پاکستانی اخبارات میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کی کوریج محدود اور واقعاتی ہے: علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی تحقیقی رپورٹ

کاشف عباسی , August 16,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اگست 2026ء

پاکستان کے قومی اخبارات میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے باعث آنے والے سیلاب اور اس کے تباہ کن اثرات کی کوریج زیادہ تر واقعاتی اور محدود نوعیت کی رہی ہے، جبکہ تقریباً ستتر فیصد خبریں صرف مسئلے کی نشاندہی تک محدود رہیں اور قبل از وقت تیاری، ابتدائی انتباہی نظام، موسمیاتی موافقت اور طویل المدتی لچک جیسے اہم حل پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ یہ اہم انکشافات علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغِ عامہ کے ریسرچ اسکالر محمد سلیم شیخ کی نئی تحقیقی رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جو انہوں نے پروفیسر ڈاکٹر ثاقب ریاض کی نگرانی میں مکمل کی۔ اس تحقیق میں سال دو ہزار تئیس اور دو ہزار چوبیس کے دوران شائع ہونے والے دو سو سات مضامین، خبروں اور اداریوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔

تحقیق کے مطابق انگریزی اخبارات نے اردو اخبارات کے مقابلے میں زیادہ تفصیلی کوریج دی، تاہم یہ خبریں شاذ و نادر ہی صفحہ اول پر نمایاں ہوئیں۔ کوریج میں فوری نقصانات اور معاشی اثرات کو زیادہ ترجیح دی گئی جبکہ پالیسی اقدامات اور طویل المدتی حکمت عملی کو نظر انداز کیا گیا۔ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے ڈائریکٹر جنرل محمد آصف صاحبزادہ کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے تقریباً بیس لاکھ افراد کو اس مسئلے سے مسلسل خطرات درپیش ہیں، جس کے لیے میڈیا کا باقاعدہ اور باخبر نقشِ راہ انتہائی ضروری ہے۔ ماہرین نے سفارش کی ہے کہ صحافیوں کی خصوصی تربیت اور موسمیاتی ماہرین کے ساتھ میڈیا کے قریبی تعاون کے ذریعے حل پر مبنی کوریج کو یقینی بنایا جائے۔

سزائے موت کے مقدمات میں “سپر ڈیو پراسس” کا معیار ضروری ہے، سپریم کورٹ کا اہم تحریری فیصلہ جاری

کاشف عباسی , August 16,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اگست 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ سزائے موت کے حساس مقدمات میں انصاف کی فراہمی کے دوران معمول سے بڑھ کر “سپر ڈیو پراسس” کے تمام آئینی اور قانونی تقاضے پورے کرنا انتہائی لازمی ہیں۔ عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا کہ کسی بھی ملزم کو سنے بغیر سزا دینا یا اس کی نظرثانی درخواست مسترد کرنا اصولِ فطری انصاف، منصفانہ ٹرائل اور آئینی ضمانتوں کی صریح خلاف ورزی ہے، جبکہ انتظامی ہدایات یا فل کورٹ کے انتظامی فیصلے آئین اور قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتے۔

جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی سربراہی میں جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل تین رکنی بینچ نے ملزم شیر اعظم کی فوجداری نظرثانی درخواست کا تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کیا۔ سپریم کورٹ نے 26 اپریل 2012 کا وہ سابقہ حکم کالعدم قرار دے دیا جس کے ذریعے شیر اعظم کی پہلی نظرثانی درخواست ملزم اور اس کے وکیل کا موقف سنے بغیر چیمبر میں مسترد کی گئی تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ رولز میں ایسی کوئی شق موجود نہیں کہ سزائے موت پانے والے کی درخواست سنے بغیر مسترد کی جائے، لہٰذا سابقہ غیر قانونی حکم کے بعد دائر درخواست کو دوسری نظرثانی قرار دے کر ناقابلِ سماعت نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

جسٹس شکیل احمد نے اپنے اضافی نوٹ میں تحریر کیا کہ سزائے موت ایک ناقابلِ واپسی سزا ہے، اس لیے ایسے مقدمات میں آئین کے آرٹیکل 4، 9 اور 10 کے تحت طریقہ کار کی شفافیت محض رسمی معاملہ نہیں بلکہ بنیادی آئینی حق ہے۔ مقدمے کے حقائق کا جائزہ لیتے ہوئے عدالت نے قرار دیا کہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302(ب) کے تحت تھانہ غازی (ہری پور) کے مقدمے میں قتل کا واضح محرک ثابت نہیں ہوا تھا اور نہ ہی کوئی چشم دید گواہ موجود تھا۔ سپریم کورٹ نے نظرثانی درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے شیر اعظم کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا جبکہ دو لاکھ روپے معاوضے اور دیگر سزاؤں کے احکامات برقرار رکھے۔

اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایف آئی اے کی کارروائی، جعلی ویزے پر یورپ جانے کی کوشش ناکام

منصور احمد, August 16,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اگست 2026ء

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے نیدرلینڈز کا جعلی وزٹ ویزا استعمال کر کے یورپ جانے کی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق سوات سے تعلق رکھنے والے ایک مسافر کو سعودی عرب جانے والی پرواز سے آف لوڈ کر کے حراست میں لے لیا گیا ہے، جو سعودیہ کو یورپ پہنچنے کے لیے بطور ٹرانزٹ پوائنٹ استعمال کرنے کی مشتبہ کوشش کر رہا تھا۔

ایف آئی اے کے ترجمان نے بتایا کہ مسافر کو نجی ایئر لائن کی پرواز سے سعودی عرب روانگی کے وقت ثانوی پروفائلنگ اور چیکنگ کے عمل کے دوران روکا گیا۔ تفصیلی اور فنی جانچ پڑتال کے دوران معلوم ہوا کہ مسافر کے پاسپورٹ کے صفحہ نمبر اٹھارہ پر چسپاں ہالینڈ (نیدرلینڈز) کا وزٹ ویزا مکمل طور پر جعلی اور بوگس تھا۔ اس انکشاف کے بعد انسانی سمگلنگ اور جعل سازی کرنے والے منظم نیٹ ورک سے مسافر کے براہِ راست روابط کا شدید شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔

مسافر کی ماضی کی سفری تاریخ کا جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ وہ اس سے قبل ملائیشیا، تھائی لینڈ اور سعودی عرب سمیت مختلف ممالک کے متعدد اسفار کر چکا ہے۔ ایف آئی اے انتظامیہ نے مسافر کو پرواز سے اتار کر اس کا موبائل فون قبضہ میں لے لیا ہے اور مزید قانونی کارروائی اور تفتیش کے لیے اسے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد منتقل کر دیا گیا ہے۔ تفتیش کار موبائل فون کے ڈیجیٹل شواہد کا فرانزک معائنہ کر رہے ہیں تاکہ اس جعل سازی میں ملوث ٹوئٹ، ایجنٹوں اور سہولت کاروں کی نشاندہی کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں اکثریتی جماعت نہیں، ن لیگ پر دھاندلی کا الزام افسوسناک ہے: مریم نواز شریف

کاشف عباسی , August 15,2026

مری (نیوز اینڈ نیوز) — 15 اگست 2026ء

وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں اکثریتی جماعت نہیں ہے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ اس کے باوجود مسلم لیگ (ن) پر دھاندلی کے بے بنیاد الزامات عائد کیے گئے۔ مری میں آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں دنگا فساد اور منفی سیاست کرنے والوں کو عوام نے اپنے ووٹ کی طاقت سے رد کر دیا ہے۔ شرپسند عناصر پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے درمیان دراڑیں ڈالنا چاہتے ہیں، لیکن ایسے عناصر کے لیے صرف شکست فاش ہے۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ کشمیری عوام بخوبی جانتے ہیں کہ وفاق اور پنجاب میں عوامی فلاح و بہبود کے لیے کیا کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں سڑکوں اور بسوں کی سہولیات کا وعدہ تک نہیں کر سکی، کیونکہ جہاں ان کی 17 سال سے حکومت ہے وہاں وہ کچھ نچلا کام نہیں کر سکے۔

سیاسی مخالفت کو دشمنی میں تبدیل نہ کیا جائے: میاں نواز شریف

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ سیاست میں نظریاتی مخالفت ہوتی ہے، لیکن اس مخالفت کو اتنی حد تک نہیں بڑھنا چاہیے کہ وہ ذاتی دشمنی میں تبدیل ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ اچھا سلوک کیا ہے۔ آزاد کشمیر کا سیاسی ماحول ہمیشہ افہام و تفہیم، رواداری اور باہمی احترام پر مبنی رہا ہے، اور اگر اس کے اندر دشمنی کے جراثیم داخل ہو جائیں تو یہ کسی صورت اچھی بات نہیں ہے۔

نواز شریف نے زور دے کر کہا کہ آزاد کشمیر کی ترقی کے لیے زیادہ سے زیادہ فنڈز فراہم کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے ابتدائی دو مرحلوں میں ن لیگ کو کامیابی ملی ہے اور عوام نے ایک بار پھر پارٹی کی قیادت اور کارکردگی پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے، تاہم ہمیں اپنے اچھے امیدواروں کی شکست کے عوامل کا بھی باریک بینی سے جائزہ لینا ہوگا۔

قائد ن لیگ نے کہا کہ اگر پارٹی نے عوام کی توقعات کے مطابق کام نہ کیا تو یہاں کے لوگ ناراض ہوں گے۔ آزاد کشمیر میں معياری سڑکیں، جدید ہسپتال اور تعلیمی سہولیات فراہم ہونی چاہئیں، کیونکہ آزاد کشمیر کا ہر بچہ بھی چاہتا ہے کہ اس کے ہاتھ میں جدید لیپ ٹاپ ہو۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی دن رات کی محنت سے ملک معاشی اور انتظامی طور پر آگے بڑھ رہا ہے۔

ماہِ ربیع الاول کی آمد پر چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا پیغام: امتِ مسلمہ کو مبارکباد، سیرتِ طیبہ ﷺ پر عمل پیرا ہونے کی تاکید

منصور احمد, August 15,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 15 اگست 2026ء

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے ماہِ ربیع الاول کی آمد کے بابرکت موقع پر پوری امتِ مسلمہ اور بالخصوص پاکستانی قوم کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ماہِ مقدس نبی کریم حضرت محمد مصطفٰے ﷺ کی ولادتِ باسعادت کا مہینہ ہے، جو پوری انسانیت کے لیے ہدایت، رحمت، امن اور رواداری کا پیغام لے کر آیا۔

ہفتے کے روز جاری کردہ اپنے خصوصی پیغام میں چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ سیرتِ طیبہ ﷺ زندگی کے ہر شعبے میں کامل رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ آپ ﷺ نے انسانیت کو عدل و انصاف، مساوات، صبر، بھائی چارے اور حقوق العباد کے احترام کا درس دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ ربیع الاول کا مہینہ ہمیں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کو اسوہ حسنہ کے سانچے میں ڈھالنے کے عہد کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔

سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ امتِ مسلمہ کو درپیش موجودہ چیلنجز کا واحد حل اتحاد، باہمی احترام، اور افہام و تفہیم پر مبنی حکمتِ عملی میں مضمر ہے۔ انہوں نے قوم پر زور دیا کہ اس مبارک مہینے میں غریب، نادار اور مستحق افراد کو اپنی خوشیوں میں شامل کریں۔ چیئرمین سینیٹ نے ملکی دفاع اور سلامتی کے لیے قربانیاں دینے والے شہدائے وطن کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی کی دعا کی اور التجا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو درپیش بحرانوں سے نجات اور پائیدار امن و خوشحالی عطا فرمائے۔

حکومت کے خلاف بلاجواز پروپیگنڈا بند کیا جائے، پی ٹی آئی غلط معلومات پھیلانے کے بجائے مذاکرات کرے: وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری

منصور احمد, August 15,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 15 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اس کے خلاف مسلسل بلاجواز پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، جو ملکی جمہوریت اور سیاسی ماحول کے لیے کسی طور مناسب نہیں۔

ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر زور دیا کہ وہ بے بنیاد اور غلط معلومات پھیلانے کی سیاست ترک کر کے قومی مفاد کے اہم امور پر حکومت کے ساتھ سنجیدہ اور معنی خیز مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ منفی طرزِ عمل اور محاذ آرائی سے موجودہ سیاسی ماحول مزید پیچیدہ ہوگا، جبکہ درپیش قومی چیلنجز کے حل کے لیے سنجیدہ بات چیت ہی واحد حل ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے واضح کیا کہ جمہوری نظام کو غیر مستحکم کرنے یا مفلوج کرنے کی کوششوں سے کسی بھی فریق کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ملک کا وفاقی دارالحکومت ہے اور یہاں آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کسی کو بھی اپنی قانونی و سیاسی سرگرمیاں انجام دینے سے نہیں روکا جاتا۔ تاہم، سیاسی فائدے کے لیے معاشرے میں بے چینی، نفرت اور انارکی پھیلانا بلاشبہ ناقابلِ قبول اور ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔

آبادی میں اضافے کے باعث نئے صوبوں کا قیام وقت کی اہم ترین ضرورت ہے: صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان کا بیان

منصور احمد, August 15,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 15 اگست 2026ء

استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے صدر عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی بے تحاشا آبادی کے پیشِ نظر انتظامی امور کی بہتری اور عوام کے مسائل کے فوری حل کے لیے نئے صوبوں کی تشکیل وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکی ہے۔

آئی پی پی کی جانب سے ہفتے کے روز جاری کردہ ایک اہم بیان میں عبدالعلیم خان نے خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ میں نئے صوبوں کے قائم کرنے کے مطالبے کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں سال 2010ء سے علیحدہ ‘ہزارہ صوبے’ کے لیے مسلسل آوازیں بلند ہو رہی ہیں، اور یہ انتہائی خوش آئند بات ہے کہ صوبے کی تمام اہم سیاسی جماعتیں اب ہزارہ صوبے کے قیام پر متفق نظر آ رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ استحکام پاکستان پارٹی ہزارہ صوبے کے تمام جائز مطالبات کے ساتھ مکمل طور پر کھڑی ہے۔

صدر آئی پی پی نے جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبے کی بحالی و قیام کی بھی پرزور وکالت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب اور سندھ جیسے گنجان آباد صوبوں میں نئے انتظامی یونٹس بنانا عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ عبدالعلیم خان نے زور دے کر کہا کہ نئے صوبوں کی تشکیل ایک اہم ترین قومی مسئلہ ہے، جسے کسی قسم کی سیاسی مصلحت، تاخیری حربوں یا ذات پات کی سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کے کئی ممالک ایسے ہیں جن کی کل آبادی پاکستان سے کہیں کم ہے لیکن بہتر انتظامی کنٹرول کے لیے وہاں پاکستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ صوبے اور انتظامی یونٹس موجود ہیں۔ عبدالعلیم خان نے اعادہ کیا کہ قومی و ملکی مفاد میں آنے والی کسی بھی مثبت تجویز کا تمام تر سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر خیر مقدم کیا جائے گا اور ان کی پارٹی ہر آئینی و سیاسی فورم پر نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔

پاکستان کو فارماسیوٹیکل صنعت کا عالمی مرکز بنانا ہمارا ہدف ہے: وفاقی وزیر احسن اقبال کا ‘اڑان پاکستان’ گول میز کانفرنس سے خطاب

منصور احمد, August 14,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو فارماسیوٹیکل صنعت کا عالمی مرکز بنانا حکومت کا اہم ہدف ہے، اور فارماسیوٹیکل انڈسٹری کو 2035ء تک ملکی برآمدات کو 100 ارب ڈالر سے زائد تک لے جانے کے قومی ہدف میں اپنا فعال حصہ متعین کرنا ہوگا۔

‘اڑان پاکستان’ کے تحت فارماسیوٹیکل برآمدات میں سہولت سے متعلق منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کی گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی فارما برآمدات 20 سال کی بلند ترین سطح یعنی 457 ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، تاہم اب ہمیں معمولی اضافے سے آگے بڑھ کر اس شعبے کو اربوں ڈالر کی صنعت میں تبدیل کرنا ہوگا۔

پروفیسر احسن اقبال نے فارماسیوٹیکل انڈسٹری پر زور دیا کہ وہ تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ ایک ماہ کی مشاورت کے بعد سال 2030ء اور اس کے بعد کا جامع روڈ میپ تیار کر کے حکومت کے سامنے پیش کرے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت پالیسی اور ادارہ جاتی رکاوٹوں کو دور کرنے اور عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنے کے لیے مکمل تعاون کرے گی۔

وفاقی وزیر نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ پاکستان میں فارماسیوٹیکل خام مال کا تقریباً 85 فیصد حصہ باہر سے درآمد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ ملک کو درآمدی انحصار کم کر کے مقامی پیداواری صلاحیت کو مضبوط بنانا ہوگا۔ انہوں نے ریسرچ لیبارٹریز کو صرف مقالوں تک محدود رکھنے کے بجائے عملی تحقیق اور جدت پر توجہ دینے کی ہدایت کی تاکہ “میڈ ان پاکستان” کی برانڈنگ کو عالمی سطح پر معیار اور اعتماد کی علامت بنایا جا سکے۔

پاک چین دوستی ایک دیرپا اور لازوال بھائی چارے کا تعلق ہے: اسلام آباد سیمینار میں چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کا خطاب، صدر مملکت کا خصوصی پیغام بھی پیش

کاشف عباسی , August 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 اگست 2026ء

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی ایک دیرپا اور لازوال بھائی چارے کا تعلق ہے، جو باہمی اعتماد، احترام اور غیر متزلزل حمایت پر استوار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس تاریخی دوستی کو پاکستان بھر میں تمام سیاسی جماعتوں کی مکمل حمایت حاصل ہے جو کہ ایک مضبوط قومی اتفاقِ رائے کی عکاس ہے۔

اسلام آباد میں منعقدہ ایک اہم سیمینار سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ اس تقریب میں چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ، کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (CPC) کے مرکزی وفد، پاکستانی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اور ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔ سیمینار کے آغاز میں چیئرمین سینیٹ نے صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا خصوصی پیغام بھی پڑھ کر سنایا، جس میں صدر نے چینی وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاک چین دوستی وقت کی ہر آزمائش پر پورا اتری ہے اور دونوں ممالک کے باہمی مفادات کو فروغ دے رہی ہے۔

اپنے خطاب میں چیئرمین سینیٹ نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے قیام کی 105ویں سالگرہ پر چینی قیادت اور عوام کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ چین کی غیر معمولی ترقی، غربت کے خاتمے اور جدید طرزِ حکمرانی کے تجربات ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک روشن مثال ہیں۔ انہوں نے ون چائنا پالیسی کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔

سیمینار سے قبل مسٹر لیو ڈاشیو کی قیادت میں چینی وفد نے چینی سفیر کے ہمراہ چیئرمین سینیٹ سے خصوصی ملاقات بھی کی، جس میں پارلیمانی، سیاسی اور جماعتی سطح پر روابط اور تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کی پولیس کی ناقص تفتیش پر شدید برہمی: سندھ پولیس کے تفتیشی افسران اسلام آباد پولیس سے بہتر کام کرتے ہیں، جسٹس خادم حسین سومرو کے ریمارکس

منصور احمد, August 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 اگست 2026ء

اسلام آباد ہائیکورٹ نے قتل کے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران اسلام آباد پولیس کی ناقص تفتیش اور خامیاں سامنے آنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی دارالحکومت کے تفتیشی نظام پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ کیس کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد پولیس سے کہیں اچھی اور معیاری تفتیش تو نصف تنخواہ لینے والے سندھ پولیس کے تفتیشی افسران کر لیتے ہیں۔

سماعت کے دوران جسٹس خادم حسین سومرو نے ایس ایس پی اسلام آباد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے سامنے جب بھی کوئی مقدمہ آتا ہے تو فیصلے کی بنیاد درست تفتیش پر ہوتی ہے، تاہم حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے چار اہم کیسز میں پولیس انویسٹی گیشن انتہائی ناقص رہی۔ فاضل جج نے کہا کہ تفتیش میں اس قدر خامیاں رکھی جاتی ہیں کہ مجبوری میں عدالت کو ملزمان کی ضمانتیں منظور کرنا پڑتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد پولیس میں ایک تفتیشی افسر کی تنخواہ لاکھ روپے کے قریب ہے جبکہ سندھ پولیس میں یہی تنخواہ محض 40 ہزار کے قریب ہے، اس کے باوجود سندھ پولیس کا تفتیشی معیار بہتر ہے۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے مزید کہا کہ انہوں نے ڈیڑھ سال کے دوران کسی سینئر پولیس افسر کو عدالت بلانے سے گریز کیا لیکن گزشتہ 14 دنوں کے دوران چار مقدمات میں لگاتار خراب تفتیش دیکھنے کے بعد ایس ایس پی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرنا پڑا۔

عدالت نے ایس ایس پی اسلام آباد کو واضح ہدایت کی کہ وہ اپنے ادارے کے تفتیشی نظام کو فوری طور پر درست کریں اور مقدمات کی انویسٹی گیشن قانون اور میرٹ کے مطابق یقینی بنائیں۔ فاضل جج نے متنبہ کیا کہ آئی جی اسلام آباد کو پیغام پہنچا دیا جائے کہ اگر آئندہ کسی کیس میں ایسی ناقص تفتیش سامنے آئی تو عدالت اسلام آباد پولیس کے خلاف سخت تحریری حکم نامہ جاری کرے گی۔

چین کے سابق وزیراعظم ژو رونگ جی کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار: آئرن برادر چین کے غم میں برابر کے شریک ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

منصور احمد, August 12,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے چین کے سابق وزیراعظم ژو رونگ جی کے انتقال پر گہرے دکھ اور انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں پاکستان کا مخلص دوست اور عظیم رہنما قرار دیا ہے۔

بدھ کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے تعزیتی بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ سابق چینی وزیراعظم ژو رونگ جی کی رحلت کی خبر سن کر انہیں شدید صدمہ پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم نے چین کی ترقی اور پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا، وہ ایک عظیم مدبر، بصیرت افروز رہنما اور پاکستان کے بے لوث دوست تھے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے حکومتِ پاکستان اور تمام پاکستانی عوام کی جانب سے چینی صدر شی جن پنگ، وزیراعظم لی چیانگ، چین کے عوام اور مرحوم کے سوگوار خاندان سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دکھ اور غم کی اس گھڑی میں اپنے لازوال اور آزمودہ آئرن برادر چین کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کے غم میں برابر کا شریک ہے۔

جی ایس پی پلس کا درجہ پاکستان کے لیے زبردست موقع، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی ترجیح ہے: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ

محمود احمد, August 12,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

وفاقی وزیر قانون، انصاف و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ جی ایس پی پلس کا درجہ پاکستان کے لیے ایک زبردست اور اہم موقع ہے، پاکستان میں انسانی حقوق کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے جبکہ اس سلسلے میں تمام ضروری قانونی و ادارہ جاتی اصلاحات پر کام تیزی سے جاری ہے۔

بدھ کے روز یورپی یونین کے سفیر رائمونڈاس کاروبلس سے وفد کے ہمراہ ہونے والی اہم ملاقات کے دوران وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک اور سیکریٹری وزارت انسانی حقوق بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران پاکستان اور یورپی یونین کے باہمی تعلقات، جی ایس پی پلس اسٹیٹس، انسانی حقوق سے متعلق ترجیحات، قومی ایکشن پلان 2026ء پر عملدرآمد اور دیگر متعلقہ اداروں کی استعداد کار بڑھانے سے متعلق تفصیلی گفتگو کی گئی۔

وفاقی وزیر نے یورپی یونین کے وفد کو بچوں اور اقلیتوں کے حقوق اور تحفظ سے متعلق حکومتی اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں چائلڈ لیبر، کم عمری کی شادی اور اقلیتوں کے حقوق کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے، جبکہ اقلیتوں سے متعلق قومی کمیشن کو بھی جلد مکمل طور پر فعال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں پر تشدد، زیادتی کے کیسز اور صنفی امتیاز کے خاتمے کے لیے حکومت انتہائی سنجیدہ اور عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ مل کر جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے پرعزم ہے اور جی ایس پی پلس کی ترجیحات پر مزید مؤثر پیش رفت کی جائے گی۔ اس موقع پر یورپی یونین کے سفیر رائمونڈاس کاروبلس نے انسانی حقوق کی شقوں پر عملدرآمد میں پاکستان کی پیش رفت کی تعریف کی جبکہ دونوں جانب سے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

بانی پی ٹی آئی عمران خان کا جیل سے اکبر ایس بابر کو اہم پیغام: ناراض ارکان کو متحد کرنے کی خواہش اور اکبر ایس بابر کے گھر جانے کا اعلان

کاشف عباسی , August 12,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی جانب سے جیل سے پارٹی کے بانی رہنما اور دیرینہ ساتھی اکبر ایس بابر کو اہم پیغام بھیجے جانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ اکبر ایس بابر نے اس معاملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ عمران خان کے ایک مشترکہ دوست، جو خود بھی جیل میں ہیں، کے ذریعے یہ پیغام ان تک پہنچایا گیا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اکبر ایس بابر نے انکشاف کیا کہ عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ جیل سے رہائی کے فوراً بعد سب سے پہلے اکبر ایس بابر کے گھر جائیں گے۔ اس کے علاوہ بانی پی ٹی آئی نے خواہش ظاہر کی ہے کہ پارٹی کے ابتدائی دور سے وابستہ، ناراض رہنماؤں اور کارکنوں کو دوبارہ ایک ہی سیاسی پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے۔ عمران خان نے اپنے ابتدائی ساتھیوں کو پارٹی کا حقیقی اثاثہ قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ جدوجہد کے دور کے مخلص ارکان کی کمی ہمیشہ محسوس کی گئی اور اب ان تمام لوگوں کو دوبارہ قریب لانے کی شدید ضرورت ہے۔

عمران خان کا پیغام موصول ہونے کے بعد اکبر ایس بابر نے ناراض ارکان اور بانی رہنماؤں کو متحد کرنے کے لیے عملی کاوشیں شروع کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں پی ٹی آئی پنجاب کے سابق سینئر نائب صدر رانا سہیل کی سربراہی میں ایک چار رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جس میں امین ذکی، فیصل پیرزادہ اور آصف احمد شامل ہیں۔ کمیٹی نے ان تمام ساتھیوں سے رابطہ مہم کا آغاز کر دیا ہے جو مختلف وجوہات کی بنا پر پارٹی سے دور یا ناراض ہو گئے تھے۔

اکبر ایس بابر کے مطابق عمران خان کے اس پیغام پر ناراض ارکان کا ردعمل انتہائی مثبت رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ ان کے کبھی ذاتی نہیں بلکہ محض سیاسی اختلافات رہے ہیں اور اگر بانی پی ٹی آئی ان کے گھر آئیں گے تو وہ ان کا گرمجوشی سے استقبال کریں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تمام بانی ارکان اور کارکنوں کو دوبارہ متحرک کرنے کے بعد اگلے ماہ لاہور میں ایک بڑا کنونشن منعقد کیا جائے گا تاکہ نظریاتی ساتھیوں کو دوبارہ ایک پیج پر لایا جا سکے۔

برازیل سے ڈیپورٹ ہونے والے مسافر کے خلاف ایف آئی اے کی بڑی کارروائی: جعلی ویزے اور غیر قانونی قیام پر مقدمہ درج

منصور احمد, August 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اگست 2026ء

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اسلام آباد زون کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل نے برازیل سے ڈیپورٹ ہو کر پاکستان پہنچنے والے مسافر کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کر لیا ہے۔

ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ڈیپورٹ ہونے والے مسافر علی رضا ولد محمد عارف کے خلاف پاسپورٹ ایکٹ 1974ء کی دفعات 3 اور 4 کے تحت پرچہ درج کیا گیا ہے۔ ملزم 9 اگست 2026ء کو غیر ملکی ایئر لائن کی فلائٹ کے ذریعے اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچا تھا، جس کی ڈیپورٹیشن دستاویزات میں وجہ ‘لو پروفائل ایسائلم سیکر’ درج تھی۔ مربوط نظام کے ریکارڈ سے پتہ چلا کہ ملزم روانہ 17 مئی 2026ء کو لاہور ایئرپورٹ سے وزٹ ویزے پر انڈونیشیا گیا تھا۔

ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے انکشاف کیا کہ اس نے انڈونیشیا سے سعودی عرب اور پھر وہاں سے میکسیکو کا ویزا حاصل کیا، جس کے بعد وہ برازیل پہنچا اور ایک دن کے ٹرانزٹ قیام کی بجائے وہاں غیر قانونی طور پر مقررہ مدت سے زائد مقیم رہا۔ قانون شکنی پر برازیلی حکام نے اسے حراست میں لے کر ایمرجنسی پاسپورٹ پر واپس ڈیپورٹ کر دیا۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزم کے پاسپورٹ پر چسپاں میکسیکو کا ویزا بھی مکمل طور پر مشکوک اور جعلی پایا گیا ہے۔

ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل نے ملزم کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے، جبکہ اس انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک اور جعلی دستاویزات کی تیاری میں ملوث ایجنٹوں کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔

سی پیک 2.0 کے تحت صنعتی و کاروباری تعاون میں پیش رفت: چینی وفد کی احسن اقبال سے ملاقات، برآمدات میں اضافے اور بی ٹو بی شراکت داری پر اتفاق

محمود احمد, August 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اگست 2026ء

چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کے تحت پاکستان اور چین کے درمیان صنعتی، زرعی اور کاروباری تعاون کو وسعت دینے کے لیے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ عوامی جمہوریہ چین کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے اقتصادی امور پریس کے سینئر ایڈوائزر سن ڈونگ شینگ کی قیادت میں سی پیک سیکرٹریٹ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال اور سینیئر پالیسی سازوں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی۔

ملاقات کے دوران وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے چینی وفد کو پاکستان کے قومی اقتصادی ایجنڈے ”اڑان پاکستان“ سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج برآمدات کی کمزور بنیاد ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ چین سالانہ 2.6 ٹریلین ڈالر کی درآمدات کرتا ہے جبکہ اس میں پاکستان کا حصہ صرف 3 ارب ڈالر کے قریب ہے، جسے بڑھانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سی پیک کے پہلے مرحلے میں چین نے پاکستان کو توانائی کے بحران سے نکالا اور اب سی پیک 2.0 کے ذریعے پاکستان اپنے برآمدی خسارے پر قابو پانے کے لیے پرعزم ہے۔

پروفیسر احسن اقبال نے صنعتی انقلاب 4.0 اور 5.0 کے تحت آٹومیشن، روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی میں چینی تجربات سے استفادہ کرنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے زور دیا کہ سی پیک 2.0 کا اصل محور کاروبار سے کاروبار تعاون ہے، جس کے تحت صنعتی، زرعی اور معدنی شعبوں میں علاقائی و عالمی سطح پر نجی شعبوں کا اشتراکِ عمل ضروری ہے۔

چینی وفد کے سربراہ مسٹر سن ڈونگ شینگ نے پاک چین دوستی کی مضبوطی کا اعادہ کرتے ہوئے سی پیک فیز ون کی کامیابیوں کو سراہا۔ انہوں نے زراعت، صنعت، پیداواری صلاحیت میں اضافے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی شمولیت اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کے فروغ پر زور دیا۔

اجلاس کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ سی پیک 2.0 کے پانچ کوریڈورز اور پاکستان کے ”اڑان پاکستان“ فریم ورک کے درمیان تزویراتی ہم آہنگی کو عملی جامہ پہنایا جائے گا تاکہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سے آگے بڑھ کر صنعتی ترقی، مسابقت، اور کاروباری شراکت داری کے ذریعے مشترکہ خوشحالی کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔

وزیر خزانہ سے پاکستان بزنس کونسل کی قیادت کی ملاقات: سرمایہ کاری، ڈیجیٹل تبدیلی اور معاشی اصلاحات پر تفصیلی تبادلہ خیال

منصور احمد, August 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اگست 2026ء

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے پاکستان بزنس کونسل کے نو منتخب چیئرمین زید بشیر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جاوید قریشی نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران ملک میں غیر ملکی و مقامی سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری مسابقت، ریگولیٹری اصلاحات اور قومی معاشی ترقی میں نجی شعبے کے نقش کو مزید فعال بنانے پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔

وزیر خزانہ نے زید بشیر کو نئی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ معاشی منظر نامے میں نجی شعبے کی قیادت میں ترقی بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی منڈیوں میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے کاروباری اداروں کو ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تبدیلی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا پڑے گا۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے پی بی سی پر زور دیا کہ وہ معاشی چیلنجز کے حل اور بہتر پالیسی سازی کے لیے مختصر، شعبہ جاتی اور عملی تحقیق حکومت کے سامنے پیش کرے تاکہ درپیش مسائل پر فوری اقدامات کیے جا سکیں۔

ملاقات میں بین الاقوامی فنانسنگ اور سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن اور ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے ذرائع سے فائدہ اٹھانے پر بھی غور کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ممکنہ عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے مکمل طور پر تیار اور تجارتی لحاظ سے منافع بخش منصوبے پیش کیے جانے چاہئیں۔ اس کے علاوہ ملک کے درمیانی مدت کے ٹیکس پالیسی فریم ورک اور اصلاحات کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے ایک ایسے پائیدار ٹیکس نظام کی تشکیل پر زور دیا جو مسابقت اور سرمایہ کاری کو تحرک فراہم کرے۔

پاکستان بزنس کونسل کے نو منتخب چیئرمین زید بشیر اور سی ای او جاوید قریشی نے حکومت کی مالیاتی اور معاشی سمت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے موجودہ وفاقی بجٹ کو حالیہ برسوں کا سب سے امید افزا بجٹ قرار دیا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ بزنس کونسل نجی شعبے کی ترقی، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور سرمایہ کاری کے سازگار ماحول کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گی۔

ہارون اختر خان وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار مقرر، وفاقی وزیر کا درجہ دیا گیا: باضابطہ نوٹیفکیشن جاری

کاشف عباسی , August 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اگست 2026ء

حکومتِ پاکستان نے ممتاز ماہرِ اقتصادیات اور کاروباری رہنما ہارون اختر خان کی بطور وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار تقرری کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت انہیں وفاقی وزیر کا منصب اور درجہ حاصل ہوگا۔

وزارتِ صنعت و پیداوار کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ہارون اختر خان کی یہ تقرری صدرِ پاکستان کی منظوری کے بعد عمل میں آئی ہے جس کا نوٹیفکیشن کابینہ ڈویژن نے جاری کیا۔ وہ سینیئر مشیر کے طور پر فوری طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے اور صنعت و پیداوار کا اہم قلمدان ان کی دیکھ بھال میں رہے گا۔

ہارون اختر خان عوامی خدمت، مقننہ اور کاروباری دنیا کا ایک شاندار اور وسیع پس منظر رکھتے ہیں۔ وہ ماضی میں دو مرتبہ سینیٹر اور دو مرتبہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں۔ تعلیمی لحاظ سے انہوں نے کینیڈا کی معروف یونیورسٹی آف مینی ٹوبا سے ایکچوریل سائنس اور بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹر آف سائنس کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ اس کے علاوہ وہ سوسائٹی آف ایکچوریز (امریکہ) اور کینیڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایکچوریز کے فیلو بھی ہیں، اور اپنی پیشہ ورانہ سند حاصل کرتے وقت وہ اس شعبے کی تاریخ کے سب سے کم عمر ایکچوری بنے تھے۔

پاکستان واپس آ کر ملکی خدمات انجام دینے سے قبل انہوں نے امریکہ اور کینیڈا کی معروف کمپنیوں میں کارپوریٹ گورننس، اقتصادی منصوبہ بندی، مالیاتی ماڈلنگ اور سرمایہ کاری کے میدانوں میں گراں قدر تجربہ حاصل کیا۔ بعد ازاں سال 2015ء سے 2018ء کے دوران انہوں نے وفاقی وزیر کے درجے کے ساتھ معاونِ خصوصی برائے محصولات کے طور پر بھی کامیابی سے فرائض انجام دیے، جہاں انہوں نے ٹیکس اصلاحات میں اہم کردار ادا کیا۔

بطور سینیٹر انہوں نے 2006ء سے 2012ء کے دوران خزانہ، تجارتی و اقتصادی امور، منصوبہ بندی، صنعت و پیداوار، اور پٹرولیم سمیت سینیٹ کی متعدد اہم ترین قائمہ کمیٹیوں میں سینیئر رکن کی حیثیت سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط کاروباری اور سیاسی کیریئر کے دوران انہوں نے بزنس ٹو بزنس اور حکومت و صنعت کے درمیان قریبی روابط استوار کرنے، سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی اور صنعتی ترقی کی راہ ہموار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

ہیلتھ سروسز اکیڈمی اسلام آباد میں بی ایس آپٹومیٹری ڈگری پروگرام (خزاں 2026ء) کے داخلوں کا اعلان

روزینہ اسماعیل, August 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اگست 2026ء

ہیلتھ سروسز اکیڈمی اسلام آباد نے تعلیمی سیشن خزاں 2026ء کے لیے اپنے چار سالہ بی ایس آپٹومیٹری ڈگری پروگرام میں نئے داخلوں کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔

ہیلتھ سروسز اکیڈمی انتظامیہ کی جانب سے جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق اس پروگرام میں داخلے کے لیے وہ تمام امیدوار اپلائی کرنے کے اہل ہوں گے جنہوں نے ایف ایس سی پری میڈیکل یا اس کے مساوی امتحان میں کم از کم 50 فیصد نمبر حاصل کیے ہوں۔ یہ چار سالہ ڈگری پروگرام ہائر ایجوکیشن کمیشن سے مکمل منظور شدہ ہے، جبکہ ہیلتھ سروسز اکیڈمی ایچ ای سی کی تسلیم شدہ یونیورسٹی کا درجہ رکھتی ہے۔ مزید برآں، یہ کورس الائیڈ ہیلتھ پروفیشنل کونسل کے تحت باقاعدہ رجسٹرڈ اور ریگولیٹڈ ہے، جبکہ اس ڈگری کو ‘ورلڈ کونسل آف آپٹومیٹری’ سے بھی عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔

اکیڈمی حکام کا کہنا ہے کہ چار سالہ ڈگری کامیابی سے مکمل کرنے والے گریجویٹس کے لیے ملک و بیرونِ ملک روزگار کی وسیع تر مارکیٹ موجود رہے گی۔ فراغت حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات سرکاری و نجی ہسپتالوں، آئی کلینکس، طبی تدریس و سائنسی تحقیق کے شعبوں، آپٹیکل انڈسٹری، بزنس مینجمنٹ، اور ماہرینِ امراضِ چشم کے ساتھ کلینیکل پریکٹس سمیت مختلف معتبر شعبوں میں بطور پیشہ ور ماہرِ بصریات اپنی خدمات انجام دے سکیں گے۔

اس ڈگری پروگرام کی فی سمسٹر ٹیوشن فیس 70 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ تمام خواہشمند امیدوار اپنی درخواستیں ہیلتھ سروسز اکیڈمی کی سرکاری ویب سائٹ کے ذریعے آن لائن جمع کرا سکتے ہیں۔ داخلہ فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 اگست 2026ء مقرر کی گئی ہے۔ ہیلتھ سروسز اکیڈمی کا کیمپس پارک روڈ، پی ایم ہیلتھ کمپلیکس، چک شہزاد اسلام آباد میں واقع ہے۔

پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کا توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے اور نئی سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق

محمود احمد, August 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

پاکستان اور سوئٹزرلینڈ نے توانائی کے شعبے میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے اور نئی سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کے لیے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت سوئس عالمی توانائی تجارتی کمپنی ‘گنور گروپ’ کے وفد کی وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک سے ملاقات کے دوران سامنے آئی۔

ملاقات میں گنور گروپ کے وفد نے پاکستان کی انرجی مارکیٹ میں ڈی ریگولیشن اور نئی ریفائنری پالیسی کے حکومتی اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈاؤن سٹریم مارکیٹ کو کھولنے سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ وفد نے مجوزہ ‘بانڈڈ سٹوریج پالیسی’ اور ایل پی جی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے امکانات میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے ایک موزوں و پرکشش مارکیٹ قرار دیا۔

وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے وفد کو بتایا کہ حکومت توانائی کے شعبے میں شفاف، مسابقتی اور سرمایہ کار دوست ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے گنور گروپ کو ایل پی جی اور دیگر جاری اصلاحاتی منصوبوں میں موجود نئے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ دفاعی معاہدے پر وفاقی کابینہ کی متفقہ تحسینی قرارداد منظور، نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2026ء کی بھی منظوری

کاشف عباسی , August 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کو اہم سفارتی و دفاعی پیش رفت قرار دیتے ہوئے متفقہ قرارداد منظور کی گئی۔ قرارداد میں وزیراعظم، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

اجلاس کے دوران نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2026ء اور اس کے ایکشن پلان کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے ہدایت کی کہ عمودی رہائش ) اور انرجی ایفیشنسی کوڈز کو ترجیح دی جائے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ‘اپنا گھر’ سکیم کے تحت بینکوں نے 220 ارب روپے کے قرضے منظور کیے ہیں جبکہ 32 ارب روپے سے زائد کی رقوم جاری کی جا چکی ہیں۔

وفاقی کابینہ نے پاکستان انفارمیشن سکورٹی فریم ورک کی منظوری دی جو ملک میں سائبر سکورٹی کے بنیادی معیارات کے لیے اہم دستاویز ثابت ہوگا۔ علاوہ ازیں، پاکستان اور سویڈن کے درمیان 1981ء کے دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے کے خاتمے کا نوٹس واپس لینے اور پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 میں ترامیم کی توثیق بھی کی گئی۔

اجلاس کے اختتام پر کابینہ کمیٹی برائے توانائی، اقتصادی رابطہ کمیٹی ) اور کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے گزشتہ اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں کی باضابطہ توثیق کر دی گئی۔