گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اقلیتیں پاکستان کی برابر کی شہری ہیں اور ملکی ترقی و خوشحالی میں ان کا کردار انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہمیشہ آواز بلند کی، جبکہ صدر مملکت آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی اقلیتی برادریوں کے حقوق کے لیے مکمل پرعزم ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں قومی اقلیتی دن کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، سینیٹر دنیش کمار، سینیٹر مولانا عطاء الرحمن، وزیر مملکت برائے مذہبی امور کھیل داس کوہستانی، سینیٹر طاہر خلیل سندھو، بشریٰ انجم بٹ، فیصل سلیم رحمان، شہادت اعوان، ناصر بٹ، کامران مرتضیٰ، رکن قومی اسمبلی سید عبدالقادر گیلانی اور سیکرٹری سینیٹ سید حسنین حیدر سمیت اراکینِ پارلیمنٹ اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ قومی اقلیتی دن بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کے وژن اور آئینِ پاکستان میں درج مساوات، آزادی، انسانی وقار اور شمولیت کے بنیادی اصولوں سے تجدیدِ عہد کا ایک اہم موقع ہے۔
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے 11 اگست ‘اقلیتوں کے قومی دن’ کے موقع پر اپنے خصوصی پیغامات میں ملک کی تعمیر و ترقی، دفاع، تعلیم اور صحت سمیت تمام شعبوں میں اقلیتی برادری کے گراں قدر کردار کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اپنے پیغام میں کہا کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 25 کے تحت ملک کے تمام شہری بلاامتیازِ رنگ، نسل، جنس اور مذہب برابر ہیں اور انہیں مساوی قانونی تحفظ حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ 11 اگست 1947ء کو بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے اپنے تاریخی خطاب میں تمام شہریوں کو مکمل مذہبی آزادی، مساوات اور رواداری کی ضمانت دی تھی، اور موجودہ ریاست اسی وژن پر پوری طرح عمل پیرا ہے۔
سردار ایاز صادق نے قومی تاریخ میں غیر مسلم شخصیات کی نمایاں خدمات کا ذکر کرتے ہوئے سابق ڈپٹی سپیکر سی ای گبن، ایس پی سنگھا، جسٹس اے آر کارنیلیئس، جسٹس دراب پٹیل، جسٹس رانا بھگوان داس، ڈاکٹر رتھ فاؤ، سکواڈرن لیڈر سیسل چوہدری، گروپ کیپٹن کامران بشیر اور معروف سفارتکار جمشید مارکر کی خدمات کو ناقابلِ فراموش قرار دیا۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ قومی اسمبلی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے قانون سازی کا سلسلہ جاری رکھے گی۔
ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ اقلیتوں کا قومی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کے استحکام میں تمام مذاہب کے ماننے والوں نے حصہ لیا ہے۔ رواداری، باہمی احترام اور مذہبی آزادی ہی ایک مضبوط اور پرامن معاشرے کی بنیاد ہیں، اور پارلیمان تمام شہریوں کو مساوی مواقع کی فراہمی کے لیے اپنا فعال کردار ادا کرتی رہے گی۔
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ممبر یورپین پارلیمنٹ اوندرے دوستال نے پارلیمنٹ ہاؤس میں اہم ملاقات کی، جس میں پاکستان اور یورپی یونین کے دوطرفہ تعلقات، پارلیمانی سفارت کاری اور اہم علاقائی و عالمی امور پر تفصیل سے بات چیت کی گئی۔
ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور دونوں ایوانوں کے درمیان پارلیمانی روابط اور باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ قومی اسمبلی نے قانون سازی، پارلیمانی اصلاحات اور عوامی فلاح کے امور پر نمایاں پیشرفت کی ہے، جبکہ خواتین و بچوں کے حقوق اور پائیدار ترقی کے اہداف کے لیے خصوصی کاکس اور سیکرٹریٹ فعال طور پر کام کر رہے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلیوں پر بات کرتے ہوئے سپیکر نے کہا کہ پاکستان گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں انتہائی کم حصہ رکھنے کے باوجود عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ اس حوالے سے قومی اسمبلی کا ‘گرین پارلیمنٹ منصوبہ’ ماحولیاتی تحفظ اور قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کا عملی ثبوت ہے۔
سردار ایاز صادق نے مزید کہا کہ پنجاب میں اساتذہ کی تربیت، فنی و پیشہ ورانہ تعلیم اور دیگر شعبوں میں اصلاحات قابلِ تحسین ہیں۔ پاکستان کے پاس باصلاحیت اور ہنرمند افرادی قوت موجود ہے جس سے یورپی یونین تعلیمی اور روزگار کے شعبوں میں استفادہ کر سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان دنیا بھر میں پائیدار امن کا خواہاں ہے اور تمام تنازعات کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہتا ہے، جیسا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کا ثالثی کا کردار اس عزم کی روشن مثال ہے۔
یورپی پارلیمنٹ کے رکن اوندرے دوستال نے علاقائی امن، پارلیمانی سفارت کاری اور بین الاقوامی تعاون کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین اور پاکستان کے دوستانہ تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے قدرتی حسن کی بھی تعریف کی۔
اعلیٰ عدلیہ میں نئے ججز کی تعیناتی اور کنفرمیشن کی سمری کی منظوری نہ ہونے پر پیدا ہونے والا آئینی تنازع شدید تر ہو گیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس سنگین معاملے پر صدرِ مملکت، وزیراعظم اور وزارتِ قانون کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کل تک حتمی جواب طلب کر لیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے درخواست گزار لقمان ظفر کی آئینی درخواست پر سماعت کی۔ کیس کی پیروی زاہد آصف چوہدری ایڈووکیٹ نے کی۔
سماعت کے دوران جسٹس ارباب محمد طاہر نے وفاقی حکومت کی عدم توجہی پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ “وفاقی حکومت کیا کر رہی ہے؟ کیا آپ کی اس اہم معاملے میں کوئی دلچسپی نہیں؟ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو اس سے کوئی غرض ہی نہیں۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تعیناتی کے ساتھ یہ کیا مذاق ہو رہا ہے؟ ہمیں امید تھی کہ وفاقی حکومت اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ سمری اس وقت کس مرحلے پر رکی ہوئی ہے؟”
فاضل جج نے مزید نشاندہی کی کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی جانب سے منظور شدہ سندھ اور پشاور ہائیکورٹ کے ججز کی کنفرمیشن کا معاملہ بھی روک دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح سمری اپنے پاس رکھ کر تو نہیں بیٹھا جا سکتا، پہلے 15 دن کی آئینی مدت کا کہا جا رہا تھا لیکن اب تو 18 دن گزر چکے ہیں۔
درخواست گزار کے وکیل زاہد آصف چوہدری نے موقف اختیار کیا کہ آئین میں ججز تعیناتی کا طریقہ کار بالکل واضح ہے۔ مقررہ وقت گزر جانے کے بعد صدرِ مملکت اس طرح سمری کو روکے نہیں رکھ سکتے۔ اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بھی عدالت کو بتایا کہ قانونی و آئینی نقطہ نظر سے اب صدر اس سمری کو مسترد بھی نہیں کر سکتے۔
عدالت نے تمام فریقین اور وفاقی حکومت کو کل تک تفصیلی اور حتمی جواب جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الصباح کے درمیان اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں علاقائی صورتحال، مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کی تازہ ترین پیش رفت اور دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق گفتگو کے دوران کویتی وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الصباح نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے’ کے انعقاد پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو خصوصی مبارکباد پیش کی اور اس پیش رفت کو علاقائی سلامتی کے لیے اہم قرار دیا۔
ٹیلیفونک گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور کویت کے مابین تاریخی و برادرانہ دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے متعدد امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔ ترجمان نے بتایا کہ دونوں وزرائے خارجہ نے تجارت، معیشت اور سرمایہ کاری سمیت اہم شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے پر مکمل اتفاق کیا۔
مزید برآں، دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کی ابھرتی ہوئی صورتحال اور درپیش چیلنجز پر باہم مشاورت اور قریبی رابطہ برقرار رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے کہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں کسی غیر ملکی دفاعی یا فوجی معاہدے کا حصہ بننا کوئی نئی بات نہیں، بلکہ ملک ماضی میں بھی مختلف عالمی عسکری بلاکس کا اہم رکن رہ چکا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک تحریری بیان میں افراسیاب خٹک نے ملکی خارجہ و دفاعی پالیسی کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ماضی میں سیٹو اور سینٹو جیسے معاہدو ں کا باقاعدہ رکن رہا ہے، جبکہ بعد میں امریکہ کی جانب سے ‘نان نیٹو اتحادی’ کا درجہ بھی حاصل رہا۔ لہٰذا عسکری اتحادوں میں شمولیت پاکستان کی تاریخ میں پہلے بھی متعدد بار دیکھی جا چکی ہے۔
سابق سینیٹر نے تاریخ کے تلخ حقائق اور نتائج پر بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ ماضی کے تمام تجربات اس بات کے گواہ ہیں کہ بیرونی طاقتوں کے تعاون اور عسکری سرپرستی نے پاکستان میں جمہوریت کو فائدہ پہنچانے کے بجائے ہمیشہ غیر جمہوری عناصر اور آمریت کو تقویت بخشی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ محض بیرونی امداد یا دفاعی معاہدے کسی بھی ملک کے عوام کو حقیقی طور پر بااختیار نہیں بنا سکتے۔ ریاست کے پائیدار استحکام اور عوام کو سیاسی اختیار دینے کے لیے ملک کے اندرونی جمہوری نظام کا مضبوط ہونا اور آئین و قانون کی پاسداری ہونا بنیادی شرط ہے۔
افراسیاب خٹک نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ پاکستان میں عوامی اختیار اور حقیقی جمہوریت کے قیام کے لیے قانون کی حکمرانی، آزادانہ احتساب اور اداروں کی آئینی حدود میں کارکردگی ہی واحد راستہ ہے، جس سے ملک کو بحرانوں سے نکالا جا سکتا ہے۔
نائب وزیراعظم اور وفاقی وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے جنوب مشرقی ایشیائی اقوام کی تنظیم کے 59 ویں یومِ تاسیس کے موقع پر پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے آسیان کے تمام رکن ممالک کی قیادت اور عوام کو دلی مبارکباد پیش کی ہے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ پیغام کے مطابق نائب وزیراعظم نے آسیان کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر کاؤ کِم ہورن کو بھی ان کی متحرک قیادت اور خطے میں پائیدار خوشحالی و استقامت کے وژن کو فروغ دینے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ اسحاق ڈار نے اپنے پیغام میں کہا کہ ‘آسیان ڈے’ اتحاد، یکجہتی اور باہمی تعاون کے اس پائیدار جذبے کی عکاسی کرتا ہے جس نے جنوب مشرقی ایشیا کے تمام ممالک کو ایک مضبوط رشتے میں جوڑ رکھا ہے۔
سینیٹر اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان آسیان کے رکن ممالک کے ساتھ اپنی دیرینہ دوستی، سفارتی تعلقات اور اسٹریٹجک شراکت داری کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسیان علاقائی انضمام، معاشی ترقی، سماجی ہم آہنگی اور سفارتی روابط کی ایک مثالی اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ مثال بن کر ابھری ہے۔
نائب وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان اور آسیان کے تعلقات باہمی احترام، عدم مداخلت اور تعمیری روابط کے بنیادی اصولوں پر قائم ہیں۔ پاکستان نے آسیان کے زیرِ اہتمام ہونے والے تمام اہم مذاکراتی فریم ورکس اور ‘آسیان ریجنل فورم’ میں ہمیشہ متحرک کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان آسیان کے ساتھ تجارت، بلاواسطہ سرمایہ کاری، تعلیم، ثقافت، ٹیکنالوجی اور عوامی سطح پر روابط کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے۔ موجودہ عالمی ناگفتہ بہ حالات اور درپیش چیلنجز کے دور میں آسیان کا امن و بات چیت کا راستہ ہی واحد مؤثر حل ہے اور پاکستان خطے کی جامع ترقی و استحکام کے لیے آسیان کے قریبی اتحادی کے طور پر کام جاری رکھے گا۔
وفاقی دارالحکومت میں ڈینگی کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اٹھائے گئے مؤثر اقدامات اور لاروا کنٹرول آپریشنز کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ رواں سال یکم جنوری سے 6 اگست تک اسلام آباد بھر میں ڈینگی کے صرف 3 کیسز سامنے آئے ہیں۔
یہ پیش رفت ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن کی زیرِ صدارت منعقدہ اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس میں سامنے آئی۔ اجلاس میں وفاقی دارالحکومت سمیت لاہور، فیصل آباد، ملتان اور راولپنڈی میں ڈینگی کی موجودہ صورتحال اور سال 2024، 2025 اور 2026 کے اعداد و شمار کا تفصیلی تقابلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ گزشتہ 15 دنوں کے دوران ڈینگی ایس او پیز کی خلاف ورزی اور لاروا کی افزائش کا سبب بننے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائیاں کی گئی ہیں۔ اس دوران 170 افراد کو گرفتار، 35 مقامات کو سیل، 70 مقدمات درج اور 21 لاکھ روپے سے زائد کے بھاری جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
بریفنگ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ گزشتہ پندرہ روز کے دوران مختلف ہاٹ سپاٹس سے 7,066 مثبت اور 499 منفی لاروا پوائنٹس رپورٹ ہوئے، جبکہ ‘انڈور ویکٹر سرویلنس’ مہم کے تحت اسلام آباد کے 1 لاکھ سے زائد گھروں کی تفصیلی انسپکشن مکمل کر لی گئی ہے۔
اجلاس میں سی ڈی اے، لوکل گورنمنٹ اور دیگر متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن نے تمام اداروں کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی صحت کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ڈینگی کی روک تھام کے لیے تمام تر وسائل کا استعمال جاری رہے گا۔
ڈائریکٹوریٹ آف ورکرز ایجوکیشن کے زیرِ اہتمام 30 جولائی کو کوئٹہ کے علاقے سورینج کی کوئلہ کان میں پیش آنے والے دلخراش حادثے میں جاں بحق ہونے والے 34 کان کنوں کی یاد میں ایک تعزیتی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اجلاس میں شہداء کے ایصالِ ثواب، ان کی درجات کی بلندی اور متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز قانون دان اور سابق ممبر نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن سید نور حسنین نے کہا کہ سورینج جیسے المناک حادثات سے بچنے کے لیے نہ صرف حفاظتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروانے کی ضرورت ہے بلکہ ورکرز، مالکان اور انتظامیہ کی آگاہی بھی انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مزدوروں کے تحفظ کے لیے جدید سیکیورٹی اور ہنگامی انتظامات کی اشد ضرورت ہے جس کے لیے ایک جامع قومی منصوبہ مرتب کیا جانا چاہیے۔
اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ڈی ڈبلیو ای محمد اکبر رائے نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ورکرز ایجوکیشن اور حفاظتی تدابیر سے آگاہی وقت کی بنیادی ضرورت ہے، کیونکہ صحت مند اور محفوظ ورکرز ہی ملک کا اصل اثاثہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے اجلاس میں ایک مذمتی و تعزیتی قرارداد بھی پیش کی، جسے حاضرین نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔
ڈی جی ڈی ڈبلیو ای کا مزید کہنا تھا کہ ادارہ ملازمین اور ورکرز کی حفاظت کے لیے باقاعدگی سے آگاہی کورسز کا انعقاد کر رہا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ تمام سرکاری ادارے مزدوروں کے حقوق اور تحفظ کے لیے کوشاں ہیں اور مستقبل میں اس نوعیت کے حادثات کی روک تھام کے لیے آگاہی مہمات مزید تیز کی جائیں گی۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی “مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے” کو ملکی تاریخ کی ایک عظیم اور اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے سے پاکستان کی دفاعی صلاحیتیں اور سلامتی مزید مضبوط ہوگی۔
پاکستان پیپلز پارٹی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق پی پی پی چیئرمین نے اپنے ردِعمل میں کہا کہ مکہ دفاعی معاہدہ تینوں برادر ممالک یعنی سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے مستحکم، محفوظ اور خوشحال مستقبل کی کامل ضمانت ہے، جو عالمی اور علاقائی امن کے قیام کے لیے بھی ایک تاریخی دستاویز ثابت ہوگی۔
بلاول بھٹو زرداری نے اس معاہدے کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتی و دفاعی کاوشوں کی بھرپور پذیرائی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ خطے اور اسلامی دنیا میں پائیدار امن، تحفظ اور یکجہتی کا سنگِ بنیاد ثابت ہوگا۔
یاد رہے کہ مکہ مکرمہ کے قصر الصفا میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان کسی بھی ایک ریاست پر بیرونی مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، جس کا اجتماعی طور پر دفاعی جواب دیا جائے گا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کی ممتاز اور خیبرپختونخوا سے تعاق رکھنے والی پہلی خاتون جج جسٹس مسرت ہلالی اپنی آئینی مدت پوری ہونے کے بعد عہدے سے ریٹائر ہو گئی ہیں۔ ان کے اعزاز میں سپریم کورٹ کے پرنسپل سیٹ اسلام آباد میں چیف جسٹس پاکستان کی زیرِ صدارت فل کورٹ ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔
اس تاریخی و وقار تقریب میں سپریم کورٹ کے ججز، لاء افسران اور وکلا کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ریفرنس میں سپریم کورٹ کے 9 ججز نے اسلام آباد سے بالمشافہ شرکت کی جبکہ 4 ججز نے کراچی اور 3 ججز نے لاہور رجسٹری سے ویڈیو لنک کے ذریعے حصہ لیا۔
اپنے اعزاز میں منعقدہ فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس مسرت ہلالی جذبات سے مغلوب ہو گئیں اور اپنے مرحوم والدین کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے والدین کی بے حد مشکور ہیں جن کی تربیت، دعاؤں اور رہنمائی کی بدولت وہ اس اعلیٰ مقام تک پہنچیں۔ اپنے والد کا ذکر کرتے ہوئے ان کی آنکھیں نم ہو گئیں اور انہوں نے کہا کہ والد کے ساتھ کم وقت گزارنے کا موقع ملا لیکن زندگی کے اہم اسباق انہی سے سیکھے۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ جج مقرر ہوئیں تو اسی دوران ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا جس کا دکھ انہیں آج بھی ہے کہ وہ اپنی والدہ کو اس منصب پر فائز نہ دیکھ سکیں۔
جسٹس مسرت ہلالی نے چیف جسٹس پاکستان اور تمام ساتھی ججز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ججز کی دوستی، اعتماد اور تعاون نے ہر مرحلے پر ان کو حوصلہ دیا۔ اپنے عدالتی سفر کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ خیبرپختونخوا کی پہلی خاتون تھیں جنہوں نے بار کا انتخاب جیتا، جس کے بعد وہ پشاور ہائیکورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس اور پھر صوبے سے سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج بننے کے تاریخی اعزاز کی حامل رہیں۔
انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ ججز آتے جاتے رہتے ہیں لیکن آئین اور انصاف کی حکمرانی ہمیشہ قائم رہنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مکمل اطمینان کے ساتھ ریٹائر ہو رہی ہیں کیونکہ جو کچھ بھی انہوں نے حاصل کیا وہ والدین کی دعاؤں، محنت اور ساتھی ججز کی حمایت سے ممکن ہوا۔
فل کورٹ ریفرنس کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کا خصوصی پیغام پڑھ کر سنایا جس میں جسٹس مسرت ہلالی کی قانون، عدالتی خدمات، اعلیٰ پیشہ ورانہ دیانت اور انصاف کی فراہمی کے لیے ان کے کلیدی کردار کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان سول ایوارڈز کمیٹی نے آئینِ پاکستان اور مقررہ قانونی ضوابط کے مطابق سائنس، تعلیم، ادب، فن اور عوامی خدمت کے شعبوں میں غیر معمولی خدمات انجام دینے والی ممتاز شخصیات کی نامزدگیوں کا حتمی جائزہ لے لیا ہے۔
پاکستان سول ایوارڈز کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح خالص میرٹ کی بنیاد پر ان قومی ہیروز کو اعزازات سے نوازنا ہے جنہوں نے اپنی بے پناہ صلاحیتوں، انتھک محنت اور خدمات کے ذریعے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔
پروفیسر احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ جب کوئی قوم اپنے حقیقی معماروں اور محسنوں کی خدمات کا اعتراف کرتی ہے، تو یہی عزت و احترام آنے والی نسلوں کے لیے تحریک، حوصلہ اور وطنِ عزیز کی خدمت کے جذبے کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ بنتا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ سول ایوارڈز کی فراہمی کا عمل مکمل شفافیت، انصاف اور میرٹ پر استوار رکھا جائے گا تاکہ ملک کے حقیقی محسنوں کی پذیرائی ممکن ہو سکے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) نے کنگڈم ویلی پرائیویٹ لمیٹڈ اور دیگر کے خلاف عام شہریوں سے دھوکہ دہی کے ذریعے کروڑوں روپے ہتھیانے اور سنگین خرد برد کے الزامات پر باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
نیب کے ریجنل بیورو اسلام آباد/راولپنڈی کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق اس نجی ہاؤسنگ منصوبے کے متاثرین کو کہا گیا ہے کہ وہ ایک ماہ کے اندر اپنی تمام تر تحریری درخواستیں اور ثبوت نیب دفاتر میں جمع کروائیں۔
نیب حکام کے مطابق متاثرین اپنی درخواستوں کے ساتھ اپنے قومی شناختی کارڈ کی کاپی، بیانی حلفی، سرمایہ کاری کا باقاعدہ معاہدہ، اصل الاٹمنٹ لیٹر اور بینک ادائیگیوں کی تمام تر رسیدیں و ثبوت لازمی منسلک کریں۔ اس اقدام کا مقصد عوام الناس کی محنت کی کمائی کو فراڈ سے بچانا اور متاثرین کو انصاف فراہم کرنا ہے۔
مختلف ہائی کورٹس میں ججز کی تقرری کی سمری پر صدرِ مملکت کی جانب سے تاحال منظوری نہ دینے کے معاملے پر قانونی و آئینی تنازع شدید تر ہو گیا ہے، جس کے بعد اس اہم معاملے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے صدر کو سمری فوری منظور کرنے کی ہدایت جاری کرنے کی استدعا کر دی گئی ہے۔
ایڈووکیٹ لقمان ظفر نے ایڈووکیٹ زاہد آصف چوہدری کی وساطت سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی، جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالتِ عالیہ صدرِ مملکت کو بذریعہ سیکرٹری ہدایت جاری کرے کہ وہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (JCP) کی جانب سے بھیجی گئی ججز کی تقرری سے متعلق سمری کو بلاتاخیر منظور کریں۔
درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے رواں سال 20 اور 21 جولائی کو منعقدہ اپنے اجلاسوں میں ملک کی مختلف ہائی کورٹس کے لیے 19 ججز کی تقرری کی سفارشات کی منظوری دے کر سمری ایوانِ صدر ارسال کی تھی، تاہم کافی دن گزر جانے کے باوجود صدرِ مملکت کی جانب سے اس کی منظوری نہیں دی گئی۔
درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ ججوں کی تقرری کے آئینی عمل کو مکمل کرنا ریاست کے اہم ستونوں کی کارکردگی اور سائلین کو انصاف کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے، لہٰذا عدالت صدرِ مملکت کو آئین اور قانون کی روشنی میں فوری طور پر تقرری کی سمری پر صحافتی اور قانونی کارروائی مکمل کرنے کے احکامات صادر فرمائے۔
پاکستان نے بھارت کے 5 اگست 2019ء کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے سات برس مکمل ہونے کے موقع پر دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ان تمام سیاہ اقدامات کا بنیادی مقصد بھارتی غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل کرنا اور خطے کی ڈیموگرافی کو مسخ کرنا تھا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے یومِ استحصال کے موقع پر جاری کردہ باضابطہ بیان میں اس عزم کا بھرپور اعادہ کیا گیا ہے کہ پاکستان جموں و کشمیر کے غیور عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے جاری ان کی منصفانہ اور تاریخی جدوجہد کی ہر سطح پر بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔ بیان میں مقبوضہ وادی کے عوام کی غیر معمولی جرات، استقامت، ثابت قدمی اور طویل ریاستی جبر کے خلاف غیر متزلزل عزم کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید واضح کیا کہ پاکستان، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے عین مطابق کشمیری عوام کے پیدائشی حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے اپنی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا، اور جب تک کشمیریوں کو ان کا جائز حق نہیں مل جاتا، پاکستان عالمی فورمز پر ان کا مؤثر اور توانا ترجمان بنا رہے گا۔
وفاقی وزیر برائے قانون، انصاف و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ 5 اگست 2019ء کے بھارتی یکطرفہ اقدامات نے نہ صرف خطے کی صورتحال کو ایک نئے اور حساس مرحلے میں داخل کیا بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کے بنیادی حقوق، منفرد شناخت اور مستقبل سے متعلق اہم قانونی و انسانی پہلوؤں کو عالمی سطح پر مزید نمایاں کر دیا ہے۔ انہوں نے حکومتِ پاکستان اور پوری پاکستانی قوم کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے غیور عوام کے ساتھ مکمل اور غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں وفاقی وزیر سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آج کا دن پوری دنیا کو یاد دلاتا ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کئی دہائیوں سے بے پناہ مشکلات، شدید غیر یقینی صورتحال اور اپنے بنیادی انسانی حقوق سے متعلق سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کشمیریوں کی امن، انصاف اور اپنے جائز حقوق کے حصول کی مسلسل خواہشات عالمی برادری اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی سنجیدہ توجہ کی متقاضی ہیں۔
وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق کی حیثیت سے انہوں نے اپنے پختہ یقین کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق آفاقی، ناقابلِ تقسیم اور ہر انسان کا بنیادی حق ہیں، اور دنیا کے ہر فرد کو بلاامتیاز عزت، مساوات، آزادی اور قانون کے مساوی تحفظ کے ساتھ زندگی گزارنے کا بنیادی حق حاصل ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اپنے اس اصولی اور قانونی مؤقف پر قائم ہے کہ جموں و کشمیر کے مسئلے کا دائمی، منصفانہ اور پائیدار حل صرف اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی آزادانہ خواہشات کے مطابق ہی ممکن ہے۔ سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اعادہ کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت ہر سطح پر جاری رکھے گا اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام مناسب بین الاقوامی فورمز پر اپنا مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یومِ استحصالِ کشمیر پر ہم انصاف، انسانی وقار، امن اور قانون کی بالادستی کے لیے اپنے عزم کی تجدید کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ وہ دن جلد آئے جب جموں و کشمیر کے عوام مکمل امن، آزادی اور وقار کے ساتھ اپنی زندگی بسر کر سکیں۔
خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز نے قومی وژن ‘عزمِ استحکام’ کے تحت انتہائی موثر اور کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے متعدد دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا اور ان کے ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔
سیکیورٹی ذرائع کی جانب سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق لکی مروت کے مختلف علاقوں میں کی جانے والی ان ٹارگٹڈ کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے خفیہ اور مضبوط ٹھکانے تباہ کر دیے، جس کے نتیجے میں متعدد دہشت گرد ہلاک اور متعدد شدید زخمی ہوئے۔ آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے خوارجیوں کے تحویل سے بھاری مقدار میں جدید اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر جنگی سامان بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تمام تر انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کے دوران اس اہم بات کو ہر ممکن حد تک یقینی بنایا جا رہا ہے کہ مقامی شہری آبادی اور عوام کے جان و مال کا مکمل تحفظ رہے اور انہیں کسی بھی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔
ذرائع نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز خیبر پختونخوا میں پائیدار امن و استحکام کے قیام، عوام کے تحفظ اور ملک سے دہشت گردی کے ناطق اور مکمل خاتمے تک اپنی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھیں گی۔
وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان اس وقت توانائی کے شعبے میں ایک تاریخی اور انقلابی تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے، جہاں ملک میں سولر پاور کی مجموعی پیداواری استعداد 38 ہزار میگاواٹ کے قریب جا پہنچی ہے۔
سولر، اسٹوریج اینڈ فلیکسیبلٹی کانفرنس سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی نے واضح کیا کہ پاکستان میں اب بجلی کی پیداوار کی کمی کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ سب سے بڑا چیلنج پیدا ہونے والی بجلی کا مؤثر استعمال اور اسے ذخیرہ (اسٹوریج) کرنا ہے۔ انہوں نے بتایاک ہ دن کے اوقات میں سولر کی وجہ سے بجلی کی اضافی پیداوار میسر ہوتی ہے جبکہ شام ہوتے ہی طلب میں یکدم نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے جس سے گرڈ پر دباؤ بڑھتا ہے۔
اویس لغاری نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز بجلی کی ترسیل کے نظام کی بہتری اور گرڈ کے استحکام کے لیے انتہائی ناگزیر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی وسائل سے پیدا ہونے والی بجلی ملکی توانائی کی خودمختاری کو مضبوط بناتی ہے، جبکہ درآمدی ایندھن پر مسلسل انحصار پاکستان کی معیشت اور توانائی کی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ حال ہی میں قطر سے آر ایل این جی کی ترسیل متاثر ہونے پر ملک کو رات کے اوقات میں مجبورا ًلوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ دن کے وقت سولر کی وافر دستیابی کی وجہ سے صورتحال نسبتاً بہتر اور قابو میں رہی۔
وزیر توانائی نے اہم اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت پاکستان کی کل بجلی کی پیداوار میں صاف ستھری توانائی (کلین انرجی) کا حصہ 55 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جبکہ حکومت نے سال 2035ء تک اس حصے کو 90 فیصد تک لے جانے کا بڑا ہدف مقرر کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صرف سولر اور ونڈ پاور کے ذریعے یہ 90 فیصد کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ جدید بیٹری اسٹوریج کا نظام موجود نہ ہو۔
حکومتی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے اویس لغاری نے اعلان کیا کہ پاکستان میں باہر سے بیٹریوں کی صرف درآمد پر انحصار نہیں کیا جائے گا بلکہ مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ اور انڈسٹری کو فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) میں بیٹری انرجی اسٹوریج کے پائلٹ منصوبوں کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی ہے، اور ان پائلٹ پروجیکٹس سے حاصل ہونے والا ڈیٹا اور نتائج مستقبل کی قومی ریگولیٹری پالیسی کی بنیادی بنیاد بنیں گے۔
تقریب کے اختتام پر وفاقی وزیر توانائی نے عالمی سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو پاکستان کے توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی کھلی دعوت دی اور یقین دہانی کرائی کہ اس کانفرنس سے سامنے آنے والی تمام عملی سفارشات کو براہِ راست حکومتی پالیسی سازی کا حصہ بنایا جائے گا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر اور سینیٹر شیری رحمان نے آزاد کشمیر انتخابات کے دوران مظفرآباد کے حلقہ ایل اے 27 اور یونین کونسل بھیری میں ہونے والی مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں اور دھاندلی پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور آزاد کشمیر کے الیکشن حکام سے فوری اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اپنے ایک باضابطہ اور اہم مذمتی بیان میں سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے روایتی اور مضبوط حلقوں میں مسلم لیگ (ن) ایک بار پھر انتخابی عمل کو متنازع، غیر شفاف اور مجروح کرنے کی مذموم کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حلقہ ایل اے 27 میں سرکاری پولنگ عملہ بیلٹ پیپرز اور دیگر انتخابی مواد سمیت مسلم لیگ (ن) کے ایک مقامی حامی کے گھر سے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے، جو کہ انتخابی اصولوں کی شدید ترین خلاف ورزی ہے۔
شیری رحمان کا کہنا تھا کہ سرکاری انتخابی عملے کی کسی نجی گھر میں موجودگی اور وہاں بیلٹ پیپرز پر زبردستی ٹھپے لگانے کی موصول ہونے والی اطلاعات انتہائی تشویشناک اور قابلِ مذمت ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے کی جانے والی اس ننگی دھاندلی اور بے ضابطگیوں سے متعلق تمام تر ویڈیو شواہد اور ثبوت الیکشن حکام اور متعلقہ اداروں کے حوالے کر دیے گئے ہیں تاکہ حقیقت سچائی کے ساتھ سامنے آ سکے۔
انہوں نے مزید زور دے کر کہا کہ الیکشن کمیشن فوری طور پر انتظامی اور قانونی کارروائی عمل میں لاتے ہوئے عوام کا انتخابی عمل پر متزلزل ہوتا اعتماد بحال کرے۔ شیری رحمان کے مطابق اس نوعیت کے افسوسناک واقعات انتخابی شفافیت، الیکشن کی غیر جانبداری اور تمام متعلقہ اداروں کی ساکھ پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا فوری ازخود نوٹس لیں اور ایک آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور اعلیٰ سطحی شفاف تحقیقات کو یقینی بنائیں۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے ملک کی تمام رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو آئینی و قانونی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کراتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 204 اور 210 اور الیکشن رولز 2017 کے قاعدہ 159 اور 160 کے تحت مالی سال 26-2025ء کے اپنے تمام مالیاتی و حسابی گوشوارے 29 اگست 2026ء تک یا اس سے قبل الیکشن کمیشن میں لازمی جمع کروائیں۔
الیکشن کمیشن کے ترجمان کی جانب سے جاری کیے گئے باضابطہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 210 کے تحت تمام سیاسی جماعتوں پر فرض ہے کہ وہ مالی سال کے اختتام کے 60 دنوں کے اندر اندر اپنے تمام اکاؤنٹس کا مربوط گوشوارہ مخصوص ‘فارم-ڈی’ پر تیار کر کے کمیشن میں پیش کریں۔ اس میں سیاسی جماعت کے تمام اثاثوں، واجبات، آمدن کے ذرائع اور اخراجات کی مکمل و شفاف تفصیلات کا ہونا قانونی طور پر لازمی ہے۔
ترجمان نے مزید وضاحت کی کہ الیکشن کمیشن کو جمع کروائی جانے والی اس آڈٹ رپورٹ کی تیاری اور منظوری کسی مستند چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ سے ہونی چاہیے، جبکہ اس دائر کردہ رپورٹ پر پارٹی کے سربراہ یا ان کے مجاز نمائندے کے باضابطہ دستخط ہونا ضروری ہیں۔ اس کے علاوہ، پارٹی سربراہ کی جانب سے ایک تصدیقی بیان یا حلف نامہ بھی منسلک کیا جائے گا جس میں اس بات کی باضابطہ گواہی دی جائے گی کہ پارٹی کو الیکشن ایکٹ 2017 کے احکامات کے برعکس کسی بھی ممنوعہ یا غیر قانونی ذریعہ سے فنڈز حاصل نہیں ہوئے اور پیش کردہ گوشواروں میں پارٹی کے مالی امور کی بالکل درست اور حقیقی تصویر پیش کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے مقررہ وقت کے اندر تمام تر کاغذی کارروائی مکمل کر کے رپورٹ ای سی پی کے دفتر میں جمع کروائیں، تاکہ شفافیت اور گڈ گورننس کا معیار برقرار رکھا جا سکے۔