پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سابق وزیرِ اعظم ایسٹونیا اور یورپی یونین کی خارجہ امور و سلامتی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ کایا کالاس کے والد، سیم کالاس کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے تعزیتی بیان میں نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ وہ حکومتِ پاکستان، پاکستانی عوام اور اپنی جانب سے کایا کالاس اور ان کے تمام غمزدہ اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مشکل اور غم کی گھڑی میں ان کی تمام تر دعائیں اور ہمدردیاں مرحوم کے لواحقین اور ایسٹونیا کے عوام کے ساتھ ہیں۔
سیم کالاس ایسٹونیا کی سیاست اور یورپی یونین کے قیام و انتظامی عمل کے ایک نامور اور سینئر ترین سیاسی رہنما تھے، جنہوں نے سنہ 2002ء سے 2003ء تک ایسٹونیا کے وزیرِ اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں اور بعد ازاں یورپی کمیشن کے نائب صدر بھی رہے۔ وہ 77 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں، جس پر عالمی اور یورپی رہنماؤں کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔
واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے پاکستان کے تمام اہم دریاؤں، بیراجوں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد، اخراج اور ذخیرہ شدہ سطح سے متعلق اپنے ہفتہ وار اور روزانہ کے اہم اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح اپنی آخری یعنی 1550 فٹ کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ڈیم میں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 5.580 ملین ایکڑ فٹ ہو چکا ہے۔ تربیلا کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی آمد 2 لاکھ 70 ہزار 800 کیوسک جبکہ اخراج 2 لاکھ 59 ہزار 900 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
دیگر اہم دریاؤں کی صورتحال پر نظر ڈالی جائے تو دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد 40 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 40 ہزار 600 کیوسک درج کیا گیا، جبکہ خیرآباد پل پر آمد اور اخراج دونوں 2 لاکھ 93 ہزار 400 کیوسک کی سطح پر ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ اسی طرح دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 31 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 7 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا ہے، جہاں ڈیم میں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 5.283 ملین ایکڑ فٹ ہو گیا ہے۔ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 67 ہزار 800 کیوسک جبکہ اخراج 53 ہزار 200 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
صوبائی و قومی بیراجوں کے سیکیورٹی اور آمد و اخراج کے ڈیش بورڈ کے مطابق جناح بیراج پر پانی کی آمد 4 لاکھ 33 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 4 لاکھ 25 ہزار 400 کیوسک رہا۔ چشمہ بیراج میں 3 لاکھ 60 ہزار 900 کیوسک کی آمد کے مقابل 3 لاکھ 51 ہزار 900 کیوسک کا اخراج ریکارڈ کیا گیا۔ تونسہ بیراج میں آمد 3 لاکھ 38 ہزار 900 کیوسک اور اخراج 3 لاکھ 18 ہزار کیوسک، گدو بیراج میں آمد 3 لاکھ 12 ہزار 500 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 79 ہزار 300 کیوسک، اور سکھر بیراج میں پانی کی آمد 2 لاکھ 67 ہزار 200 کیوسک جبکہ اخراج 2 لاکھ 13 ہزار 400 کیوسک ریکارڈ ہوا۔ علاوہ ازیں کوٹری بیراج پر 1 لاکھ 27 ہزار 700 کیوسک آمد، تریموں بیراج پر 89 ہزار 600 کیوسک آمد اور پنجند بیراج پر 38 ہزار 500 کیوسک کی آمد ریکارڈ کی گئی۔
آبی ذخائر کے مجموعی مانیٹرنگ انڈیکس کو دیکھا جائے تو منگلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050 فٹ کے مقابلے میں فی الوقت پانی کی موجودہ سطح 1215.70 فٹ پر موجود ہے، جبکہ اس ڈیم کے ذخیرہ کرنے کی انتہائی حد 1242 فٹ مقرر ہے۔ اسی طرح چشمہ بیراج کا کم از کم آپریٹنگ لیول 638.15 فٹ، موجودہ سطح 647.00 فٹ اور انتہائی سطح 649 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.212 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ واپڈا حکام کا کہنا ہے کہ تمام آبی ذخائر اور بیراجوں پر پانی کے بہاؤ کی ہمہ وقت مانیٹرنگ کی جا رہی ہے تاکہ ملک میں زرعی ضرورتوں اور فلڈ مینجمنٹ کے اقدامات کو مزید موثر انداز میں کنٹرول کیا جا سکے۔
اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے ملک کے مختلف شہروں اور رابطہ سڑکوں پر منشیات اسمگلنگ کے خلاف وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے متعدد کامیا ب کارروائیاں کی ہیں، جن کے نتیجے میں کروڑوں روپے مالیت کی بھاری مقدار میں منشیات برآمد کر کے 7 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ترجمان اے این ایف کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، ملک بھر میں کی جانے والی ان مختلف کارروائیاں کے دوران مجموعی طور پر 174.82 کلوگرام منشیات برآمد کی گئی، جس کی عالمی و مقامی مارکیٹ میں تخمینہ مالیت 3 کروڑ 83 لاکھ روپے سے زائد بتائی جاتی ہے۔ فیصل آباد کے ایک مقامی کوریئر آفس میں کی گئی کارروائی کے دوران بحرین بھیجے جانے والے پارسل کو شک کی بنیاد پر چیک کیا گیا تو کپڑوں کے اندر مہارت سے چھپائی گئی 228 گرام اعلیٰ کوالٹی آئس برآمد ہوئی۔ بلوچستان میں تربت کے ضلع کیچ کے قریب ایک اور بڑی کارروائی کرتے ہوئے اے این ایف نے ایک مشکوک ٹرک کو روک کر تلاشی لی تو اس سے 125 کلوگرام آئس برآمد ہوئی، جس پر موقع سے دو ملزمان کو گرفتار کر کے ٹرک تحویل میں لے لیا گیا۔
اس کے علاوہ وفاقی دارالحکومت اور پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی ناکہ بندی کے دوران اہم کامیا بیاں حاصل کی گئیں۔ موٹروے ٹول پلازہ اسلام آباد کے قریب ایک گاڑی سے 16.8 کلوگرام چرس برآمد کر کے ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا، جبکہ جی ٹی روڈ لاہور میں ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کے قریب رکشے اور قریبی مکان پر چھاپہ مار کر مجموعی طور پر 10.8 کلوگرام چرس کی کھیپ قبضے میں لی گئی اور ایک شخص کو حراست میں لیا گیا۔ اٹک میں حضرو ٹول پلازہ کے قریب موٹر سائیکل سوار ملزم کے قبضے سے 6 کلوگرام چرس ملی، جبکہ لاہور شہر میں ایک اور آپریشن کے دوران گاڑی سے 4 کلوگرام آئس برآمد کر کے دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ کراچی کے علاقے نادرن بائی پاس کے قریب غیر آباد جھاڑیوں میں چھپائی گئی 12 کلوگرام چرس بھی برآمد کی گئی۔ اے این ایف حکام کا کہنا ہے کہ تمام گرفتار ملزمان کے خلاف انسدادِ منشیات ایکٹ 1997ء کے تحت مقدمات درج کر کے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
پاکستان کی تعبیر و تشریح، جدید آئینی و قانونی تاریخ اور معاصر سیاسی منظر نامے میں بعض ہندسے ایسے ہوتے ہیں جو محض ریاضی یا گنتی کا عام اعداد و شمار کا حصہ نہیں رہتے بلکہ ایک مستقل اور طاقتور استعارہ، سیاسی تحریک کی علامت اور قومی شناخت کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ ملکی سیاست کے افق پر پچھلے کچھ عرصے سے دو ہندسے 17 اور 804 انتہائی کثرت کے ساتھ زبانِ زدِ عام رہے ہیں اور عوام و خواص میں یکساں مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔ لیکن اب قدرت کے ایک ایسے غیر معمولی اور دلچسپ اتفاق نے جنم لیا ہے جس نے سیاسی مبصرین، قانون دانوں، تجزیہ کاروں اور عام عوام کو ایک نئی حیرت اور دلچسپی میں مبتلا کر دیا ہے، جہاں یہ دونوں استعارے ایک ہی قانونی دستاویز کی زینت بن گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کی قانونی ٹیم کی جانب سے موجودہ حکومت کی بعض مبینہ پالیسیوں اور عدالتی احکامات کی عدم تعمیل کے خلاف اعلیٰ ترین عدالت میں دائر کی جانے والی توہینِ عدالت کی انتہائی اہم، حساس اور مقبول ترین پٹیشن کے ڈائری نمبر میں یہ دونوں تاریخی ہندسے ایک ساتھ نمایاں ہو کر سامنے آئے ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے متعلقہ شعبہ رجسٹری نے جب اس ہائی پروفائل پٹیشن کو وصول کیا اور اپنے باقاعدہ نظام کے تحت اسے رسمی طور پر ایک ڈائری نمبر الاٹ کیا تو اتفاقیہ طور پر اس کے عددی امتزاج میں 17 اور 804 کی ترتیب بالکل واضح، منفرد اور جگمگاتی ہوئی نمایاں نظر آئی۔
سیاسی حلقوں، قانونی ماہرین کی گفتگو اور سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر اس عجیب و غریب اور نادر اتفاق کو شدید حیرت اور تجسس کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ ایک طرف جہاں 804 کا ہندسہ اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی قیدی شناخت اور ان کے کروڑوں حامیوں کا سب سے بڑا سیاسی نعرہ، آن لائن ٹرینڈ اور علامتی شناخت بن چکا ہے، تو دوسری طرف 17 کا ہندسہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں مبینہ طور پر حکومتی جماعت کی حقیقی نشستوں کی تعداد اور دھاندلی کے الزامات پر مبنی سیاسی بیانیے کے طور پر ملکی سیاسی بساط اور مختلف قانونی و آئینی معرکوں میں ایک خاص اہمیت اور مرکزیت کا حامل رہا ہے۔ ان دونوں انتہائی مقبول ترین اور سیاسی طور پر گرم ہندسوں کا ایک ہی کیس کے ڈائری نمبر میں یکجا ہو جانا کسی افسانوی داستان یا انمول صدف سے کم محسوس نہیں ہوتا۔
اس حوالے سے سپریم کورٹ بار اور قانونی جریدوں سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ویسے تو اعلیٰ عدالتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں کی تعداد میں آئینی و قانونی پٹیشنز جمع ہوتی ہیں اور انہیں مختلف ترتیبات کے ساتھ ڈائری نمبر الاٹ کیے جاتے ہیں، لیکن کسی مخصوص، انتہائی کوریج والے اور ہائی پروفائل سیاسی شخصیت کے مقدمے میں انہی کے سب سے مقبولِ عام سیاسی ہندسوں کا یوں یکسر باہم مل جانا ایک ناقابلِ یقین جادوئی اتفاق ہی کہا جا سکتا ہے۔ اس پیش رفت نے نہ صرف اس توہینِ عدالت کی پٹیشن کی قانونی سنجیدگی اور عوامی اہمیت کو دوبالا کر دیا ہے بلکہ اس کے ساتھ جڑے سیاسی سسپنس، صحافتی تجسس اور عوام کی توجہ کو بھی نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا مزید ماننا ہے کہ پاکستان کی قانون سازی اور عدالتی کارروائیوں میں علامت نگاری اور عددی اتفاقات اکثر عوامی جذباتی وابستگی کا باعث بنتے ہیں۔ اس پٹیشن پر اب تمام تر نظریں مرکوز ہو چکی ہیں کہ آیا یہ عددی امتزاج عدالتِ عظمیٰ کے اندر کیس کی پیشرفت اور قانونی سماعت کے دوران کیا اثرات مرتب کرتا ہے۔ عمران خان کی قانونی ٹیم نے اس حوالے سے اطمینان اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک مثبت شگون قرار دیا ہے جبکہ دوسری جانب حکومتی قانونی ماہرین کا موقف ہے کہ عدالتیں جذبات یا عددی اتفاقات سے بالاتر ہو کر محض آئین، قانون اور شواہد کی بنیاد پر فیصلے صادر کرتی ہیں۔
نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے وزارتِ خارجہ میں ملائیشیا کے وزیرِ داخلہ سیف الدین ناسوتیون اسماعیل نے اہم ملاقات کی، جس میں پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔
دفترِ خارجہ کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے بالخصوص تجارت و معیشت، باہمی قانونی معاونت، اور عوامی سطح پر روابط بڑھانے پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس موقع پر علاقائی و بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف حاصل کرنے کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
اس اہم ملاقات میں وفاقی وزیرِ قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیرِ داخلہ سینیٹر محسن نقوی، وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان، اور وزیرِ مملکت طلال چوہدری سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کثیر الجہتی شراکت داری پر زور دیا گیا۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی مانیٹرنگ ٹیم نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد (آئی آئی یو آئی) کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے یونیورسٹی میں انسدادِ منشیات پالیسی پر عملدرآمد اور طلبہ کے تحفظ کے لیے کیے گئے حفاظتی و انسدادی اقدامات کا جامع جائزہ لیا۔
یونیورسٹی حکام کی جانب سے دی گئی تفصیلی بریفنگ کے بعد ایچ ای سی مانیٹرنگ ٹیم نے مرد اور خواتین کے مختلف کیمپسز اور سیکیورٹی مانیٹرنگ کے تمام پوائنٹس کا عملی معائنہ کیا۔ اس موقع پر ٹیم نے کیمپس میں نگرانی کے جدید آلات اور مانیٹرنگ کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط اور فعال بنانے سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ایچ ای سی ٹیم نے آئی آئی یو آئی کی انتظامیہ کی جانب سے کیمپس کو منشیات اور تمباکو سے پاک رکھنے، اساتذہ و طلبہ میں مسلسل آگاہی کی مہمات چلانے اور ایچ ای سی کی قومی پالیسی پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔
محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، خطہ پوٹھوہار، بالائی پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے، جبکہ بعض مقامات پر شدید موسلادھار بارش کا بھی امکانی خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے جاری کردہ انتباہ کے مطابق ویک اینڈ کے دوران متوقع شدید بارشوں کے باعث اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، مردان اور صوابی کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا اندیشہ ہے۔ اس کے علاوہ مری، گلیات، کشمیر اور اسلام آباد و راولپنڈی کے ندی نالوں میں طغیانی جبکہ خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں، مری، گلیات اور گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق مون سون ہوائیں اور مغربی ہواؤں کا سلسلہ ملک کے بالائی علاقوں پر اثر انداز ہو رہا ہے جو اگلے دو روز تک برقرار رہے گا۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ بارش اسلام آباد کے علاقے گولڑہ میں 61 ملی میٹر اور راولپنڈی کے شمس آباد میں 51 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، جبکہ گرم ترین مقامات میں نوکنڈی اور دالبندین رہے جہاں درجہ حرارت 46 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ خان نے بھائی سے ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے ایک پریس کانفرنس کے دوران آبدیدہ ہو گئیں اور دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ملاقات کے دوران عمران خان نے جیل میں اپنے ساتھ ہونے والے مبینہ نا روا اور غیر انسانی سلوک کے بارے میں آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان بار بار اس بات پر زور دے رہے تھے کہ قوم کو بتایا جائے کہ انہیں شدید ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور جیل انتظامیہ ان کی کوئی بات نہیں سن رہی۔ انہوں نے کہا کہ جب عمران خان مشکلات بیان کرتے ہیں تو حکام کی جانب سے کوئی پرواہ نہیں کی جاتی۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے بھائی کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ان پر ہونے والے مظالم پر خاموش نہیں رہا جائے گا۔ ڈاکٹر عظمیٰ خان نے واضح کیا کہ انہوں نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیے جانے کا بتایا تھا جس پر وہ خوش تھے، نیز انہوں نے ان خبروں کی بھی تردید کی کہ عمران خان شفا ہسپتال نہیں گئے تھے۔
وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے دہشت گردی کے تمام متاثرین اور شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کے حقوق، انصاف اور وقار کا تحفظ ریاست کی اولین اور اہم ذمہ داری ہے۔
ترجمان وزارتِ قانون و انصاف کے مطابق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے “دہشت گردی کے متاثرین کی یاد اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کے عالمی دن” کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں شہدا کے اہل خانہ سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سیکیورٹی فورسز کے بسالت مند اہلکاروں اور عام شہریوں کی قربانیوں کو قوم قدر اور احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور یہ قربانیاں ہماری قومی یادداشت کا مستقل حصہ ہیں۔
وفاقی وزیرِ قانون نے اس بات پر زور دیا کہ متاثرین کو انصاف اور قانونی معاونت کی بروقت فراہمی ایک محفوظ اور پرامن معاشرے کی بنیاد ہے، اور انتہا پسندی، عدم برداشت اور نفرت کے مکمل خاتمے کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون کی حکمرانی اور متاثرین کی بحالی کا مؤثر نظام حکومت پاکستان کی ترجیحات میں شامل ہے اور پاکستان امن، انسانی حقوق اور آئین کی پاسداری کے عزم پر قائم ہے۔
چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرأت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دشمن کے مذموم عزائم کو قوم کے اجتماعی عزم اور ریاست کی غیر متزلزل، پُرعزم اور فیصلہ کن کارروائی کے ذریعے مکمل طور پر ناکام بنایا جائے گا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بلوچستان کی ممتاز سیاسی و سماجی شخصیات اور قیادت سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران آرمی چیف نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان اور پاکستان کا حال اور مستقبل ایک ہے اور ہمیشہ ایک رہے گا، اور بلوچستان باصلاحیت، ثابت قدم، محب وطن اور باوقار لوگوں کی سرزمین ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ واضح قومی بیانیہ، دیرپا امن اور استحکام ہی صوبے کی حقیقی معاشی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے، سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور بلوچستان کے وافر انسانی و قدرتی وسائل کو عوام کی حقیقی خوشحالی میں تبدیل کرنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان معاشرے کا سب سے متحرک اور امید افزا طبقہ ہیں جنہیں بااختیار بنانا پائیدار ترقی کا ضامن ہے۔
آرمی چیف نے واضح کیا کہ فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان غیر ملکی سرپرستی میں کام کرنے والی پراکسیز ہیں جنہیں دشمن عناصر بلوچستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے اور ریاست و عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے دشمن کے منفی پراپیگنڈے کا جامع اور بلا جھجھک مقابلہ کرنے، جھوٹے بیانیوں کو بے نقاب کرنے اور بلوچستان کے عوام کی حقیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی تقدیر کا فیصلہ صرف اس کے اپنے عوام کے ہاتھوں میں ہے۔ ملاقات میں موجود ممبران اور رہنماؤں نے بھی امن و ترقی کی راہ میں افواجِ پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے آرڈر کے تحت حکومت کے پاس کل تک کا وقت موجود ہے، اگر بانی پی ٹی آئی عمران خان کو فوری طور پر الشفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل نہ کیا گیا تو یہ سیدھی توہینِ عدالت تصور ہوگی۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ انہیں ایسا نہیں لگتا کہ حکومت کی نظرثانی درخواست اتنی جلدی کل تک سنی جا سکے گی، کیونکہ سپریم کورٹ میں جب بھی کوئی درخواست دائر ہوتی ہے تو اس کی ابتدائی پڑتال اور انتظامی کارروائی میں ہی چار سے چھ دن لگ جاتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالتی حکم پر آج یا کل تک عملدرآمد نہ ہونے کی کوئی قانونی جواز یا وجہ موجود نہیں ہے، اور عمران خان کو آئینی و عدالتی احکامات کے عین مطابق الشفاء انٹرنیشنل ہسپتال لازمی منتقل کیا جانا چاہیے۔
سلمان اکرم راجہ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے اس واضح عدالتی حکم کی عدولی یا توہینِ عدالت کی تو پی ٹی آئی نہ صرف عدالتِ عظمیٰ میں توہینِ عدالت کی باضابطہ درخواست دائر کرے گی بلکہ عوام اور قوم کے سامنے بھی اس معاملے کو رکھے گی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد کی اپوزیشن لیڈر سے ملاقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ ایک محض خیرسگالی ملاقات تھی جس میں پی پی پی نے اپوزیشن کے ساتھ رابطے بحال کرنے اور انتخابی اصلاحات پر مکالمے کی خواہش ظاہر کی، تاہم سلمان اکرم راجہ نے واضح کر دیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے تفصیلی مشاورت کے بغیر کوئی بھی سیاسی یا پارلیمانی بات چیت آگے نہیں بڑھ سکتی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ملاقات کے دوران پی پی وفد نے عدالتی حکم کو سراہا جبکہ نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صومالیہ کے بحری قزاقوں کی جانب سے 10 پاکستانیوں کو یرغمال بنائے جانے کے معاملے پر حزبِ اختلاف اور بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین کو سخت ردِعمل دیتے ہوئے چیلنج کیا ہے کہ اگر وہ اپنے موقف میں غلط ثابت ہوں تو عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے، ورنہ الزام تراشی کرنے والے اراکین استعفیٰ دیں۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ صومالیہ میں 10 پاکستانی شہریوں کی قزاقوں کے قبضے میں موجودگی کا معاملہ ایوان میں بحث کے زیرِ غور آیا تھا۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ الزام لگانے سے قبل ایوان کی رسمی کارروائی کا ریکارڈ چیک کر لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صومالیہ کے ساتھ پاکستان کے براہِ راست سفارتی تعلقات موجود نہیں ہیں، تاہم حکومتِ پاکستان اس سنگین مسئلے کو حل کرنے کے لیے جبوتی اور لندن میں واقع پاکستانی سفارت خانوں کے ذریعے مسلسل متحرک اور کوشاں ہے۔
وفاقی وزیرِ پارلیمانی امور نے ایوان کو آگاہ کیا کہ دفترِ خارجہ کے ذریعے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے تفصیلا ًبتایا کہ جس بحری جہاز کو اغوا کیا گیا ہے وہ اس وقت ایک ایسے سمندری علاقے میں موجود ہے جہاں صومالیہ حکومت کی عمل داری بالکل ختم ہے، جبکہ پلاؤ نامی ملک بھی اس جہاز کی مالکیت تسلیم (اون) نہیں کر رہا۔ طارق فضل چوہدری نے انکشاف کیا کہ صومالی قزاقوں کی جانب سے یرغمالیوں کی رہائی کے عوض 3 ملین ڈالر (30 لاکھ ڈالر) تاوان مانگا گیا ہے، تاہم تاوان کی ادائیگی سے اس نوعیت کے مجرمانہ واقعات میں مزید اضافے کا خطرہ ہے کیونکہ اس جہاز کے بعد 4 مزید بحری جہازوں کو بھی قزاقوں کی جانب سے اغوا کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت ہوا میں باتیں کرنے کے بجائے شہریوں کی محفوظ اور جلد رہائی کے لیے ہر ممکن سفارتی اور عملی ذریعہ استعمال کر رہی ہے۔
چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سینیٹر روبینہ خالد نے انسانی ہمدردی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ انسانیت کی خدمت، دکھی انسانوں کا سہارا بننا اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا ہم سب کی مشترکہ اخلاقی و قومی ذمہ داری ہے۔ بی آئی ایس پی حکومتِ پاکستان کی جانب سے ملک بھر کے مستحق خاندانوں کو مکمل سماجی تحفظ فراہم کرنے کے مشن پر پوری طرح گامزن ہے۔
سینیٹر روبینہ خالد نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی ہمدردی صرف ایک جذبہ یا ہمدردی کے چند الفاظ نہیں بلکہ معاشرے کے تمام کمزور، محروم اور مستحق طبقات کی عملی مدد کرنے کا نام ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی اس وقت ملک کے لاکھوں مستحق اور غریب خاندانوں کو باقاعدہ مالی معاونت فراہم کر کے انہیں شدید معاشی مشکلات اور غربت سے نکالنے میں انتہائی اہم اور کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ معاشرے کے محروم اور کمزور طبقوں کو مشکل حالات میں کبھی تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ انسانی ہمدردی کا عالمی دن ہمیں یہی درس دیتا ہے کہ ہم دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے آگے بڑھیں اور ضرورت مندوں کا ہاتھ تھامیں۔ انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ آئیں آج ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ اپنے اردگرد موجود تمام ضرورت مند افراد کی مدد اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا مؤثر اور مثبت کردار ادا کریں گے۔
اسلام آباد میں جاری موسلا دھار بارش کے پیشِ نظر اسلام آباد ٹریفک پولیس نے وفاقی دارالحکومت میں سفر کرنے والے شہریوں، ڈرائیورز اور موٹر سائیکل سواروں کے لیے خصوصی احتیاطی تدابیر اور ٹریفک ایڈوائزری جاری کر دی ہے تاکہ حادثات سے بچا جا سکے اور سڑکوں پر روانگی برقرار رہے۔
ترجمان اسلام آباد ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں ڈرائیورز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بارش کے دوران گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی رفتار دھیمی رکھیں اور آگے چلنے والی گاڑیوں سے مناسب فاصلہ برقرار رکھیں۔ ترجمان نے زور دیا کہ سفر کے دوران فوگ لائٹس کا استعمال یقینی بنایا جائے اور ڈرائیورز اپنی لین پر پابند رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دورانِ ڈرائیونگ سائیڈ شیشوں، انڈیکیٹرز اور سیٹ بیلٹ کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے۔ موٹر سائیکل سواروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سڑک کی انتہائی بائیں جانب کی لین میں چلیں اور ہیلمٹ لازمی پہنیں۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ اسلام آباد ٹریفک پولیس کے افسران اور اہلکار سڑکوں پر موجود ہیں تاکہ شہریوں کی مدد کی جا سکے اور ٹریفک کو رواں دواں رکھا جا سکے۔ شہری تازہ ترین ٹریفک اپ ڈیٹس کے لیے اسلام آباد ٹریفک پولیس کے آفیشل واٹس ایپ چینل، سوشل میڈیا پیجز اور آئی ٹی پی ایف ایم 92.4 سے مکمل رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔
وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پبلک پروکیورمنٹ کے موجودہ قانونی فریم ورک میں مزید وضاحت، ذمہ داری اور جوابدہی کے موثر طریقہ کار کی اشد ضرورت ہے، جبکہ سرکاری خریداری کے عمل میں شفافیت اور ادارہ جاتی آزادی کو یقینی بنانا انتہائی اہم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں کابینہ کمیٹی برائے تصفیہ قانون سازی مقدمات (سی سی ایل سی) کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
ترجمان وزارتِ قانون و انصاف کے مطابق اجلاس کے دوران پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آر اے) آرڈیننس 2002ء میں مجوزہ ترامیم اور پبلک پروکیورمنٹ رولز 2025ء کے مسودے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ نیشنل ٹیرف کمیشن ایکٹ 2015ء، سیف گارڈ اقدامات آرڈیننس 2002ء، متبادل ادویات و ہیلتھ پروڈکٹس رولز 2026ء اور بائیو سٹڈی رولز 2017ء میں ترامیم کا جائزہ بھی لیا گیا۔ کمیٹی نے تمام سرکاری تقرریوں میں میرٹ اور شفافیت پر زور دیا جبکہ پی پی آر اے کے اختیارات میں اضافے اور ای پروکیورمنٹ پلیٹ فارمز کے فروغ کے اقدامات پر بات چیت کی گئی۔
وفاقی وزیرِ قانون نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری خریداری میں شکایات کے آزادانہ ازالے، تھرڈ پارٹی جائزے اور مفادات کے ٹکرائو سے بچائو کے لیے ایک جامع اور موثر نظام بنانا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان قانونی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے نتیجے میں سرکاری خریداری کے نظام میں شفافیت، جوابدہی اور کارکردگی مزید بہتر ہوگی۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے سپریم کورٹ کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے اور مکمل طبی علاج کی سہولت فراہم کرنے کے فیصلے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنے جذبات اور خوشی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس انسانی فیصلے پر عدلیہ کے ججز اور مشکل وقت میں ساتھ دینے پر عوام اور کارکنان کا شکریہ ادا کیا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ ہم اس فیصلے پر بے حد خوش ہیں، ایک وقت ایسا آ گیا تھا جب تمام امیدیں ختم ہو چکی تھیں، لیکن بالکل اسی مایوسی کے عالم میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے انصاف کا راستہ کھولا۔ انہوں نے سپریم کورٹ کی جانب سے سیاسی گفتگو اور میڈیا ٹاک پر عائد پابندی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عدالت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ کوئی سیاسی بات نہیں کریں گی، اس لیے انہوں نے تفصیلی گفتگو سے معذرت کی۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے سامنے باقاعدہ یقین دہانی کروائی ہے کہ شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی کے بعد پارٹی کی جانب سے ہسپتال کے باہر کسی قسم کا احتجاج، اجتماع یا ہلڑ بازی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور عدالتی احکامات و فراہم کردہ یقین دہانی کی پاسداری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔
وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اور انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے ایوانِ بالا (سینیٹ) کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین و قانون کی نظر میں ملک کا ہر شہری اور قیدی برابر ہے، لہٰذا بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے کسی بھی قسم کی خصوصی سہولت یا الگ قانون کا مطالبہ آئین کے خلاف ہے۔ سینیٹر اعظم سواتی کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ملک کا نظام قانون اور ضابطے کے تحت چلتا ہے اور کسی بھی فردِ واحد کے لیے الگ سے قوانین وضع نہیں کیے جا سکتے۔
وزیرِ قانون نے پارلیمانی قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جیل میں ملاقاتوں اور دیگر سہولیات کے لیے واضح قواعد و ضوابط موجود ہیں اور بانی پی ٹی آئی کی ملاقاتوں کا معاملہ اس وقت سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں اوپن کورٹ سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے عدالت کے معاون کے طور پر جو رپورٹ پیش کی تھی، اس میں جیل کے اندر خوراک، صفائی، ورزش کے اوقات اور سیل کی سہولیات کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے آئین کے آرٹیکل 25 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب آئین تمام شہریوں کو برابر حقوق دیتا ہے تو پھر کسی ایک قیدی کو ایسی خصوصی سہولتیں کیسے دی جا سکتی ہیں جو عام قیدیوں کو میسر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی کو ان کی پسند کے ڈاکٹر سے علاج یا دیگر انفرادی مراعات دی گئیں تو یہی حق ملک کی جیلوں میں بند ہر عام قیدی کو دینا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو اصول اور قوانین عمران خان کے لیے ہیں، وہی نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری سمیت ہر سیاسی رہنما اور عام شہری کے لیے بھی یکساں ہیں۔ انہوں نے سینیٹرز اور قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ پہلے قوانین کا جائزہ لیں اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے بات کریں۔
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی حالیہ میڈیکل رپورٹ منظرِ عام پر آنے کے بعد حکومت سے ان کی قیدِ تنہائی فوری ختم کرنے اور انہیں ہسپتال منتقل کرنے کا زوردار مطالبہ کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں فواد چوہدری نے کہا کہ میڈیکل رپورٹ کے بعد یہ بات انتہائی ضروری ہو چکی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو قیدِ تنہائی سے نکال کر علاج کی بہترین سہولیات کی فراہمی کے لیے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مقبول ترین لیڈر کو بنیادی طبی سہولیات سے محروم رکھنا اور قیدِ تنہائی میں رکھنا شدید قابلِ مذمت ہے، لہٰذا طبی ماہرین کی تجاویز کی روشنی میں کوئی تاخیر نہ کی جائے۔
دوسری جانب سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمع کرائی گئی میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے مطابق اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کا طبی معائنہ کرنے والے معالجین نے ان کی صحت، بے چینی اور بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے اہم سفارشات مرتب کی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جیل کے احاطے اور ماحول میں نرمی لائی جائے، انہیں روزانہ کم از کم ایک گھنٹے کی واک کی اجازت دی جائے اور ان کی ذہنی مصروفیت کے لیے کتب، اخبارات، میگزینز اور ٹی وی کی سہولت فراہم کی جائے۔ اس کے علاوہ میڈیکل بورڈ نے اہلیہ اور اہلخانہ سے ملاقاتوں کے وقت اور دورانیے میں اضافے کی بھی خصوصی سفارش کی ہے تاکہ ان کی صحت کو معمول پر لایا جا سکے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کی چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمان نے پلاسٹک کی بڑھتی ہوئی آلودگی کے خلاف حکومت، تعلیمی اداروں اور عام عوام کی جانب سے فوری اور اجتماعی اقدامات اٹھانے پر زور دیا ہے۔ ایک گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ ملک بھر کی جامعات اور کالجوں میں پلاسٹک کے مضمرات اور آلودگی کے حوالے سے خصوصی آگاہی سیمینارز منعقد کیے جانے چاہئیں تاکہ نوجوان نسل کو اس کے ماحولیاتی نقصان سے بروقت آراستہ کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایاکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پلاسٹک مخالف قانون پہلے ہی باقاعدہ طور پر متعارف کرایا جا چکا ہے۔
سینیٹر شیری رحمان نے واضح کیا کہ پلاسٹک کی بوتلیں اور شاپنگ بیگز ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کے سب سے بڑے عوامل میں سے ہیں، جن میں موجود مضر صحت کیمیکلز انسانی صحت اور قدرتی ماحول کے لیے شدید خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ اب پلاسٹک کے فضلے کو ٹھکانے لگانے اور استعمال کے بعد دوبارہ کارآمد بنانے کے لیے نئی اور جدید اختراعی کوششیں سامنے آ رہی ہیں۔ سینیٹر شیری رحمان نے اس موقع پر یونیورسٹی آف بلوچستان کے طلبہ کی جانب سے پلاسٹک آلودگی سے نمٹنے کے لیے پیش کردہ جدید خیالات اور عملی حل کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے دیگر تعلیمی اداروں کو بھی ان کی پیروی کرنے کی ہدایت کی۔
خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں آخری امریکی قونصل جنرل تھامس ایکرٹ نے کہا ہے کہ پشاور میں امریکی قونصل خانہ بند کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ امریکہ کی خیبر پختونخوا کے خطے میں دلچسپی ختم ہو گئی ہے۔ اسلام آباد میں پاکستان انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آرگنائزیشن اور انٹرنیشنل ریسرچ کونسل فار ریلیجئس افیئرز کی جانب سے منعقدہ ایک الوداعی تقریب اور ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قونصلر خدمات، تجارتی و کاروباری روابط کے فروغ، سیکیورٹی تعاون کی مضبوطی اور خیبر پختونخوا اور پورے پاکستان کے عوام کے ساتھ شراکت داری استوار کرنے کی سفارتی کوششیں مستقبل میں بھی بدستور جاری رہیں گی۔
پشاور میں امریکی قونصل خانے کی باقاعدہ بندش کے بعد اب خیبر پختونخوا کے ساتھ تمام سفارتی اور عوامی روابط کی ذمہ داریاں باقاعدہ طور پر اسلام آباد میں واقع امریکی سفارت خانے کو منتقل کر دی گئی ہیں۔ تھامس ایکرٹ امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینئر اور تجربہ کار سفارت کار ہیں جو اپریل دو ہزار تین سے امریکی وزارتِ خارجہ سے وابستہ ہیں۔ اپنے بائیس سالہ سفارتی کیریئر کے دوران انہوں نے گبون، ویتنام، برما اور قبرص میں اہم خدمات انجام دی ہیں، جبکہ وہ دو مرتبہ بغداد (عراق) میں سیکیورٹی آپریشنز کی نگرانی اور بغداد ایمبیسی سیکیورٹی فورسز کی قیادت بھی کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے کابل (افغانستان) میں عارضی ڈیوٹی کے دوران اس وقت کے افغان صدر حامد کرزئی کی سیکیورٹی کی ذمہ داریاں بھی ادا کی تھیں۔