حکومت کا واپڈا سکیورٹی فورس بنانے کا فیصلہ، چینی ماہرین اور آبی منصوبوں کو خصوصی تحفظ فراہم کیا جائے گا

کاشف عباسی ,May 25 ,2026

اسلام آباد /نیوز اینڈ نیوز

وفاقی حکومت نے ملک بھر میں اہم آبی منصوبوں، ڈیمز، پاور پلانٹس اور ان منصوبوں پر کام کرنے والے انجینئرز و عملے، خصوصاً چینی ماہرین کی سکیورٹی مزید مؤثر بنانے کے لیے نئی ’’واپڈا سکیورٹی فورس‘‘ قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ’’واپڈا سکیورٹی فورس ایکٹ 2026ء‘‘ پارلیمنٹ کو منظوری کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق نئی فورس کا بنیادی مقصد واپڈا کے زیرِ انتظام اہم آبی و توانائی منصوبوں، تنصیبات اور حساس انفراسٹرکچر کو محفوظ بنانا ہے تاکہ قومی ترقیاتی منصوبوں پر بلا تعطل کام جاری رکھا جا سکے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ خصوصاً داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد کیا گیا، جہاں نومبر 2021ء اور مارچ 2024ء میں ہونے والے حملوں میں متعدد پاکستانی اور چینی انجینئرز و کارکنان جاں بحق ہوئے تھے۔ ان حملوں کے بعد منصوبے پر کام ایک طویل عرصے تک معطل بھی رہا تھا۔

حکام کے مطابق ماضی میں چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک سے منسلک منصوبوں کی سکیورٹی کے لیے پاک فوج کی خصوصی سکیورٹی ڈویژنز تعینات کی گئی تھیں، تاہم واپڈا کے تمام منصوبے اس دائرہ کار میں شامل نہیں تھے، جس کے باعث الگ سکیورٹی نظام کی ضرورت محسوس کی گئی۔

ذرائع نے بتایا کہ نئی واپڈا سکیورٹی فورس ڈیمز، ہائیڈرو پاور پلانٹس، تعمیراتی مقامات، حساس تنصیبات اور منصوبوں پر کام کرنے والے ملکی و غیر ملکی ماہرین کی حفاظت کی ذمہ داری سنبھالے گی۔ اس فورس کو جدید تربیت، اسلحہ اور نگرانی کے نظام سے بھی لیس کیا جائے گا۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ پاکستان میں جاری بڑے آبی اور توانائی منصوبے ملکی معیشت، بجلی کی پیداوار اور مستقبل کی صنعتی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہیں، اس لیے ان کی سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

سرکاری حلقوں کے مطابق نئی فورس کے قیام سے نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ پاکستان اور چین کے درمیان جاری اقتصادی و توانائی تعاون کو بھی مزید استحکام ملے گا۔

پنکی کیس میں غیر ضروری میڈیا کوریج پر سوالات، جھوٹی خبروں کے خلاف کارروائی ہوگی: اعظم نذیر تارڑ

محمود احمد May20,2026

نیوز اینڈ نیوز:اسلام آباد

وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے انمول عرف پنکی منشیات کیس اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملزمہ کو غیر ضروری میڈیا کوریج دی گئی، جبکہ بعض عناصر دانستہ طور پر مشہور شخصیات کے نام لے کر اصل کیس سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایوانِ بالا میں خطاب کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بے بنیاد الزامات اور جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دے سکتی کہ وہ سنسنی پھیلانے یا قانون سے بچنے کے لیے معزز شخصیات کی ساکھ کو نقصان پہنچائے۔

وفاقی وزیرِ قانون نے سابق اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کے خلاف سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پوری پارلیمنٹ ان کے ساتھ کھڑی ہے اور کوئی بھی باشعور پاکستانی “شوشہ نیوز” پر یقین نہیں رکھتا۔

انہوں نے کہا کہ بعض عناصر تفتیشی عمل کو متنازع بنانے اور عوام کی توجہ اصل مقدمے سے ہٹانے کے لیے جان بوجھ کر معروف شخصیات کے نام استعمال کر رہے ہیں۔ اعظم نذیر تارڑ نے سوال اٹھایا کہ “کیا اس ملک میں کوئی اور مسئلہ باقی نہیں رہ گیا کہ ایک ملزمہ کو مسلسل غیر ضروری کوریج دی جا رہی ہے؟”

انہوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ حکومت منشیات فروشی جیسے سنگین جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے، تاہم قانون کے نام پر کسی کی کردار کشی یا سیاسی مقاصد کے لیے بے بنیاد مہم برداشت نہیں کی جائے گی۔

اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ جھوٹے پروپیگنڈے اور افواہوں کے ذریعے قانون کی گرفت سے بچنا ممکن نہیں، ریاست ایسے عناصر کے خلاف مؤثر قانونی اقدامات کرے گی۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی کی پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کا انتظام نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن کو منتقل کرنے کی منظوری

Screenshot

کاشف عباسی ,May 20 ,2026

اسلام آباد: اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کی تنظیمِ نو کے منصوبے کے تحت ادارے کا انتظامی کنٹرول اور تیس فیصد شیئرز نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن کو منتقل کرنے کی اصولی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد سمندری اور زمینی ذرائع سے مربوط اور مؤثر فریٹ ٹرانسپورٹ نظام قائم کرنا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہونے والے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں اس اہم فیصلے کے علاوہ انیس سو نواسی کے کشمیری مہاجرین کے گزارہ الاؤنس میں ستر فیصد سے زائد اضافے اور تقریباً آٹھ ارب چونتیس کروڑ روپے مالیت کی سات ضمنی گرانٹس کی بھی منظوری دی گئی۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق وزارتِ بحری امور کی جانب سے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کی تنظیمِ نو اور نجکاری سے متعلق سمری پیش کی گئی تھی، جس کے تحت ادارے کے تیس فیصد حصص نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن کو منتقل کیے جائیں گے جبکہ انتظامی کنٹرول بھی اسی ادارے کے سپرد ہوگا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ اس اقدام کا مقصد شپنگ اور روڈ نیٹ ورکس کو یکجا کر کے ملک میں مال برداری کے نظام کو جدید، مؤثر اور منافع بخش بنانا ہے تاکہ ابھرتے ہوئے بحری اور ٹرانس شپمنٹ مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق اس منصوبے کی ابتدائی منظوری وزیراعظم کی جانب سے رواں سال فروری میں دی گئی تھی، جس کے بعد وزارتِ بحری امور نے باقاعدہ سمری اقتصادی رابطہ کمیٹی کو ارسال کی۔

اجلاس میں متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی کہ تنظیمِ نو اور انضمام کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ پاکستان کے بحری شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا سکے اور بین الاقوامی تجارتی سرگرمیوں میں ملک کا کردار مزید مضبوط ہو۔

پی ٹی آئی قیادت کا ملک گیر احتجاجی تحریک کا اعلان، مہنگائی اور عمران خان کی صحت کے معاملے پر جمعہ کو مظاہروں کا فیصلہ

کاشف عباسی ,May 20 ,2026

نیوز اینڈ نیوز : رپورٹ
اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت میں قائم اپوزیشن اتحاد نے مہنگائی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، امن و امان کی صورتحال اور سابق وزیرِاعظم عمران خان کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔

یہ فیصلہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے اجلاس میں کیا گیا، جس کی بعد ازاں پی ٹی آئی رہنماؤں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پریس کانفرنس میں توثیق کی۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا کے وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں اڈیالہ جیل جانے والے قافلے کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے روک دیا گیا، جس کے بعد کارکنوں اور رہنماؤں نے سری نگر ہائی وے اور جی ٹی روڈ کے سنگم، المعروف چونگی نمبر 26، پر دھرنا دے دیا۔

سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے شاہد خٹک کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پوری جماعت اور عوام سابق وزیرِاعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ جمعہ کے روز ملک بھر میں مہنگائی، پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے، عمران خان اور بشریٰ بی بی کی صحت سے متعلق خدشات، انہیں اسپتال منتقل کرنے کے مطالبے، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور بنیادی انسانی حقوق کی بحالی کے لیے احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔

اسد قیصر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے پارلیمانی اجلاسوں کے دوران بھی احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت اپوزیشن کی آواز دبانے اور سیاسی کارکنوں کو ہراساں کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، تاہم عوامی ردِعمل کے ذریعے اس کا مقابلہ کیا جائے گا۔

ادھر اسلام آباد میں قافلے کو روکنے کے بعد کارکنوں نے شدید نعرے بازی کی اور عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر حکومت کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا۔ اپوزیشن رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ سیاسی قیادت کو سابق وزیرِاعظم تک رسائی سے روکنا غیر جمہوری اقدام ہے۔

اٹھائیسویں آئینی ترمیم پر تبصرہ قبل از وقت، پیپلز پارٹی کو تاحال کوئی مسودہ موصول نہیں ہوا، سلیم مانڈوی والا

کاشف عباسی ,May 20 ,2026

نیوز اینڈ نیوز

اسلام آباد: ممکنہ اٹھائیسویں آئینی ترمیم سے متعلق سیاسی حلقوں میں جاری بحث کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی نے واضح کیا ہے کہ پارٹی کو تاحال کسی مجوزہ آئینی ترمیم کا باضابطہ مسودہ موصول نہیں ہوا، اس لیے اس معاملے پر رائے دینا قبل از وقت ہوگا۔

صدر آصف علی زرداری کے دورۂ چین کی تفصیلات سے متعلق پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ میڈیا میں مختلف قیاس آرائیاں سامنے آرہی ہیں، تاہم پیپلز پارٹی کو کسی مجوزہ ترمیم یا آئینی تبدیلی کے حوالے سے ابھی تک کوئی دستاویز فراہم نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک باقاعدہ مسودہ سامنے نہیں آتا، اس معاملے پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پارٹی قیادت کو بھی اس حوالے سے کوئی باضابطہ پیش رفت نہیں بتائی گئی۔ اس موقع پر صدر مملکت کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی اور پریس سیکریٹری دانیال گیلانی بھی موجود تھے۔

پریس کانفرنس کے دوران صدر آصف علی زرداری کے حالیہ دورۂ چین پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا گیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان دفاع، زراعت، صحت، صنعتی تعاون اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں پانچ مفاہمتی یادداشتوں اور ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے۔

مرتضیٰ سولنگی نے پاکستان بحریہ کی پہلی ہنگور کلاس آبدوز کی تقریبِ شمولیت کو پاک چین دفاعی تعاون میں اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کی تزویراتی اہمیت جے ایف سترہ تھنڈر طیارہ منصوبے کے برابر ہے۔

سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے بتایا کہ پاکستانی فلموں اور ڈراموں کو چین میں متعارف کرانے کے لیے بھی نئی ثقافتی حکمت عملی پر کام جاری ہے، جبکہ پاکستانی فلم ’’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘‘ کی چین میں تجارتی نمائش اکیس اور بائیس مئی کو متوقع ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں پانی کی قلت پر قابو پانے کے لیے سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے منصوبے پر بھی مفاہمتی یادداشت طے پائی ہے، جس کے تحت روزانہ پچاس لاکھ گیلن پانی صاف کرنے کی صلاحیت رکھنے والا پلانٹ قائم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ زرعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی چین کی بڑی چائے کمپنی کے ساتھ تعاون کا معاہدہ کیا گیا ہے۔

ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس: مجرم عمر حیات کو سزائے موت، 20 لاکھ روپے جرمانہ

محمود احمد May19,2026

نیوز اینڈ نیوز رپورٹ

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی مقامی عدالت نے ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مجرم عمر حیات کو سزائے موت اور 20 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔

یہ فیصلہ اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے سنایا۔ عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو آج سنایا گیا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق ملزم عمر حیات پر پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302 کے تحت جرم ثابت ہوا، جس کے بعد عدالت نے اسے پھانسی کی سزا سنائی۔ عدالت نے مجرم پر 20 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا، جبکہ عدم ادائیگی کی صورت میں مزید قید کی سزا بھی بھگتنا ہوگی۔

کیس کی سماعت کے دوران استغاثہ کی جانب سے عدالت میں 25 سے زائد گواہان کے بیانات، تفتیشی رپورٹس اور سائنسی شواہد پیش کیے گئے، جنہیں عدالت نے قابلِ اعتماد قرار دیا۔ پراسیکیوشن کے مطابق ملزم نے منصوبہ بندی کے تحت ثنا یوسف کو نشانہ بنایا تھا۔

سماعت کے دوران تفتیشی افسر، گاڑی کے ڈرائیور اور دیگر چشم دید گواہوں کے بیانات بھی قلمبند کیے گئے، جبکہ فرانزک شواہد نے بھی ملزم کے خلاف مقدمے کو مضبوط بنایا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ پیش کیے گئے شواہد کی بنیاد پر جرم بغیر کسی شک و شبہ کے ثابت ہوتا ہے، جس کے باعث ملزم سخت ترین سزا کا مستحق ہے

عمران خان کی سپریم کورٹ سے اسپتال منتقلی اور ذاتی ڈاکٹروں تک رسائی کی استدعا

کاشف عباسی ,May 19 ,2026

رپورٹ: نیوز اینڈ نیوز

اسلام آباد: سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے اپنی اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقلی، ذاتی معالجین تک رسائی اور طبی تفصیلات اہلِ خانہ کو فراہم کرنے کی استدعا کی ہے۔

پیر کے روز دائر کی گئی درخواست میں عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 12 مارچ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی اجازت طلب کی، جس میں مذکورہ سہولیات فراہم کرنے سے متعلق درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔

سینئر وکیل عزیر کرامت بھنڈاری کے ذریعے دائر نئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان کو اپنی پسند کے ڈاکٹروں سے طبی معائنہ کروانے، اہلِ خانہ اور قانونی مشیروں تک رسائی اور مکمل میڈیکل ریکارڈ فراہم کرنے کی اجازت دی جائے۔

اس سے قبل عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کر چکی ہیں، جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت عالیہ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی اجازت دیتے ہوئے عمران خان کو مناسب طبی سہولیات فراہم کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔

دوسری جانب پی ٹی آئی نے عمران خان کی صحت کے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سیاسی قیدیوں کے ساتھ رویے سے “اخلاقی بحران” پیدا ہو رہا ہے۔ پارٹی کی جانب سے بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔

62 سال پرانا ضابطۂ اخلاق ختم، سرکاری ملازمین کے لیے نیا سخت کنڈکٹ رولز 2026 نافذ

کاشف عباسی ,May 16 ,2026

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے 62 سال پرانے ضابطۂ اخلاق کو ختم کرتے ہوئے نیا “سول سرونٹس کنڈکٹ رولز 2026” نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت اثاثوں کے اظہار، مالی شفافیت اور سوشل میڈیا سرگرمیوں پر سخت اور واضح قواعد متعارف کرا دیے گئے ہیں۔

نئے ضابطے کے مطابق گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے تمام افسران کو ہر سال 30 اکتوبر تک اپنے اثاثوں کی تفصیلات ڈیجیٹل نظام کے ذریعے جمع کرانا لازمی ہوگا۔ ان اثاثہ جات کی معلومات کو شفافیت کے لیے عوامی سطح پر بھی جاری کیا جائے گا، تاہم ذاتی اور حساس تفصیلات کو خفیہ رکھا جائے گا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ان اثاثوں کی جانچ پڑتال اور نگرانی کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔

پہلی بار قواعد میں کرپٹو کرنسی، بینک اکاؤنٹس، شیئرز، سیکیورٹیز، انشورنس پالیسیوں اور 50 لاکھ روپے یا اس سے زائد مالیت کے زیورات کو بھی اثاثوں میں ظاہر کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

نئے ضابطے میں مفادات کے ٹکراؤ (Conflict of Interest) کے حوالے سے بھی سخت نظام شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت سرکاری ملازمین کو اپنے یا اہلِ خانہ کے مالی و ذاتی مفادات واضح طور پر ظاہر کرنا ہوں گے تاکہ سرکاری فیصلوں پر کسی قسم کے اثرانداز ہونے سے بچا جا سکے۔

سوشل میڈیا اور آن لائن سرگرمیوں پر بھی پابندیاں سخت کر دی گئی ہیں۔ سرکاری ملازمین کو بغیر پیشگی اجازت کسی بھی ویب سائٹ، بلاگ، پوڈکاسٹ یا یوٹیوب چینل چلانے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ سرکاری کام یا سہولیات کو ذاتی تشہیر کے لیے استعمال کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

مزید برآں تحائف اور مہمان نوازی سے متعلق قوانین بھی سخت کیے گئے ہیں۔ سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ غیر متعلقہ افراد یا اداروں سے تحائف قبول نہیں کر سکیں گے، سوائے ان صورتوں کے جو توشہ خانہ قواعد کے تحت قابلِ اجازت ہوں۔

قواعد میں یہ بھی شامل کیا گیا ہے کہ افسران اپنی آمدن سے زائد اخراجات نہیں کر سکیں گے، جبکہ شادیوں اور دیگر تقریبات پر غیر معمولی اخراجات کی صورت میں وضاحت دینا لازم ہوگا۔

پی ٹی آئی اراکین کا وفاق کے ’دوہرے معیار‘ پر سوال، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر سخت تنقید

کاشف عباسی ,May 16 ,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز)
پاکستان تحریک انصاف کے اراکینِ قومی اسمبلی نے قومی اسمبلی میں بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال پر وفاقی حکومت کے مبینہ دوہرے معیار پر سوالات اٹھا دیے۔

ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی عادل خان بازئی نے کہا کہ اگر خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا ذمہ دار صوبائی حکومت کو ٹھہرایا جاتا ہے تو پھر بلوچستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی پر وہاں کی حکومت سے سوال کیوں نہیں کیا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں غیر معمولی حفاظتی اقدامات، اضافی اختیارات اور سخت سیکیورٹی انتظامات کے باوجود دہشت گردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

عادل خان بازئی نے ایوان میں کہا،
“سوال یہ ہے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں؟ موجودہ صورتحال ملک کو تباہی کی طرف لے جا رہی ہے۔”

انہوں نے بلوچستان میں عوامی بے چینی، بدامنی اور حکومتی کارکردگی پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

اجلاس کے دوران ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے عادل بازئی کے بعض ریمارکس کارروائی سے حذف بھی کر دیے۔

پی ٹی آئی اراکین کا مؤقف تھا کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرتی ہے، لیکن بلوچستان میں مسلسل خراب ہوتی صورتحال پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔

ادھر مسلم لیگ ن کے رہنما اور وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ امن و امان کے معاملات بنیادی طور پر صوبائی نوعیت کے ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن اراکین چاہیں تو ان کی وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سے ملاقات کروا دی جائے تاکہ مسائل پر براہ راست بات چیت ہو سکے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق قومی اسمبلی میں ہونے والی یہ بحث ملک میں سیکیورٹی، صوبائی اختیارات اور وفاقی پالیسیوں سے متعلق بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے۔

اسلام آباد میں طلاق کے مقدمات میں خطرناک حد تک اضافہ، ہر گھنٹے درجنوں کیسز درج ہونے لگے

منصور احمد ,May 16,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز):
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں طلاق کے مقدمات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں خاندانی نظام پر بڑھتے دباؤ نے سماجی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

عدالتی ذرائع کے مطابق رواں سال اب تک مجموعی طور پر پینتالیس ہزار طلاق کے مقدمات دائر کیے جا چکے ہیں، جبکہ ہر ماہ تقریباً نو ہزار نئے کیسز فیملی کورٹس میں سامنے آ رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد میں روزانہ تین سو سے زائد طلاق کی درخواستیں دائر کی جا رہی ہیں، جبکہ اوسطاً ہر گھنٹے اڑتیس طلاقیں رجسٹر ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران طلاق کے مقدمات میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
سال دو ہزار تئیس میں پچاسی ہزار مقدمات دائر ہوئے، جو دو ہزار چوبیس میں بڑھ کر اکانوے ہزار تک پہنچ گئے، جبکہ دو ہزار پچیس میں یہ تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی۔

دوسری جانب وفاقی دارالحکومت میں روزانہ تیس سے زائد کورٹ میرجز بھی ریکارڈ کی جا رہی ہیں۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران اڑتیس ایسے واقعات بھی سامنے آئے جن میں شادی کے صرف ایک سے تین ماہ کے اندر ہی طلاق کی درخواستیں دائر کر دی گئیں۔

سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح معاشرتی ڈھانچے، خاندانی نظام اور نئی نسل کے مستقبل کے لیے ایک سنگین چیلنج بنتی جا رہی ہے۔

ماہرین نے والدین، تعلیمی اداروں، مذہبی رہنماؤں اور سماجی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ نوجوان نسل میں برداشت، باہمی احترام اور خاندانی ذمہ داریوں سے متعلق شعور اجاگر کیا جائے تاکہ اس بڑھتے ہوئے سماجی مسئلے پر قابو پایا جا سکے۔

بلوچستان کی ترقی اور نوجوانوں کے مسائل پر پیپلز پارٹی رہنما سردار حمزہ عباسی کی وفاقی وزیر سید عمران شاہ سے ملاقات

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز):
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر صاحبزادہ زین سلطان سردار حمزہ عباسی نے وفاقی وزیر سید عمران شاہ سے اہم ملاقات کی، جس میں بلوچستان کی سیاسی صورتحال، ترقیاتی منصوبوں، نوجوانوں کے مسائل اور عوامی فلاح و بہبود کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران سردار حمزہ عباسی نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا ایک اہم صوبہ ہے اور اس کی ترقی ملک کی مجموعی خوشحالی سے جڑی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ عوامی خدمت، جمہوریت کے استحکام اور محروم طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرتی رہی ہے۔

سردار حمزہ عباسی کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے نوجوان بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں، تاہم انہیں تعلیم، روزگار اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وہ ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبے کے درمیان مضبوط روابط اور باہمی تعاون کے ذریعے ہی بلوچستان کے دیرینہ مسائل کا مستقل حل ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے جبکہ دور دراز علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

سردار حمزہ عباسی نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ تمام سیاسی اور سماجی قوتیں مل کر بلوچستان میں امن، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کریں گی۔

اس موقع پر وفاقی وزیر سید عمران شاہ نے بلوچستان کی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی جلد تکمیل اور عوامی بہتری کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی۔

ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی جبکہ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے اور مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا

علیمہ خان کی عمران خان کی مبینہ قیدِ تنہائی کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر

کاشف عباسی ,May 15 ,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز):
پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے اڈیالہ جیل میں عمران خان کی مبینہ طویل قیدِ تنہائی کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان کو طویل عرصے سے تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، جو غیر قانونی اقدام اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

درخواست بیرسٹر سلمان صفدر اور سلمان اکرم راجہ کے توسط سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی۔

درخواست میں اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ، پنجاب کے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات، قومی احتساب بیورو کے چیئرمین، وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور ریاست کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ عمران خان کو قیدِ تنہائی سے نکالنے، اہل خانہ، وکلا اور پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کی اجازت دینے کے احکامات جاری کیے جائیں۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق جیل حکام نے ایک بار پھر پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی۔

پیپلز پارٹی حکومتی قانون سازی منصوبوں سے لاعلم، بلاول بھٹو زرداری

کاشف عباسی ,May 15 ,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز):
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ نون کی قیادت میں وفاقی حکومت نے نئی آئینی ترمیم یا کسی نئی قانون سازی کے حوالے سے اب تک پیپلز پارٹی سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں پیپلز پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ اور صدر آصف علی زرداری مسلسل وزیراعظم شہباز شریف سے رابطے میں ہیں، تاہم اٹھائیسویں آئینی ترمیم کے معاملے پر کوئی باضابطہ بات چیت نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر وفاقی حکومت کے لیے بجٹ سمیت کسی بھی اہم قانون سازی کی منظوری ممکن نہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترامیم میں پیپلز پارٹی کا کردار سب کے سامنے ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ صوبوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کیا اور کسی بھی ترمیم میں صوبائی اختیارات کم نہیں ہونے دیے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ قومی معاملات پر ان کی جماعت نے ہمیشہ ریاست اور جمہوریت کے مفاد میں فیصلے کیے ہیں اور آئندہ بھی تمام فیصلے عوامی مفاد کو سامنے رکھ کر کیے جائیں گے

پاک چین سفارتی تعلقات کے پچھتر سال مکمل، مرکزی تقریب پچیس مئی کو بیجنگ میں ہوگی

منصور احمد ,May 15,2026

اسلام آباد / بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز)
پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے پچھتر سال مکمل ہونے کے موقع پر مرکزی تقریب24 مئی کو بیجنگ میں منعقد ہوگی، جبکہ پاکستان چین کاروباری سرمایہ کاری کانفرنس چوبیس مئی کو منعقد کی جائے گی۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت اہم اجلاس میں پاک چین سفارتی تعلقات کی پچھترویں سالگرہ کی تقریبات کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم کو پاکستان چین کاروباری سرمایہ کاری کانفرنس کے انتظامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔

حکام کے مطابق کانفرنس میں پاکستان اور چین کے نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے اہم کاروباری شخصیات، سرمایہ کار اور دیگر متعلقہ نمائندے شرکت کریں گے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ اس کانفرنس کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان کاروباری روابط، سرمایہ کاری اور معاشی تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔

اسحاق ڈار نے ہدایت کی کہ تقریبات کو بھرپور، منظم اور باوقار انداز میں منعقد کیا جائے تاکہ پاکستان اور چین کی دیرینہ دوستی اور ہمہ موسمی تزویراتی شراکت داری کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات باہمی اعتماد، تعاون اور مشترکہ ترقی کی بہترین مثال ہیں۔

اجلاس میں وفاقی وزیر اطلاعات، چین کے سفیر اور اعلیٰ سرکاری حکام نے بھی شرکت کی۔

قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران ہنگامہ، آئی ٹی برآمدات میں اضافے اور اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل پر بحث

منصور احمد ,May 14,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز)
قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں وقفہ سوالات کے دوران مختلف قومی امور پر تفصیلی بحث کی گئی جبکہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے طویل تقاریر پر اعتراض اٹھا دیا۔

اجلاس کے آغاز پر رکن اسمبلی اقبال آفریدی نے کورم کی نشاندہی کی، جس پر کارروائی کچھ دیر کے لیے معطل رہی، تاہم بعد میں کورم مکمل ہونے پر اجلاس دوبارہ شروع ہوا۔

اجلاس کے دوران مردان میں طوفان سے ہونے والے نقصانات کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ رکن اسمبلی نعیمہ کشور نے متاثرین کے لیے فوری سروے اور معاوضوں کا مطالبہ کیا۔

وقفہ سوالات کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف نے ارکان کی طویل تقاریر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں مختصر سوال اور مختصر جواب کی روایت اپنائی جانی چاہیے۔

اس موقع پر بیرسٹر گوہر نے اپنی تقریر میوٹ کیے جانے پر احتجاج کیا، جبکہ طارق فضل چوہدری نے سیلاب سے قبل لاکھوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے اور صوبوں کو بروقت معلومات فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیر مملکت برائے اطلاعاتی ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے ایوان کو بتایا کہ رواں برس ملک کی آئی ٹی برآمدات چار اعشاریہ پانچ ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سالانہ پانچ لاکھ سے زائد بچوں کو تربیت دی جا رہی ہے۔

انہوں نے پانچ جی اسپیکٹرم نیلامی، بہتر فور جی سروس، سائبر فراڈ سے بچاؤ اور او ٹی پی و پن کوڈ کسی سے شیئر نہ کرنے سے متعلق آگاہی مہم کے بارے میں بھی بریفنگ دی۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے متعلق سوال کے جواب میں وفاقی وزیر سید عمران احمد شاہ نے کہا کہ دس اعشاریہ دو ملین افراد کی کفالت کی جا رہی ہے جبکہ بے نظیر ہنر مند پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو مختلف ہنر سکھائے جائیں گے۔

اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن کالجوں کی فیسوں میں اضافے کے معاملے پر حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ صرف دس فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ طلبہ کو پہلے ہی پچاس فیصد رعایت دی جا رہی ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر پارلیمانی سیکرٹری میاں خان بگٹی نے موٹر سائیکل سواروں کو ریلیف دینے اور مزید اقدامات پر غور کی یقین دہانی کرائی، جبکہ نعیمہ کشور نے لیوی میں اضافے کو عالمی مالیاتی ادارے کی شرائط سے جوڑا۔

اجلاس کے دوران شیر افضل مروت، شہریار آفریدی اور دیگر ارکان نے متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک سے پاکستانیوں کی بے دخلی، پارا چنار کے شہریوں کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کے اختیارات سے متعلق شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

عبدالقادر پٹیل نے صومالیہ میں قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کا معاملہ بھی ایوان میں اٹھایا، جس پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ ان کی رہائی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے، پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی بہتر ہوئی ہے اور کسی مخصوص مسلک کی بنیاد پر پاکستانیوں کی بے دخلی کا تاثر درست نہیں۔

بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا

سپریم کورٹ نے انور سیف اللہ خان کی سزا کالعدم قرار دے دی، لاہور ہائیکورٹ کا بریت فیصلہ بحال

منصور احمد ,May 14,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز):
سپریم کورٹ نے سابق وفاقی وزیر انور سیف اللہ خان کی سزا کے خلاف دائر نظرِثانی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کی سزا کالعدم قرار دے دی اور لاہور ہائی کورٹ کا بریت کا فیصلہ بحال کر دیا۔

عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ماضی میں کیے گئے کسی فعل پر بعد میں بننے والے قانون کے تحت زیادہ سزا نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے دو ہزار سولہ کا اکثریتی فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ انور سیف اللہ خان پر انیس سو چھیانوے کے الزامات کے تحت انیس سو ننانوے کے قومی احتساب آرڈیننس کا اطلاق درست نہیں تھا۔ عدالت کے مطابق استغاثہ رشوت لینے یا قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ صرف انتظامی بے ضابطگی کو مجرمانہ بدنیتی کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ نظرِثانی درخواست میں اگر ریکارڈ پر واضح غلطی موجود ہو تو اس کی اصلاح کرنا عدالت کی آئینی ذمہ داری ہے

پٹرولیم لیوی کی بدولت پاکستان کا مالیاتی خسارہ 27 سال کی کم ترین سطح پر آگیا

کاشف عباسی ,May 13 ,2026

اسلام آباد، نیوز اینڈ نیوز:
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے جولائی تا مارچ مالی سال کے دوران تقریباً تین دہائیوں کا کم ترین مالیاتی خسارہ ریکارڈ کیا ہے، جو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا صرف 0.7 فیصد رہا۔

رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارہ کم ہو کر 856 ارب روپے تک محدود رہا، جس کی بڑی وجوہات صوبوں کی جانب سے بجٹ سرپلس، پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) کی ریکارڈ وصولیاں اور قرضوں پر سود کی ادائیگیوں میں کمی قرار دی جا رہی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں حکومت کو 2.1 ٹریلین روپے کا تاریخی سرپلس حاصل ہوا تھا، تاہم دوسری سہ ماہی کے اختتام تک یہ کم ہو کر 542 ارب روپے رہ گیا، جبکہ تیسری سہ ماہی کے اختتام پر مجموعی طور پر 857 ارب روپے کا خسارہ سامنے آیا۔

وزارت خزانہ کے مطابق پٹرولیم لیوی حکومت کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ بن کر ابھری، جس میں 45 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور وصولیاں بڑھ کر 1.205 ٹریلین روپے تک پہنچ گئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود لیوی وصولیوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے لیے پٹرولیم لیوی کا ہدف 1.468 ٹریلین روپے مقرر کیا گیا تھا، جس کے تجاوز کرنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں اس مد میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

دوسری جانب دفاع، پنشن اور سبسڈی کے اخراجات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ریونیو اور جی ڈی پی کے تناسب میں کمی بھی دیکھی گئی۔ ماہرین کے مطابق مالیاتی نظم و ضبط اور صوبائی تعاون نے خسارہ محدود رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

بیرونِ ملک میڈیکل تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کیلئے پی ایم ڈی سی رجسٹریشن لازمی قرار

کاشف عباسی ,May 13 ,2026

اسلام آباد، نیوز اینڈ نیوز:
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے بیرونِ ملک میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ بیرونِ ملک روانگی سے قبل میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) پاس کریں اور اپنی رجسٹریشن لازمی مکمل کروائیں۔

پی ایم ڈی سی کے مطابق یہ اقدام پاکستان میں طبی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور طلبہ کے تعلیمی ریکارڈ کو منظم بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک میڈیکل تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی رجسٹریشن مستقبل میں ان کی ڈگریوں کی تصدیق اور پیشہ ورانہ معاملات میں معاون ثابت ہوگی۔

اعلامیے میں بتایا گیا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں قائم کمیٹی ملک میں میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم کے ریگولیٹری فریم ورک کو مزید مؤثر بنانے کے عمل کی نگرانی کر رہی ہے۔

اس سلسلے میں پی ایم ڈی سی کی ذیلی کمیٹی برائے ایکریڈیشن کا ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں جاری اصلاحات، ایکریڈیشن کے نظام اور رجسٹریشن کے عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ طبی تعلیم کے شعبے میں شفافیت، معیار اور آسان رجسٹریشن کے نظام کو یقینی بنایا جائے۔

پی ایم ڈی سی حکام کے مطابق اصلاحات کا مقصد نہ صرف ملکی سطح پر طبی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا ہے بلکہ بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی طلبہ کے لیے ایک واضح اور منظم ریگولیٹری نظام فراہم کرنا بھی ہے۔

پاکستانی بندرگاہوں کو علاقائی ٹرانزٹ اور ٹرانس شپمنٹ حب بنانے کیلئے اقدامات جاری، جنید انوار چوہدری

منصور احمد ,May 13,2026

اسلام آباد، نیوز اینڈ نیوز:
وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت پاکستانی بندرگاہوں کو علاقائی ٹرانزٹ اور ٹرانس شپمنٹ مرکز بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، تاکہ ملک کو خطے میں ایک اہم بحری تجارتی حب کے طور پر فروغ دیا جا سکے۔

وفاقی وزیر نے خطے کی بدلتی صورتحال کے تناظر میں بندرگاہوں کی تیاریوں اور سمندری تجارت کے فروغ سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں شپنگ لائنز، ٹرمینل آپریٹرز اور دیگر اہم اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔

اجلاس میں بلا تعطل سمندری تجارت، آپریشنل کارکردگی میں بہتری، فیڈر کنیکٹیویٹی کے استحکام اور کاروباری طریقہ کار کو آسان بنانے جیسے امور پر تفصیلی غور کیا گیا، جبکہ کراچی کو ایک قابلِ اعتماد میری ٹائم گیٹ وے کے طور پر فروغ دینے پر بھی زور دیا گیا۔

محمد جنید انوار چوہدری نے کہا کہ بندرگاہوں کی استعداد کار میں اضافے، لاجسٹکس نیٹ ورک کو مضبوط بنانے اور جدید فیڈر سروسز کے فروغ کے لیے جامع حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریگولیٹری نظام میں بہتری اور ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے بندرگاہی نظام کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔

اجلاس کے دوران ریگولیٹری چیلنجز، اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ہم آہنگی، ڈیٹنشن چارجز کے مسائل اور علاقائی کارگو کے حصول کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ ٹرمینلز کی ہینڈلنگ صلاحیت بڑھانے اور جدید سہولیات فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ ریئر ایڈمرل شاہد احمد (ر) نے اجلاس کو بتایا کہ کراچی بندرگاہ پر گاڑیوں اور ایس یو ویز کی ہینڈلنگ کے لیے اضافی جگہ مختص کر دی گئی ہے، جس سے تجارتی سرگرمیوں میں مزید آسانی پیدا ہوگی۔

وفاقی وزیر نے مزید ہدایت کی کہ ملک کی تینوں بڑی بندرگاہوں کی کارکردگی اور سہولیات کو اجاگر کرنے کے لیے باقاعدہ نیوز لیٹر جاری کیا جائے اور عالمی سطح پر مؤثر مارکیٹنگ کے ذریعے پاکستان کی بندرگاہوں کو بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور شپنگ کمپنیوں کے لیے مزید پرکشش بنایا جائے

ISSI میں سفیر جی آر بلوچ کی کتاب کی تقریبِ رونمائی

منصور احمد ,May 12,2026

اسلام آباد (اینڈ نیوز) انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹیڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) میں سفیر جی آر بلوچ کی کتاب “تیسری جہت کی پالیسی پرزم” کی تقریبِ منعقد ہوئی، جس میں سفارت کار، ماہر تعلیم، محققین اور میڈیا نمائندوں کی بڑی تعداد نے کہا۔

تقریب میں جنرل (ر) خالد نعیم لودھی، سابق سیکریٹری دفاع، سفیر مسعود خالد، ڈاکٹر منور حسین، ڈاکٹر شازیہ خالد چیمہ اور کالم نگار و اینکر فرخ پتی نے بطور مقرر شرکت کی۔

ڈائریکٹر سینٹر فار اسٹریٹجک پرسپیکٹیوز (ISSI) ڈاکٹر نیلم نگار نے اپنے ابتدائی کلمات میں سفیر جی آر بلوچ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے اپنی اہم تصنیف کے اجرا کے لیے ISSI کا انتخاب کیا، جو ادارے کے لیے اعزاز کی بات ہے۔

سفیر خالد محمود نے اپنے خطاب میں کتاب کو موجودہ عالمی سیاست میں ایک اہم علمی اضافہ قرار دیا۔ ان کے مطابق آج کی دنیا جیو پولیٹیکل مقابلے، ٹیکنالوجی، معیشت اور سیکیورٹی کے نئے چیلنجز سے گزر رہی ہے، جس میں اس نوعیت کی تحقیق انتہائی اہم ہے۔

مصنف سفیر جی آر بلوچ نے کہا کہ آج کا دور “بیانیوں کی جنگ” کا دور ہے، جہاں طاقت خیالات اور بیانیے کے ذریعے منتقل ہوتی ہے۔ ان کے مطابق یہ کتاب روایتی نصابی طرز کے بجائے ایک فکری مکالمہ ہے۔

جنرل (ر) خالد نعیم لودھی نے کہا کہ کتاب میں “تیسری جہت” کے تصور کے تحت خارجہ پالیسی میں اخلاقیات اور انسانیت کو بھی شامل کیا گیا ہے، جو اسے منفرد بناتا ہے۔

سفیر مسعود خالد نے کتاب کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اہم مسائل پر ایک جامع اور قابلِ فہم تجزیہ قرار دیا۔

ڈاکٹر منور حسین نے کہا کہ بین الاقوامی سیاست میں صرف طاقت نہیں بلکہ اقدار اور نظریات بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں، اور یہ کتاب اسی پہلو کو اجاگر کرتی ہے۔

ڈاکٹر شازیہ خالد چیمہ نے کہا کہ کتاب سیاسی بیانیوں، میڈیا اور ثقافتی عوامل کے ذریعے شناخت کی تشکیل کو واضح کرتی ہے۔

فرخ پتی نے کہا کہ یہ کتاب سفارتی اور تعلیمی دونوں حلقوں کے لیے اہم ہے اور اس میں جدید عالمی تبدیلیوں کو مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

تقریب کے اختتام پر کتاب کی باقاعدہ رونمائی کی گئی اور شرکاء میں یادگاری تحائف تقسیم کیے گئے