پارلیمانی کارکردگی کی بہترین مثال: عالیہ کامران دیگر ارکانِ اسمبلی کے لیے رول ماڈل ہیں، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا بجٹ اجلاس میں زبردست خراجِ تحسین

کاشف عباسی ,june 24,2026

اسلام آباد (پارلیمانی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے جمعیت علمائے اسلام (ف) سے تعلق رکھنے والی ممتاز رکنِ قومی اسمبلی عالیہ کامران کی ایوان کی اندرونی کارروائیوں میں انتہائی فعال شرکت اور موجودہ بجٹ اجلاس کے دوران بھرپور ہوم ورک و تیاری کے ساتھ اہم ضمنی سوالات اٹھانے پر ان کی زبردست الفاظ میں تعریف کی ہے۔ قومی اسمبلی کے مقتدر اجلاس کے دوران اسپیکر سردار ایاز صادق نے عالیہ کامران کی مجموعی پارلیمانی کارکردگی کو خصوصی طور پر سراہا اور کہا کہ انہوں نے جس مقتدر طریقے سے قومی اسمبلی کی کارروائی میں بھرپور حصہ لیا اور مکمل ریسرچ کے ساتھ ایوان میں عوامی نوعیت کے ضمنی سوالات اٹھائے، وہ بلاشبہ انتہائی قابلِ ستائش اور لائقِ تحسین ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے عالیہ کامران کی اس سنجیدگی اور پارلیمانی لگن کو ایوان کے دیگر تمام ارکان کے لیے ایک بہترین اور مقتدر مثال قرار دیا۔ انہوں نے قومی اسمبلی کے دیگر تمام اراکین پر زور دیا کہ انہیں بھی عالیہ کامران کی پیروی کرنی چاہیے اور اسی طرح مکمل تیاری، مطالعے اور گہری ریسرچ کے ساتھ اسمبلی کی روزمرہ کارروائی اور سوالات کے مقتدر سیشن میں حصہ لینا چاہیے، تاکہ عوام کے حقیقی مسائل کو زیادہ موثر اور تزویراتی انداز میں اجاگر کیا جا سکے اور ملک کے اس سب سے بڑے قانون ساز ادارے یعنی پارلیمان کا وقار عالمی سطح پر مزید بلند ہو۔

معاشی ترقی کی جانب مقتدر پیش رفت: ایس آئی ایف سی کی معاونت سے توانائی فراہمی اور ترسیل کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے تاریخی قدم، وائٹ آئل پائپ لائن منصوبے کی منظوری

کاشف عباسی ,june 24,2026

اسلام آباد (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کی مؤثر اور مقتدر سہولت کاری کے نتیجے میں پاکستان میں توانائی کے عالمی رابطوں اور تیل کی ترسیل کے مجموعی نظام کو مزید مستحکم اور مضبوط بنا دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایس آئی ایف سی کے مقتدر تعاون اور مشترکہ کاوشوں سے ماچھیکے-تھلیاں-تارو جبہ وائٹ آئل پائپ لائن منصوبے کی باقاعدہ منظوری عمل میں آ چکی ہے۔ یہ تزویراتی وائٹ آئل پائپ لائن منصوبہ ملک کے جنوبی اور شمالی حصوں کے درمیان پیٹرولیم مصنوعات اور تیل کی محفوظ ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم اور اسٹریٹجک راہداری فراہم کرے گا، جس سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

اس مقتدر منصوبے کے آغاز سے ملک بھر میں ایندھن کی بلا تعطل فراہمی کا نظام پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر اور تیز رفتار ہو جائے گا، جبکہ سڑکوں کے ذریعے تیل کی روایتی سپلائی کے مقابلے میں ترسیلی اخراجات میں بھی نمایاں کمی دیکھنے کو ملے گی۔ ماہرین کے مطابق ماچھیکے-تھلیاں-تارو جبہ وائٹ آئل پائپ لائن منصوبہ ملکی توانائی کے تحفظ کو ہر لحاظ سے مقتدر و مضبوط بنانے اور ملک میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کے فروغ میں کلیدی اور تاریخی کردار ادا کرے گا۔

اس مقتدر پائپ لائن منصوبے کی تعمیر اور آپریشنز کے باعث ملک میں انجینئرز اور دیگر شعبہ جات کے لیے روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا ہوں گے، جس سے مقامی معیشت کو سہارا ملے گا۔ اس کے ساتھ ہی، حکومتی سطح پر اس نوعیت کے بڑے منصوبوں کی کامیابی سے بین الاقوامی اور مقامی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مقتدر تقویت ملے گی۔ واضح رہے کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) اس وقت ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور قومی اہمیت کے حامل کلیدی انفراسٹرکچر منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے میں اپنا انتہائی فعال اور مقتدر ترین کردار ادا کر رہی ہے۔

سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: حقِ شفعہ کا دعویٰ مسترد، ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بحال، ہائی کورٹ اور اپیلیٹ کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار

منصور احمد june 24,2026

اسلام آباد (قانونی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے حقِ شفعہ سے متعلق ایک انتہائی اہم اور مقتدر مقدمے میں بڑا اصول وضع کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ دعویٰ شفعہ میں طلبِ مواثبت کی تاریخ، وقت اور مقام کا واضح طور پر ذکر کرنا قانونی طور پر لازمی ہے، بصورتِ دیگر ایسا کوئی بھی دعویٰ برقرار نہیں رہ سکتا۔ عدالتِ عظمیٰ نے اس مقتدر قانونی نکتے پر پشاور ہائی کورٹ اور اپیلیٹ کورٹ کے سابقہ فیصلے یکسر کالعدم قرار دے دیے ہیں، جبکہ ٹرائل کورٹ کا دعویٰ مسترد کرنے کا ابتدائی فیصلہ مکمل طور پر بحال کر دیا ہے۔

تفصیلی تحریری فیصلے کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل تین رکنی مقتدر بنچ نے شیرزالی و دیگر بنام سعد اللہ خان مقدمے کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے، جسے جسٹس شاہد بلال حسن نے خود تحریر کیا ہے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق سعد اللہ خان نامی شہری نے کوہاٹ میں واقع چھ کنال اور آٹھ مرلہ اراضی کے انتقال کے خلاف حقِ شفعہ کا دعویٰ دائر کیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ زمین کی فروخت کی اطلاع ملنے پر انہوں نے فوری طور پر طلبِ مواثبت اور بعد ازاں طلبِ اشہاد کی تمام قانونی کارروائی مکمل کی تھی، تاہم ٹرائل کورٹ نے ان کا دعویٰ اس مقتدر بنیاد پر مسترد کر دیا تھا کہ اصل درخواست میں طلبِ مواثبت کی مخصوص تاریخ اور مقام کا ذکر سرے سے غائب تھا۔ بعد ازاں اپیلیٹ کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر دعویٰ منظور کر لیا تھا، جس کے خلاف متاثرہ فریق نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے اپنے مقتدر فیصلے میں واضح الفاظ میں قرار دیا کہ حقِ شفعہ ایک انتہائی کمزور اور نازک حق ہے، جس کے استعمال کے لیے قانون میں مقرر کردہ تمام تقاضوں کی سختی سے پابندی کرنا بے حد ضروری ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے ریمارکس دیے کہ طلبِ مواثبت دراصل دعویٰ شفعہ کی بنیادی جڑ ہے اور اس کے مقررہ وقت، تاریخ اور مقام کا واضح ذکر اور پختہ ثبوت فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ اگر یہ بنیادی قانونی تقاضا ہی پورا نہ ہو تو بعد میں کی جانے والی تمام کارروائیاں اپنی قانونی حیثیت مکمل طور پر کھو دیتی ہیں۔

عدالت نے متعدد سابقہ عدالتی نظائر اور فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے مزید قرار دیا کہ بنیادی درخواست میں طلبِ مواثبت کی لازمی تفصیلات شامل نہ ہونا پورے دعوے کے لیے ایک مہلک نقص ہے، اور بعد میں پیش کیا جانے والا کوئی بھی ثبوت یا گواہی اس ابتدائی کمی کو کسی صورت پورا نہیں کر سکتی۔ سپریم کورٹ نے فیصلے میں یہ بھی لکھا کہ فروخت کی اطلاع ملنے کے ذرائع کی مکمل کڑی بھی ثابت نہیں کی جا سکی، جس سے طلبِ مواثبت کی قانونی حیثیت مزید مشکوک ہو جاتی ہے۔ عدالت نے نتیجتاً اپیل منظور کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ اور اپیلیٹ کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے، اور ٹرائل کورٹ کا دعویٰ مسترد کرنے کا فیصلہ بحال کرتے ہوئے واضح کیا کہ حقِ شفعہ کے دعوؤں میں قانونی تقاضوں کی معمولی خلاف ورزی بھی دعویٰ کے مستقل خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔

ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ وفاق سے متعلق آڈٹ رپورٹس اسی مالی سال کے دوران پارلیمان میں پیش؛ گزشتہ ایک دہائی سے جاری تاخیر کے سلسلے کا خاتمہ، کاغذ سے پاک ماحول کی جانب مقتدر پیش رفت

کاشف عباسی ,june 24,2026

اسلام آباد (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے بدھ کے روز قومی اسمبلی کے مقتدر اجلاس میں ایک بڑی ادارہ جاتی کامیابی حاصل کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان کے مالی سال 2024-25 کے تخصیصی حسابات اور آڈیٹر جنرل پاکستان کی جانب سے وفاقی حسابات سے متعلق آڈٹ سال 2025-26 کی آڈٹ رپورٹس باقاعدہ طور پر پیش کر دی ہیں۔ یہ تمام رپورٹس آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آرٹیکل 171 کے تحت قومی اسمبلی کے سرکاری کاروبار کے ایک لازمی اور مقتدر جز کے طور پر ایوان کے سامنے رکھی گئیں، جسے پاکستان میں عوامی مالیاتی نظم و نسق اور احتسابی نظام کی مضبوطی کی جانب ایک اہم ترین تزویراتی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ منفرد اور مقتدر ریکارڈ قائم ہوا ہے کہ وفاق سے متعلق آڈٹ رپورٹس کو بالکل اسی مالی سال کے دوران پارلیمان میں پیش کیا گیا ہے جس سے متعلق آڈٹ کا یہ پورا عمل انجام دیا گیا ہے۔ اس مقتدر پیش رفت سے نہ صرف آڈٹ رپورٹنگ کے روایتی نظام کو بروقت اور تیز رفتار بنانے کے عمل کو فروغ ملا ہے، بلکہ عوامی اخراجات پر پارلیمانی نگرانی کو ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ موثر، فعال اور بامعنی بنانے میں بھی بھرپور مدد ملے گی۔ اس مقتدر موقع پر ایوان سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ آڈٹ رپورٹس کی یہ بروقت پیشکش وفاقی حکومت کے اس پختہ عزم کا مظہر ہے کہ عوامی مالیات کے انتظام میں شفافیت، جوابدہی اور پارلیمانی نگرانی کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ انہوں نے اس اہم امر پر زور دیا کہ آڈٹ مشاہدات اس وقت زیادہ موثر اور سود مند ثابت ہوتے ہیں جب وہ بغیر کسی تاخیر کے بروقت پارلیمان کے سامنے پیش کیے جائیں تاکہ ان کی روشنی میں اصلاحی اقدامات بروقت اختیار کیے جا سکیں۔

وفاقی وزیرِ خزانہ نے اس تاریخی اور مقتدر کامیابی پر آڈیٹر جنرل پاکستان اور ان کی پوری ٹیم کی شاندار پیشہ ورانہ صلاحیتوں، محنت اور لگن کو زبردست الفاظ میں سراہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران آڈٹ رپورٹس کی پیشکش میں ہونے والی طویل اور غیر ضروری تاخیر کے تناظر میں یہ پیش رفت ایک نمایاں ترین ادارہ جاتی کامیابی ہے، جو ملک میں عوامی احتساب کے نظام کو مزید موثر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

رواں سال ایک اور مقتدر اور اہم ترین پیش رفت یہ بھی دیکھی گئی کہ یہ آڈٹ رپورٹس پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کو جدید ڈیجیٹل ذرائع سے فراہم کی گئی ہیں، جس کے نتیجے میں معزز اراکینِ پارلیمان کو تمام تر رپورٹس بیک وقت الیکٹرانک صورت (ای فارم) میں دستیاب ہوئیں۔ یہ تزویراتی اقدام پارلیمانی امور میں ڈیجیٹلائزیشن، کارکردگی میں مقتدر بہتری اور کاغذ سے پاک ماحول کی جانب ایک انقلابی پیش رفت ہے جسے آئندہ بھی مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے گا۔ آڈٹ رپورٹس کی اس بروقت اور ڈیجیٹل فراہمی کو پاکستان میں مالیاتی شفافیت، موثر حکمرانی، ادارہ جاتی جوابدہی اور عوامی وسائل پر پارلیمان کی نگرانی کے نظام کو مزید مستحکم بنانے کی جانب ایک بڑا اور مقتدر قدم مانا جا رہا ہے۔

نوجوان انجینئرز کے لیے شاندار موقع: پاکستان آرمی میں کیپٹن رینک پر ڈائریکٹ شارٹ سروس کمیشن کے تحت بھرتیاں شروع، آن لائن رجسٹریشن کا آغاز

منصور احمد june 24,2026

راولپنڈی (صنعی و عسکری رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

پاکستان آرمی نے ملک بھر کے لائق اور باصلاحیت ایروناٹیکل انجینئرز کے لیے ڈائریکٹ شارٹ سروس کمیشن کے تحت کیپٹن کے عہدے پر باقاعدہ اور مقتدر بھرتیوں کا بڑا اعلان کر دیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ بھرتی کے مطابق جوائن پاک آرمی کی آفیشل ویب سائٹ پر آن لائن درخواستوں کی وصولی کا مقتدر عمل شروع ہو چکا ہے، جو کہ جولائی کے وسط تک کامیابی سے جاری رہے گا۔ اطلاعات کے مطابق یہ اہم بھرتیاں پاکستان آرمی کی مقتدر اور معروف ‘کور آف الیکٹریکل اینڈ مکینیکل انجینئرز’ (ای ایم ای) کے لیے کی جا رہی ہیں، جس کے تحت نوجوان انجینئرز کو پاک فوج کا حصہ بن کر ملک و ملت کی خدمت کرنے کا سنہری موقع فراہم کیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں جاری کردہ مقتدر اشتہار کے تحت جن مخصوص فیلڈز اور شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے انجینئرز اپلائی کرنے کے مکمل اہل ہیں، ان میں ایوی ایشن / ایوی اونکس انجینئرنگ، ایرواسپیس انجینئرنگ، الیکٹریکل انجینئرنگ اور مکینیکل انجینئرنگ کے شعبے شامل ہیں۔ عسکری ذرائع سے بتایا گیا ہے کہ اس مقتدر بھرتی مہم کے لیے رجسٹریشن کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے آن لائن درخواستیں جمع کرانے کا سلسلہ 22 جون 2026ء سے شروع ہو چکا ہے، اور بھرتی کے خواہشمند تمام اہل امیدوار 12 جولائی 2026ء سے پہلے اپنی آن لائن درخواستیں اور تعلیمی اسناد لازمی جمع کرواسکتے ہیں۔ تمام اہل امیدوار گھر بیٹھے پاکستان آرمی کی آفیشل ویب سائٹ پر جا کر آن لائن فارم آسانی سے پُر کر سکتے ہیں۔

معلوم ہوا ہے کہ دور دراز علاقوں کے وہ امیدوار جن کے پاس انٹرنیٹ کی مناسب سہولت موجود نہیں ہے، ان کی سہولت کے لیے بھی مقتدر انتظامات کیے گئے ہیں۔ ایسے تمام امیدوار ملک بھر کے مختلف بڑے اور چھوٹے شہروں بشمول لاہور، کراچی، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ، ملتان اور فیصل آباد وغیرہ میں قائم اپنے قریبی ‘آرمی سلیکشن اینڈ ریکروٹمنٹ سینٹرز’ پر ذاتی طور پر تشریف لے جا کر بھی اپنی مقتدر رجسٹریشن کا عمل مکمل کروا سکتے ہیں۔ پاک فوج کے ان سلیکشن سینٹرز پر عملے کو امیدواروں کی رہنمائی کے لیے خصوصی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاکہ رجسٹریشن کے عمل کو شفاف اور تیز رفتار بنایا جا سکے۔

سیاسی تہذیب کا جنازہ: عمران خان نے ہماری سیاست کو جتنا نقصان پہنچایا 78 سال میں کسی نے نہیں پہنچایا، وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں مقتدر خطاب

https://images.openai.com/static-rsc-4/kBaE8tfPIruAhvxerlL3nxnKUugXBJKztmiDdPjrdH0UWmLh4EVkzIcASfKHYiVcmCs9g5j4kjRF2Hybp0ne-MVBabgsfaGiK28hHHQynHLzxTLUVYb7uEQ04WB6aRBgJNYSl3KndapbUWyucvHNFMBHke5GruZGMzy_U97vU2gapfMeVNrCmlcdNm1R9g_G?purpose=fullsize

منصور احمد june 24,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

وفاقی وزیرِ دفاع اور مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما خواجہ محمد آصف نے قومی اسمبلی کے انتہائی اہم اور تندوتیز اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) اور اس کے بانی عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے مقتدر الفاظ میں دعویٰ کیا کہ عمران خان نے ملکی سیاست، پارلیمانی نظام اور اخلاقی روایات کو جتنا نقصان پہنچایا ہے، پچھلے 78 سالہ ملکی تاریخ میں کسی اور شخصیت نے نہیں پہنچایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے اپنی حکومت کے دوران اپوزیشن کے خلاف انتقامی کارروائیوں کی بدترین مثالیں قائم کیں اور سیاست سے رواداری کا مکمل خاتمہ کر دیا۔

وزیرِ دفاع نے ماضی کے حکومتی رویوں کا ذکر کرتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ جب ہم اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے تھے، تو پی ٹی آئی کے وزراء اور ارکانِ اسمبلی ہم سے ہاتھ ملانے اور بات کرنے تک سے کتراتے تھے، انہیں صرف یہ خوف لاحق رہتا تھا کہ کہیں ان کی ہم سے بات چیت دیکھ کر عمران خان ناراض نہ ہو جائیں۔ اپوزیشن بینچوں پر موجود پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ اور اپوزیشن الائنس کے رہنما کا حوالہ دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ محمود خان اچکزئی پی ٹی آئی کے ساتھ بیٹھے ہوئے بہت عجیب لگتے ہیں، کیونکہ محمود اچکزئی کی اپنی ایک طویل، محترم اور مقتدر جمہوری تاریخ ہے، جبکہ پی ٹی آئی کی ایسی کوئی سیاسی یا آئینی روایت سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان شدید ترین سیاسی دشمنی کے دور میں بھی یہ خوبصورت روایت قائم تھی کہ ہم دن بھر کے سیاسی اختلافات کے باوجود رات کو کھانا ایک ساتھ کھاتے تھے۔

ماضی کی تلخیاں بھلا کر ملکی بقا کے لیے آگے بڑھنے کا فارمولا پیش کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے اعتراف کیا کہ ماضی میں اسپیکر کی مقتدر کرسی پر بیٹھ کر بھی پارٹی مفادات کے تحت یکطرفہ فیصلے دیے گئے، لیکن بعد میں ن لیگ اور پی پی پی نے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھا اور ملک کو ‘میثاقِ جمہوریت’ جیسا مقتدر تحفہ دیا۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں بالخصوص پی ٹی آئی کو ایک بار پھر دعوت دیتے ہوئے کہا کہ آئیں ہم سب مل کر ماضی کی غلطیوں کو درست کریں اور ملک کے استحکام کے لیے ایک نئے میثاقِ جمہوریت پر دستخط کریں، تاہم اس مقتدر اور سنجیدہ عمل کے لیے پی ٹی آئی کے ارکان کو بھی اپنے ماضی کے طرزِ عمل اور رویوں پر گہرائی سے نظرِ ثانی کرنی ہوگی۔

میڈیا بلیک آؤٹ: مولانا فضل الرحمان کے خطاب کے دوران پی ٹی وی اور لائیو اسٹریمنگ بند، اپوزیشن کا شدید احتجاج؛ عالمی سطح پر نیک نامی کمانے والی حکومت ملک کے اندر ساکھ گنوا رہی ہے، سربراہ جے یو آئی (ف)

https://images.openai.com/static-rsc-4/kRUjIXS1DgN4pIOmaZNFK1uOJTVtGr9zT5n-w0h8jyQV6cNLvo-zkxCF67NlUGBA5Siwbm8zn65tZymZXpjrF5Pquy1YDKsVSFI5sEGJFWYxjeT7z4s8br_WZZRy1ddTughjFU124BXUtxBHJT7zitX5-meXN9q7GJH-2D6UaVvbro6FLQp5YXq3VsuRealE?purpose=fullsize

منصور احمد june 24,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی کے انتہائی مقتدر اجلاس میں وفاقی حکومت، اسپیکر اور عسکری قیادت کے سیاسی کردار کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایوان میں ہلچل مچا دی ہے۔ تاہم، اس تندوتیز خطاب کے دوران ایک سنسنی خیز موڑ اس وقت آیا جب سرکاری ٹی وی کے چینل ‘پی ٹی وی پارلیمنٹ’ اور نیشنل اسمبلی کی آفیشل لائیو اسٹریمنگ کو اچانک اور مقتدر طور پر بند کر دیا گیا۔ ایوان کے اندر نصب اسکرینوں اور اسپیکرز پر بھی مولانا کی آواز کو دبا دیا گیا، جس پر اپوزیشن ارکان نے ڈیسک بجا کر شدید ترین احتجاج ریکارڈ کروایا۔

نشریات کی بندش سے قبل مولانا فضل الرحمان نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “جناب اسپیکر! کل آپ بھی ایوان میں ضرورت سے زیادہ بولے، کل آپ نے جو جذباتی گفتگو کی تھی، وہ آپ کے منصب کے شایانِ شان نہیں تھی اور آپ کو ایسی گفتگو سے گریز کرنا چاہئے تھا”۔ حکومتی بینچوں پر بیٹھی مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو ماضی کا آئینہ دکھاتے ہوئے امیر جے یو آئی (ف) نے کہا کہ جب میاں نواز شریف ہمارے ساتھ کنٹینر پر کھڑے ہوتے تھے، تو کیا وہ جلسوں میں آرمی چیف اور آئی ایس آئی کا نام نہیں لیتے تھے؟ کیا نواز شریف نے خود فوج کو ‘محکمہ زراعت’ کا مقتدر لقب نہیں دیا تھا؟ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت عالمی سطح پر (امریکا ایران معاہدے کے باعث) شاید نیک نامی کما رہی ہو، لیکن پاکستان کے اندر وہ اپنی تمام تر نیک نامی گنوا چکی ہے؛ پاکستان کی فوج کو سرحدوں کی حفاظت کرنی چاہئے، لیکن اسے ملک کے اندر سیاسی و انتظامی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

آزاد کشمیر کی حالیہ کشیدہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے عوامی ایکشن کمیٹی کے اس مقتدر فیصلے کا خیرمقدم کیا جس کے تحت انہوں نے مظفرآباد کی طرف اپنا لانگ مارچ فی الحال مؤخر کیا ہے۔ انہوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے شکوہ کیا کہ کل تک ہم عالمی فورمز پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا رونا روتے تھے، لیکن آج ہم خود اپنے آزاد کشمیر کے عوام کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں؟ وفاقی کابینہ کے رویے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایوان میں جو متنازع گفتگو کی، وہ ان کے منصب کے بالکل خلاف تھی۔ حکومت کی پالیسی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے مقتدر طنز کیا کہ آپ کی حکمتِ عملی سمجھ سے بالاتر ہے، کیونکہ آپ نے لڑائی کا ٹاسک خواجہ آصف کو اور صلح صفائی کا کام نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے حوالے کر رکھا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے اس مقتدر خطاب کو سنسر کیے جانے کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر بھی سیاسی درجہ حرارت شدید بڑھ گیا ہے۔

اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، جہلم اور چکوال سرکل کے صارفین کے مسائل کا موقع پر ہی ازالہ کیا جائے گا؛ ترجمان آئیسکو کی جانب سے فیس بک آئی ڈی اور ٹیلی فون نمبر جاری

روزینہ اسماعیل.june 23,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کے صارفین کے بجلی سے متعلقہ مسائل کے بارے میں بہتر اور براہِ راست آگاہی حاصل کرنے اور ان کے بروقت تدارک کے لیے چیف ایگزیکٹو آئیسکو کل بروز بدھ فیس بک لائیو اور ٹیلی فون پر آئیسکو ریجن کے تمام صارفین کی شکایات خود سنیں گے۔ آئیسکو کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، اس کھلی کچہری کا بنیادی مقصد صارفین کو بلا تعطل سفری صعوبتوں کے اپنے دہلیز پر ہی بجلی کے مسائل سے نجات دلانا ہے۔

ترجمان آئیسکو کے مطابق، چیف ایگزیکٹو آئیسکو انجینئر چوہدری خالد محمود کل صبح نو بجے سے لے کر دن گیارہ بجے تک اسلام آباد، راولپنڈی سٹی، راولپنڈی کینٹ، اٹک، جہلم، چکوال سرکلز اور ان کے تمام ملحقہ و گردونواح کے آئیسکو صارفین کے بجلی سے متعلقہ شکایات و مسائل سنیں گے۔ ان شکایات کے فوری اور بروقت حل کے لیے تادیبی و انتظامی احکامات موقع پر ہی متعلقہ فیلڈ دفاتر کو جاری کیے جائیں گے۔

آئیسکو کے تمام صارفین چیف ایگزیکٹو سے براہِ راست بات کرنے، اپنے بجلی کے مسائل کا اندراج کروانے اور ان کے فوری ازالے کے لیے کمپنی کی آفیشل فیس بک آئی ڈی اور باقاعدہ ٹیلی فون نمبر (0519253105) پر مقررہ اوقاتِ کار کے دوران رابطہ قائم کر سکتے ہیں۔ ترجمان نے صارفین سے مقتدر اپیل کی ہے کہ وہ شکایات کے تیز رفتار اندراج اور کونسلنگ کے دوران اپنا اصل نام، بجلی کے بل پر درج چودہ ہندسوں کا ریفرنس نمبر اور اپنا فعال رابطہ نمبر لازمی فراہم کریں تاکہ ان کے مسائل کی کمپیوٹرائزڈ ٹریکنگ کی جا سکے۔

سیاحتی مقامات پر ہائی الرٹ: مری اور گلیات میں تیز بارشوں کا نیا سلسلہ متوقع، ریسکیو 1122 کے تمام وسائل متحرک

منصور احمد june 22,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء

ملکہ کوہسار مری، گلیات اور ان کے مروجہ گرد و نواح میں آئندہ چند روز کے دوران گرج چمک، تیز تند ہواؤں اور موسلا دھار بارشوں کی نئی پیش گوئی کے پیشِ نظر پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 مری نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ خراب موسم اور ممکنہ ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹنے کے لیے تمام دستیاب ایمرجنسی وسائل، اسپیشلائزڈ ریسکیو ٹیموں اور کنٹرول روم کے عملے کو فیلڈ مارشل ڈسپلن کے تحت مکمل طور پر متحرک کر دیا گیا ہے۔ ریسکیو 1122 مری کے ترجمان کے مطابق، حالیہ موسمیاتی رپورٹس میں مختلف اوقات کے دوران شدید موسمی سرگرمیوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس کے باعث مقتدر انتظامیہ کی جانب سے تمام حفاظتی اور قبل از وقت انتظامی اقدامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔

ترجمان نے تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ خراب موسم کے دوران کسی بھی ناگہانی آفت یا حادثے کی صورت میں فوری رسپانس کو یقینی بنانے کے لیے فائر وہیکلز، جدید ایمبولینسز اور ہیوی ریسکیو اہلکاروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رکھا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق، ان شدید پہاڑی بارشوں کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ ، پتھر اور درخت گرنے، سڑکوں پر شدید پھسلن، ٹریفک حادثات اور نشیبی برساتی ندی نالوں میں اچانک طغیانی کے شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اسی تزویراتی تناظر میں مری آنے والے سیاحوں اور مقامی شہریوں کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری طویل سفر سے مکمل گریز کریں اور ندی نالوں یا خطرناک چٹانی گزرگاہوں سے دور رہیں۔ ریسکیو 1122 نے عوام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری مدد کے لیے ہیلپ لائن 1122 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

محرم الحرام کے دوران جلوسوں اور امام بارگاہوں کی سخت نگرانی؛ سیف سٹی کنٹرول روم کے عملے کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت

منصور احمد june 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیف سٹی اسلام آباد عباس مہدی نے ‘محافظ محرم کنٹرول روم’ کے افسران و عملے کو ایک اہم اور مقتدر بریفنگ دی ہے، جس میں محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی نگرانی، مانیٹرنگ اور رسپانس میکنزم کو مزید فول پروف اور مضبوط بنانے کے لیے تزویراتی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ اتوار کو سرکاری خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کو تفصیلات بتاتے ہوئے سیف سٹی حکام نے کہا کہ اس اہم بریفنگ کا بنیادی فوکس جدید سیف سٹی سرویلنس کیمرہ سسٹم کے ذریعے وفاقی دارالحکومت کی تمام امام بارگاہوں اور جلوس کے مروجہ راستوں کی چوبیس گھنٹے موثر ترین نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔

عباس مہدی نے کنٹرول روم کے افسران کو سخت احکامات جاری کیے کہ وہ مسلسل چوکس رہیں اور اسلام آباد میں ہونے والے تمام مذہبی اجتماعات اور ماتمی جلوسوں کی جامع ترین کوریج کو مانیٹر کریں۔ حکام کے مطابق اس موقع پر ‘محافظ محرم ایپ’ کے ذریعے موصول ہونے والی شہریوں کی تمام ایمرجنسی کالز کو اولین ترجیح دینے اور ان پر سیکنڈز کے اندر فوری ایکشن لینے کی خصوصی ہدایات دی گئیں تاکہ بروقت ریسکیو اور عوامی مدد کی سہولت فراہم کی جا سکے۔ بریفنگ کے دوران کنٹرول روم اور فیلڈ فارمیشنز کے درمیان موثر اسٹرٹیجک کوآرڈینیشن پر بھی زور دیا گیا تاکہ کسی بھی ابھرتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال سے فوری نمٹا جا سکے، جبکہ فیلڈ مارشل ڈسپلن کے تحت عملے کو تمام دستیاب تکنیکی وسائل کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

محرم الحرام کے جلوسوں کے دوران ٹریفک پلان پر سختی سے عمل کیا جائے، مختص پارکنگ کا استعمال لازمی، سی ٹی او اسلام آباد

منصور احمد june 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) اسلام آباد کائنات اظہر خان نے محرم الحرام کے جلوسوں اور مجالس کے دوران بہترین نظم و ضبط اور ٹریفک قوانین کی مقتدر تعمیل پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ زائرین اور شہری صرف اور صرف پارکنگ کی مخصوص جگہیں استعمال کریں، اسلام آباد ٹریفک پولیس (آئی ٹی پی) ٹریفک کی روانی کے لیے سیکیورٹی و ٹریفک پلان پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔ اتوار کو ایک مقامی میڈیا چینل سے مقتدر گفتگو کرتے ہوئے چیف ٹریفک آفیسر اسلام آباد نے محرم کے جلوسوں کے دوران منظم طرزِ عمل کی اہمیت اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے انتظامیہ کی ہدایات پر عمل درآمد پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے تاکہ سڑکوں پر کسی بھی قسم کی تکلیف اور بھیڑ سے بچا جا سکے، ٹریفک پلان کی کسی بھی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور مذہبی اجتماعات کے دوران پریشانی سے بچنے کے لیے سخت انتظامی اقدامات کیے جائیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں سی ٹی او کائنات اظہر خان نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور راولپنڈی و اسلام آباد کے درمیان انٹر سٹی نقل و حرکت میں اضافے کی وجہ سے خاص طور پر ویک اینڈ پر بڑی شاہراہوں پر ٹریفک کا شدید دباؤ دیکھنے کو ملتا ہے، جس کے لیے اسلام آباد پولیس ٹریفک بہاؤ کو منظم کرنے کے لیے فعال اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے موٹر سائیکل سواروں کو خصوصی مشورہ دیا کہ وہ مروجہ سپیڈ لین کی پابندی کریں، ہیلمٹ لازمی پہنیں اور لاپرواہی سے ڈرائیونگ کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے دارالحکومت میں قانون کے مقتدر نفاذ کے لیے سیف سٹی کیمروں کے تزویراتی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے خبردار کیا کہ سیف سٹی نیٹ ورک کے ذریعے ٹریفک کی تمام خلاف ورزیوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور ای چالاننگ کے ذریعے کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے، لہٰذا کسی بھی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ دوسرے ترقی یافتہ ممالک کی طرح یہاں بھی ٹریفک قوانین کا احترام کیا جائے تاکہ ایک محفوظ روڈ نیٹ ورک قائم ہو سکے۔

کامیاب سفارت کاری سے پاکستان کا عالمی وقار بلند ہوا، معاشی ترقی کے لیے زراعت اور صنعت میں ہنگامی سرمایہ کاری ناگزیر ہے، آئی ایم ایف پر انحصار ختم کرنے کے لیے برآمدات بڑھائی جائیں، قومی اسمبلی میں بجٹ بحث کے دوران پیپلز پارٹی کی رہنما ڈاکٹر نفیسہ شاہ کا مقتدر خطاب

منصور احمد june 19,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی مرکزی رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے ملک کی حالیہ خارجہ پالیسی، سٹرٹیجک فیصلوں اور خطے میں ہونی والی عظیم سفارتی کامیابیوں پر ملک کی سیاسی و عسکری قیادت کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے، سرکاری خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کے مطابق قومی اسمبلی کے اہم ترین اجلاس میں جمعہ کے روز وفاقی بجٹ پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے ایم این اے ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ پاکستان نے اپنی بہترین، دور اندیش اور مخلصانہ سفارت کاری کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ کے بحران میں امن کو جتوایا ہے، جس کی بدولت عالمی سطح پر ملک کا سفارتی وقار حد سے زیادہ بلند ہوا ہے اور جنگ و انتہا پسندی کے نظریات کو عبرتناک شکست ہوئی ہے، انہوں نے واضح کیا کہ خلیجی ممالک (جی سی سی) کے ساتھ پاکستان کے موجودہ برادرانہ و اقتصادی تعلقات قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کے تاریخی وژن کا تسلسل ہیں جو ملکی معیشت کو نئی اور پائیدار راہ پر گامزن کریں گے۔

ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے ملکی معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے کڑے شکنجے سے مستقل نجات حاصل کرنے کے لیے پارلیمنٹ اور حکومت کے سامنے مقتدر تجاویز پیش کیں، انہوں نے اصرار کیا کہ پاکستان جیسے کثیر الآبادی والے ملک کی تیز رفتار معاشی ترقی کے لیے زراعت اور صنعت (انڈسٹری) کے شعبوں میں ہنگامی بنیادوں پر بھاری سرمایہ کاری کی جائے اور ملکی ترقی کے لیے وضع کردہ ’’اڑان پاکستان‘‘ وژن کے تحت تمام معاشی اہداف کو بروقت حاصل کیا جائے، پیپلز پارٹی کی رہنما نے قومی اسمبلی کے فلور پر کڑا زور دیا کہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے اور ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے ملکی برآمدات (ایکسپورٹس) کے راستے میں حائل تمام بیوروکریٹک اور ٹیکس رکاوٹوں کو فی الفور دور کیا جائے۔

انہوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ ملکی معیشت کی حقیقی ریڑھ کی ہڈی یعنی کسانوں اور زمینداروں کو کھاد، بیج اور بجلی پر زیادہ سے زیادہ ریلیف اور جدید سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ملکی زرعی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ممکن ہو سکے، ڈاکٹر نفیسہ شاہ کا کہنا تھا کہ کسان خوشحال ہوگا تو پاکستان معاشی طور پر مضبوط اور خودکفیل بنیادوں پر استوار ہو سکے گا، انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ موجودہ سٹرٹیجک بجٹ میں ان کی پیش کردہ تجاویز کو شامل کر کے ملک کو معاشی خود مختاری کی طرف لے جایا جائے گا۔

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کا تھیلیسیمیا کے خلاف تاریخی اور انقلابی اقدام، شادی سے پہلے خون کا ٹیسٹ لازمی قرار دینے پر شدید زور، قومی اسمبلی سے لازمی اسکریننگ بل بھاری اکثریت سے پاس، نوزائیدہ بچوں کو موذی مرض سے بچانے کے لیے ملک کی پہلی موبائل وین کا باقاعدہ افتتاح

منصور احمد june 11,2026

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 11 جون 2026ء

پاکستان میں معصوم بچوں کو تھیلیسیمیا جیسے جان لیوا اور موذی مرض سے مستقل نجات دلانے کے لیے وفاقی حکومت نے ایک بہت بڑا اور تاریخی فیصلہ کر لیا ہے جس کے تحت وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے ملک میں تھیلیسیمیا کے مسلسل بڑھتے ہوئے کیسز پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شادی سے قبل اسکریننگ ٹیسٹ کو قانونی طور پر لازمی قرار دینے پر سب سے زیادہ زور دیا ہے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان کی تاریخ کی پہلی ”تھیلیسیمیا موبائل وین“ کی پروقار افتتاحی تقریب سے مخلصانہ خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ پاکستان میں اس وقت تھیلیسیمیا کے کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد انتہائی خطرناک اور تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے اور حکومت سمیت پورے معاشرے کی مجرمانہ غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے ہر سال معصوم بچے اس دردناک بیماری کے ساتھ پیدا ہو رہے ہیں، انہوں نے اصرار کیا کہ شادی سے پہلے کا یہ لازمی ٹیسٹ کم از کم مردوں کے لیے فوری طور پر قانونی شکل میں نافذ ہونا چاہیے کیونکہ جب دو کیریئرز یعنی اس بیماری کے جراثیم رکھنے والے مرد اور عورت کی آپس میں شادی ہوتی ہے تو ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچے میں تھیلیسیمیا میجر کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے، اسی طرح قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے اہم اجلاس میں خصوصی شرکت کے دوران وفاقی وزیر نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کمپلسری تھیلیسیمیا اسکریننگ بل کی مکمل اور غیر مشروط حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وزارت اس بل کو ملک بھر میں نافذ کرنے کے لیے تیار ہے اور قانون میں یہ شق لازمی شامل ہونی چاہیے کہ شادی کے بندھن میں بندھنے والے ہر دلہے کا تھیلیسیمیا ٹیسٹ ہو اور اگر دلہا پازیٹو آ جائے تو دلہن کا بھی فوری ٹیسٹ کروایا جائے کیونکہ ہم صرف اور صرف اس سخت قانون سازی کے ذریعے ہی اپنی آنے والی نسلوں اور معصوم بچوں کو تھیلیسیمیا کی معذوری سے بچا سکتے ہیں، اس کے ساتھ ہی انہوں نے مریضوں کی سہولت کے لیے ایک اور بڑا اعلان کیا کہ اب بون میرو ٹرانسپلانٹ جیسے مہنگے اور پیچیدہ علاج سے پہلے لی جانے والی تمام سرکاری منظوریاں اور شرطیں فوری ختم کر دی گئی ہیں تاکہ بچوں کا بروقت علاج ممکن ہو سکے۔

طبی ماہرین اور وزارتِ صحت کے ذرائع کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت کی انتھک کوششوں کے بعد اب نیشنل اسمبلی نے اس تاریخی بل کو باقاعدہ پاس کر دیا ہے جس کے بعد اب اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کمپلسری تھیلیسیمیا اسکریننگ ایکٹ کے تحت چند انتہائی اہم اور سخت ترین قوانین لاگو کر دیے گئے ہیں جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں: ۱۔ اب وفاقی دارالحکومت میں شادی سے پہلے دلہا اور دلہن دونوں کے لیے تھیلیسیمیا کی بلڈ اسکریننگ کروانا قانونی طور پر لازمی ہو گا۔ ۲۔ تھیلیسیمیا کے موجودہ مریضوں کے تمام خون کے قریبی رشتہ داروں کو باقاعدہ طبی کونسلنگ کے ذریعے مشورہ دیا جائے گا کہ وہ بھی شادی سے قبل اپنا بلڈ ٹیسٹ لازمی کروائیں۔ ۳۔ ایسی تمام حاملہ خواتین جو اس مرض کی کیریئر ہیں اور ان کے شوہر بھی کیریئر پائے گئے ہیں تو اس جوڑے کی باقاعدہ اجازت کے ساتھ حمل کے دوران ہی اینٹینٹل ٹیسٹ کیا جائے گا تاکہ بچے کی صحت کا قبل از وقت پتہ چل سکے۔ ۴۔ ملک بھر میں ہونے والے ان تمام ٹیسٹوں کے نتائج کو ایک مرکزی ڈیٹا بینک میں رجسٹر کیا جائے گا تاکہ ملک میں تمام کیریئرز کا ایک باقاعدہ اور محفوظ ریکارڈ موجود رہے۔ ۵۔ تمام غیر سرکاری اداروں اور تھیلیسیمیا سینٹرز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے مجموعی بجٹ کا کم از کم دس فیصد حصہ لازمی طور پر پیدائش سے پہلے کی تشخیص یعنی پری نیٹل ڈائیگنوسس کی جدید سہولیات پر خرچ کریں گے۔

طبی مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق تھیلیسیمیا بنیادی طور پر خون کی ایک موروثی اور خطرناک بیماری ہے جس کی تین بڑی اقسام مائنر، میجر اور انٹرمیڈیا ہیں، جن میں سے میجر کی قسم میں مبتلا معصوم بچوں کو زندہ رہنے کے لیے زندگی بھر مہینے میں ایک سے دو بار باہر سے نیا خون لگوانا پڑتا ہے جس پر ہزاروں روپے کی مہنگی ادویات کا ماہانہ خرچہ آتا ہے جبکہ اس بیماری کی تشخیص محض ایک انتہائی سادہ اور سستے خون کے ٹیسٹ سی بی سی اور ایچ بی اے ٹو لیول کے ذریعے باآسانی ہو جاتی ہے، اس بیماری کا مستقل علاج صرف خون کی منتقلی اور بون میرو ٹرانسپلانٹ ہے لیکن بدقسمتی سے اس کے لیے ڈونر ملنا انتہائی مشکل عمل ہے کیونکہ پچاس ہزار افراد میں سے محض ایک شخص کا بون میرو میچ کرتا ہے، اسی حساس صورتحال کے پیشِ نظر وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے ملک بھر کے والدین کے نام اپنے ایک اہم ترین پیغام میں اپیل کی ہے کہ یہ تمام والدین کی اولین اور بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی شادیوں سے قبل یہ ٹیسٹ کروا کر اپنے بچوں کو تھیلیسیمیا جیسی عمر بھر کی اذیت سے بچائیں کیونکہ یہ اب صرف صحت کا ایک عام مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ہمارے پورے خاندان، آنے والی نسلوں اور پورے معاشرے کی بقا اور حفاظت کا انتہائی سنگین معاملہ ہے۔

بجٹ 26-2025ء سے قبل وفاقی حکومت کا بڑا معاشی ایکشن، ای سی سی نے اربوں روپے کے اہم مالی اور ترقیاتی فیصلوں کی منظوری دے دی، پی ایس او کے لیے ۱۰۰ ارب روپے کی فنانسنگ سہولت اور ترقیاتی اسکیموں کے لیے اضافی فنڈز جاری کرنے کا فیصلہ

کاشف عباسی ,june 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

نئے مالی سال چھبیس ستائیس (27-2026) کے وفاقی بجٹ کی پیشکشی سے عین قبل حکومت کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے جمعہ کے روز ایک اہم ترین اجلاس میں بڑے مالی اور ترقیاتی فیصلوں کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جس کے تحت چالیس ارب روپے سے زائد کی سپلیمنٹری گرانٹس اور شدید مالی بحران کے شکار ادارے پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے لیے سو ارب روپے کی ہنگامی فنانسنگ سہولت شامل ہے، اسلام آباد سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق یہ اعلٰی سطح کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت منعقد ہوا جس میں ملک کے مختلف نازک مالی امور، سرکاری اداروں کی فوری ضروریات اور توانائی کے شعبے کو درپیش گردشی قرضوں کے سنگین مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا، اجلاس میں ای سی سی نے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان اسٹیٹ آئل کے لیے سو ارب روپے کی خودمختار ضمانت یعنی سوورن گارنٹی پر مبنی فنانسنگ کی خصوصی منظوری دی، عسکری و حکومتی حکام کے مطابق پی ایس او کو اس وقت دیگر مختلف سرکاری اداروں سے نو سو ارب روپے سے زائد کی خطیر واجب الادا رقوم کی عدم وصولی کا سامنا ہے جس کے باعث ملک میں تیل کی سپلائی چین متاثر ہونے اور ایندھن کی قلت کے شدید خدشات پیدا ہو رہے تھے، کمیٹی نے اس بحران کو ٹالنے کے ساتھ ساتھ چالیس ارب روپے سے زائد کی اضافی گرانٹس کی بھی منظوری دی جبکہ ارکانِ پارلیمنٹ کی مختلف ترقیاتی اسکیموں کے لیے دس ارب روپے کی اضافی فنڈنگ جاری کرنے کی بھی باقاعدہ اجازت دی گئی ہے، مزید برآں پائیدار ترقیاتی اہداف پروگرام کے تحت جاری منصوبوں کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے سات اعشاریہ صفر دو چھ (7.026) ارب روپے کی تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹ بھی منظور کی گئی ہے، ایک اور اہم فیصلے کے تحت ای سی سی نے مختلف وفاقی وزارتوں اور سرکاری محکموں میں ملازمین کے لیے خصوصی اعزازیہ کے دائرہ کار کو مزید وسعت دے دی ہے جس میں اب لا اینڈ جسٹس ڈویژن، کامرس ڈویژن اور اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان ریونیو کو بھی شامل کر لیا گیا ہے جبکہ یہ سہولت پہلے سے ہی وزارتِ خزانہ، ریونیو، پلاننگ، ایف بی آر، قومی اسمبلی، سینیٹ اور وزیراعظم آفس جیسے اعلٰی ترین اداروں کو حاصل تھی، اجلاس کے دوران گلگت بلتستان میں ہونے والے آئندہ انتخابات سے قبل وہاں کے لیے چار اعشاریہ تین اٹھ (4.38) ارب روپے کی خطیر خصوصی گرانٹ کی بھی فوری منظوری دی گئی، وزارتِ خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام اہم ترین فیصلے جاری مالی سال کے اختتامی مرحلے میں ناگزیر حکومتی ضروریات کو پورا کرنے اور ملکی ترقیاتی کاموں کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے کیے گئے ہیں جبکہ دوسری جانب نئے بجٹ کی تیاریاں اب اپنے آخری اور حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔

نور مقدم قتل کیس میں بڑی پیش رفت، سپریم کورٹ نے مجرم ظاہر جعفر کی نظرثانی درخواست مسترد کر دی، سزائے موت برقرار رکھنے کا حکم

محمود احمد june 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 04 جون 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملک کے مشہور اور انتہائی حساس نور مقدم قتل کیس میں مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی جانب سے دائر کی جانے والی نظرثانی کی درخواست کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے ان کی سزائے موت کو برقرار رکھنے کا حتمی حکم جاری کر دیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کے اس تاریخی فیصلے کے بعد مجرم کی پھانسی سے بچنے کی آخری قانونی کوشش بھی بری طرح ناکام ہو گئی ہے۔

تین رکنی بینچ کا فیصلہ اور عدالتی ریمارکس رپورٹ کے مطابق، سپریم کورٹ کے معزز جج جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں قائم تین رکنی خصوصی بینچ نے کیس کی تفصیلی سماعت کی۔ عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر قرار دیا کہ ریکارڈ پر موجود تمام شواہد، گواہیاں اور سابقہ عدالتی فیصلے بالکل آئین اور قانون کے مطابق ہیں، اس لیے ماتحت عدالتوں کے فیصلوں میں کسی بھی قسم کی مداخلت کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔

کیس کا پسِ منظر اور سابقہ فیصلے یہ ہائی پروفائل مقدمہ جولائی دو ہزار اکیس میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پیش آنے والے نور مقدم کے بہیمانہ قتل سے متعلق ہے، جس نے اس وقت پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور عوامی سطح پر شدید ترین ردعمل پیدا ہوا تھا۔ یاد رہے کہ مقتولہ نور مقدم، پاکستان کے ایک سابق سفارتکار کی بیٹی تھیں جنہیں اسلام آباد میں بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔ اس لرزہ خیز واقعے کے بعد ماتحت عدالت نے ظاہر جعفر کو قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا۔

مجرم کے لیے تمام قانونی راستے بند قانونی ماہرین کے مطابق، سپریم کورٹ کی جانب سے نظرثانی کی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد اب مجرم ظاہر جعفر کے لیے عدالتی سطح پر دستیاب تمام اہم ترین قانونی راستے اور چارہ جوئیاں تقریباً ختم ہو چکی ہیں۔ اس فیصلے کو پاکستان میں خواتین کے تحفظ، سنگین جرائم کے سداد اور انصاف کی فوری فراہمی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور سنگِ میل پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

اسلام آباد میں نئی توانائی پالیسی کا نفاذ؛ مارکیٹس، شاپنگ مالز اور شادی ہالز کے اوقات کار محدود کرنے کا فیصلہ

منصور احمد june 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں توانائی کے مؤثر استعمال اور وفاقی حکومت کی کفایت شعاری پالیسی کے تحت کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کار کو محدود کرنے کا ایک بڑا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ نوٹیفکیشن کے مطابق یکم جون 2026ء سے شہر بھر کی تمام چھوٹی بڑی دکانیں، تجارتی مارکیٹس اور شاپنگ مالز رات 8 بجے لازمی بند کرنے ہوں گے۔

اہم اور ہنگامی خدمات کے لیے استثنیٰ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، عوام کی سہولت کے لیے بعض انتہائی اہم اور ضروری خدمات کو اس وقت کی پابندی سے مکمل طور پر مستثنیٰ (آزاد) قرار دیا گیا ہے۔ شہر بھر میں قائم فارمیسیاں (میڈیکل اسٹورز)، ہسپتال، پیٹرول پمپس، سی این جی اسٹیشنز، دودھ اور ڈیری کی دکانیں، جمنازیم، کھیلوں کی دیگر سہولیات، انٹرنیشنل کال سینٹرز اور معلوماتی ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے شعبے سے وابستہ کمپنیاں معمول کے مطابق اپنے اوقات کار جاری رکھ سکیں گی اور ان پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوگی۔

ریسٹورنٹس، کریانہ اور سبزی فروشوں کے لیے رعایت ضلعی انتظامیہ نے ریسٹورنٹس، فوڈ آؤٹ لیٹس، تندوروں، کریانہ و جنرل اسٹورز، گوشت فروشوں، پھل اور سبزی کی دکانوں کو خصوصی رعایت دیتے ہوئے انہیں رات 10 بجے تک کاروبار جاری رکھنے کی اجازت دی ہے۔ اس کے علاوہ، شہریوں کی سہولت کے لیے ہوٹلوں سے کھانا ساتھ لے جانے (ٹیک اوے) اور گھروں تک ترسیل (ہوم ڈیلیوری) کی خدمات رات 10 بجے کے بعد بھی معمول کے مطابق جاری رکھی جا سکیں گی۔

شادی ہالز اور نجی تقریبات پر پابندی سرکاری نوٹیفکیشن میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ تمام شادی ہالز، مارکیز اور دیگر تقریباتی مقامات کو بھی رات 10 بجے ہر حال میں بند کیا جائے گا۔ انتظامیہ کے مطابق، یہ پابندی نہ صرف کمرشل ہالز بلکہ نجی مقامات یا گھروں کے باہر منعقد ہونے والی دیگر سماجی تقریبات پر بھی یکساں لاگو ہوگی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

حکومتی اقدام کا مقصد اور نفاذ کی تاریخ اسلام آباد انتظامیہ کے مطابق، ان نئے کاروباری اوقات کار کا بنیادی مقصد ملک میں توانائی کے غیر ضروری استعمال اور فضول خرچی میں واضح کمی لانا اور حکومتی سطح پر جاری کفایت شعاری کے اقدامات کو مؤثر بنانا ہے۔ یہ احکامات یکم جون 2026ء سے باقاعدہ طور پر نافذ العمل ہوں گے اور ضلعی انتظامیہ کے آئندہ پیداواری احکامات تک سختی سے برقرار رہیں گے۔

تمام دکانیں، تجارتی مارکیٹس اور شاپنگ مالز: رات 8 بجے تک
ریسٹورنٹس، تندور، کریانہ، گوشت اور پھل و سبزی فروش: رات 10 بجے تک
شادی ہالز، مارکیز اور نجی تقریباتی مقامات: رات 10 بجے تک
فارمیسیاں، ہسپتال، پیٹرول پمپ، کال سینٹرز اور آئی ٹی کمپنیاں: پابندی سے مکمل مستثنیٰ
حکام کا کہنا ہے کہ ان سخت لیکن ضروری اقدامات کی بدولت وفاقی دارالحکومت میں توانائی کے بہتر استعمال اور قومی وسائل کے تحفظ میں بڑی مدد ملے گی۔

اسلام آباد میں المناک ٹریفک حادثہ، اٹھال چوک کے قریب 4 افراد جاں بحق، 2 شدید زخمی

منصور احمد ,May 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 31 مئی 2026ء

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اتوار کی علی الصبح ایک انتہائی افسوسناک اور دلخراش ٹریفک حادثہ پیش آیا ہے، جس کے نتیجے میں چار افراد موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے جبکہ دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق یہ المناک حادثہ بہارہ کہو کے مصروف علاقے اٹھال چوک کے قریب اس وقت پیش آیا جب تیز رفتاری کے باعث دو کاریں آپس میں بے قابو ہو کر ایک موٹر سائیکل سے ٹکرا گئیں۔

تصادم کی شدت اور امدادی کارروائیاں مقامی پولیس اور امدادی ٹیموں (ریسکیو حکام) کے مطابق تصادم اس قدر شدید تھا کہ دونوں کاریں اور موٹر سائیکل بری طرح تباہ ہو گئے اور چار افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی نفری اور ریسکیو کی گاڑیاں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں اور امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا۔ ٹیموں نے گاڑیوں کو کاٹ کر لاشوں اور زخمیوں کو نکالا اور فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کیا۔

جاں بحق افراد کی شناخت اور زخمیوں کی حالت ہسپتال انتظامیہ اور پولیس حکام نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والے چار افراد میں سے دو کی شناخت فضل اور عامر کے ناموں سے ہو چکی ہے، جبکہ باقی دو افراد کی شناخت کے لیے بائیومیٹرک اور دیگر ذرائع سے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب، حادثے میں زخمی ہونے والے دو افراد کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جنہیں ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ (آئی سی یو) میں منتقل کر کے ہنگامی بنیادوں پر ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

حادثے کی وجوہات اور پولیس تحقیقات بہارہ کہو پولیس کے مطابق ابتدائی معلومات اور شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ حادثہ علی الصبح سڑک خالی ہونے کے باعث تیز رفتاری اور غفلت کی وجہ سے پیش آیا، تاہم حادثے کی اصل اور حتمی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تفصیلی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے گاڑیوں کے ملبے کو ہٹا کر ٹریفک کے لیے راستہ کھول دیا ہے اور مختلف پہلوؤں سے واقعے کی رپورٹ مرتب کی جا رہی ہے۔

شہریوں کا ٹریفک قوانین پر سختی کا مطالبہ اسلام آباد کے مقامی شہریوں اور سماجی حلقوں نے اس المناک حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔ شہریوں نے وفاقی ترقیاتی ادارے اور اسلام آباد ٹریفک پولیس سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ شاہراہوں، بالخصوص بہارہ کہو اور اٹھال چوک کے اطراف تیز رفتاری کو روکنے کے لیے اسپیڈ کیمرے لگائے جائیں اور ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ آئندہ ایسے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔

تعلیمی اداروں کے اطراف منشیات فروشوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 3 خواتین سمیت 10 ملزمان گرفتار

منصور احمد ,May 29,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز۔ 29 مئی 2026ء)

انسدادِ منشیات فورس (اے این ایف) نے ملک بھر میں منشیات سمگلنگ کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے 3 خواتین سمیت 10 ملزمان کو گرفتار کر لیا، جبکہ 21 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی تقریباً 15 کلوگرام منشیات برآمد کر لی گئی۔

ترجمان اے این ایف کے مطابق تعلیمی اداروں کے قرب و جوار اور مختلف شہروں میں مجموعی طور پر 6 کامیاب کارروائیاں کی گئیں، جن کے دوران 14.845 کلوگرام منشیات قبضے میں لی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کے طلبہ کو منشیات فراہم کرنے والے عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت آپریشن جاری رکھا جائے گا۔

راولپنڈی میں ایک یونیورسٹی کے قریب کارروائی کے دوران گاڑی سے 745 گرام آئس برآمد کر کے 3 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ اسی طرح رنگ روڈ پشاور کے قریب ایک خاتون کے قبضے سے 500 گرام آئس برآمد ہوئی، جس کے بعد ملزمہ کو حراست میں لے لیا گیا۔

اسلام آباد ٹول پلازہ کے قریب کارروائی کرتے ہوئے اے این ایف اہلکاروں نے ایک گاڑی سے 6 کلوگرام چرس برآمد کر کے ایک ملزم کو گرفتار کیا۔ ابتدائی تفتیش کے دوران گرفتار ملزمان نے تعلیمی اداروں کے طلبہ کو منشیات فروخت کرنے کا اعتراف بھی کیا ہے۔

دیگر کارروائیوں میں سرنان، ضلع پشین کے ایک ہوٹل کے قریب 2 خواتین کے قبضے سے 4 کلوگرام آئس برآمد کی گئی، جبکہ اٹک کے قریب ایک گاڑی سے 2.4 کلوگرام چرس برآمد کر کے 2 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

ایک اور کارروائی میں ریلوے لائن روڈ پشاور کے قریب ایک ملزم کے قبضے سے 1.2 کلوگرام چرس برآمد کی گئی۔

ترجمان اے این ایف کے مطابق تمام ملزمان کے خلاف انسدادِ منشیات ایکٹ 1997 کے تحت مقدمات درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ منشیات کے نیٹ ورک سے جڑے دیگر عناصر کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

دریاؤں میں پانی کی آمد میں اضافہ، تربیلا اور منگلا ڈیم میں قابلِ استعمال ذخائر بہتر ہونے لگے

کاشف عباسی ,May 29 ,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز۔ 29 مئی 2026ء)

ملک بھر کے دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کے تازہ اعداد و شمار جاری کر دیے گئے ہیں، جن کے مطابق بڑے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ تربیلا اور منگلا ڈیم میں قابلِ استعمال پانی کے ذخائر بھی بہتر سطح پر موجود ہیں۔

واپڈا کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد 67 ہزار 500 کیوسک جبکہ اخراج 90 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد و اخراج 39 ہزار 200 کیوسک رہی، جبکہ خیرآباد پل پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 64 ہزار 800 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

اسی طرح دریائے جہلم میں منگلا ڈیم کے مقام پر پانی کی آمد 35 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 34 ہزار کیوسک رہا، جبکہ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 18 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 7 ہزار کیوسک نوٹ کیا گیا۔

واپڈا کے مطابق تربیلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1402 فٹ ہے جبکہ موجودہ سطح 1449.50 فٹ ریکارڈ کی گئی۔ ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی زیادہ سے زیادہ سطح 1550 فٹ مقرر ہے اور اس وقت قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.997 ملین ایکڑ فٹ موجود ہے۔

منگلا ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح 1167.85 فٹ ریکارڈ کی گئی، جبکہ کم از کم آپریٹنگ لیول 1050 فٹ اور زیادہ سے زیادہ سطح 1242 فٹ ہے۔ منگلا ڈیم میں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 2.474 ملین ایکڑ فٹ تک پہنچ چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق چشمہ ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 638.15 فٹ جبکہ موجودہ سطح 641.30 فٹ ریکارڈ کی گئی۔ چشمہ ڈیم میں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.049 ملین ایکڑ فٹ موجود ہے۔

ماہرین کے مطابق ملک میں درجہ حرارت میں اضافے اور شمالی علاقوں میں برف پگھلنے کے باعث دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے، جس سے آئندہ دنوں میں آبی ذخائر مزید بہتر ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

سوات ایکسپریس وے پر خوفناک حادثہ، 16 افراد جاں بحق، 6 زخمی

منصور احمد ,May 25,2026

مردان/نیوز اینڈ نیوز

سوات ایکسپریس وے پر پیش آنے والے ہولناک ٹریفک حادثے میں کم از کم 16 افراد جاں بحق جبکہ 6 افراد زخمی ہو گئے۔ حادثہ ایک مسافر وین اور سڑک کنارے کھڑی بس کے درمیان پیش آیا، جس کے بعد علاقے میں شدید افسوس اور خوف و ہراس پھیل گیا۔

ترجمان نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے مطابق حادثے کی اطلاع ملتے ہی موٹروے پولیس اور امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور ریسکیو کارروائیاں شروع کر دیں۔

حکام کے مطابق تمام جاں بحق افراد کی لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر مردان میڈیکل کمپلیکس منتقل کر دیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثہ وین ڈرائیور کی غفلت اور تیز رفتاری کے باعث پیش آیا۔ بتایا گیا ہے کہ وین پیچھے سے آ کر سڑک کے کنارے کھڑی بس سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں شدید جانی نقصان ہوا۔

موٹروے پولیس کے مطابق بس کراچی سے بونیر جا رہی تھی جبکہ مسافر وین راولپنڈی سے دیر کی جانب رواں دواں تھی۔ حادثے کے بعد سوات ایکسپریس وے پر ٹریفک کی روانی بھی کچھ دیر متاثر رہی۔

ذرائع کے مطابق موٹروے نارتھ زون کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) بھی صورتحال کا جائزہ لینے اور زخمیوں کی عیادت کے لیے ہسپتال پہنچ گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور حادثے کی مکمل رپورٹ جلد مرتب کی جائے گی۔