں اور صوبائی اختیارات کو مناسب اہمیت نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے مطابق خیبر پختونخوا میں پہلے ہی صوبائی حکومت کے اختیارات محدود کیے جا چکے تھے اور موجودہ اقدام سے صوبائی حکومت کا کردار مزید رسمی رہ جانے کا خدشہ ہے۔ بیرسٹر گوہر نے پنجاب میں نشستوں اور سیاسی نمائندگی کا حوالہ دیتے ہوئے بھی حکومتی پالیسی پر اعتراض کیا۔
انہوں نے ماضی میں سندھ اور پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی کے معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی کے تحفظات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی اختیارات اور وفاقی اقدامات سے متعلق سوالات پہلے بھی سیاسی بحث کا حصہ رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق حکومتی اقدامات پر قومی اسمبلی میں بھی بحث جاری ہے۔ وفاقی حکومت نے اپنے مؤقف میں صوبے کی سکیورٹی صورتِ حال اور سرحد پار دراندازی کو اہم وجوہات قرار دیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی اس فیصلے کو جمہوری اور صوبائی خودمختاری کے تناظر میں چیلنج کر رہی ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: بیرسٹر گوہر کے بیانات پی ٹی آئی کے سیاسی مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں۔ دوسری جانب وفاقی حکومت ایمرجنسی کے اقدام کو سکیورٹی صورتِ حال سے جوڑتی ہے؛ اس معاملے کی آئینی حیثیت اور اثرات کا تعین متعلقہ قانونی و پارلیمانی کارروائی سے ہوگا۔
ماخذ: پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر بیرسٹر گوہر سے منسوب میڈیا گفتگو، فراہم کردہ خبر