

کاشف عباسی ,October10,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اکتوبر 2026ء
بلوچستان کے مغربی زون میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت جاری چار سڑک منصوبوں کے لیے مختص 83.2 ارب روپے میں سے 54.9 ارب روپے کے فنڈز کے اجرا اور اخراجات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق، یہ رقم مجموعی مختص بجٹ کا تقریباً 66 فیصد بنتی ہے، جبکہ دونوں کے درمیان تقریباً 28.3 ارب روپے کا فرق موجود ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کی رپورٹ کے مطابق، ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات میں ان منصوبوں کو مالی سال 2020-21 سے 2026-27 تک کے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں شامل دکھایا گیا ہے۔ چاروں منصوبوں کے تحت مجموعی طور پر 718 کلومیٹر طویل سڑکوں کی تعمیر اور ترقی کا احاطہ کیا گیا ہے۔
چار سڑک منصوبوں کے لیے مختص رقوم اور اخراجات
سرکاری دستاویزات میں درج تفصیلات کے مطابق، منصوبوں کی مالی صورتِ حال درج ذیل ہے:
- ہوشاب تا آواران، ایم-8: 146 کلومیٹر طویل اس حصے کے لیے 18.30 ارب روپے مختص کیے گئے، جبکہ فنڈز کے اجرا اور اخراجات کی مد میں 9.75 ارب روپے ریکارڈ ہوئے۔ یہ مختص رقم کا تقریباً 53 فیصد ہے۔
- آواران تا نال، ایم-8: 168 کلومیٹر طویل اس منصوبے کے لیے 27.28 ارب روپے مختص ہیں، جبکہ 20.45 ارب روپے کے فنڈز کے اجرا اور اخراجات درج کیے گئے۔ یہ تناسب تقریباً 75 فیصد بنتا ہے۔
- بسیمہ تا خضدار، این-30: 106 کلومیٹر طویل شاہراہ کے لیے 13.75 ارب روپے مختص کیے گئے، جبکہ 12.97 ارب روپے ریکارڈ ہوئے۔ یہ تقریباً 94 فیصد بنتا ہے اور چاروں منصوبوں میں سب سے زیادہ تناسب ہے۔
- ژوب تا کچلاک، این-50: 298 کلومیٹر طویل اس حصے کے لیے 23.85 ارب روپے مختص کیے گئے، جبکہ 11.707 ارب روپے کے فنڈز کے اجرا اور اخراجات ریکارڈ کیے گئے۔ یہ تناسب تقریباً 49 فیصد ہے۔
بسیمہ تا خضدار منصوبے کا تناسب سب سے زیادہ
اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختص رقم کے مقابلے میں بسیمہ تا خضدار منصوبے کے لیے فنڈز کے اجرا اور اخراجات کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔ آواران تا نال منصوبہ تقریباً 75 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ ہوشاب تا آواران اور ژوب تا کچلاک منصوبوں میں یہ تناسب بالترتیب تقریباً 53 اور 49 فیصد ہے۔
تاہم، فنڈز کے اجرا اور اخراجات کے اعدادوشمار کو منصوبوں کی تکمیل کی شرح کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا۔ منصوبوں کی عملی پیش رفت جانچنے کے لیے تعمیر شدہ سڑکوں کی لمبائی، کام کی موجودہ صورتِ حال اور تکمیل کی مقررہ مدت سے متعلق معلومات بھی ضروری ہیں۔
سی پیک کے وسیع تر رابطہ نظام کا حصہ
بلوچستان کے یہ منصوبے سی پیک کے تحت سڑکوں کے وسیع تر نیٹ ورک سے منسلک ہیں۔ فراہم کردہ سرکاری نقشے کے مطابق، اس نیٹ ورک میں مشترکہ، مغربی، وسطی اور مشرقی روٹس شامل ہیں، جن کی لمبائی بالترتیب 983، 1,511، 1,440 اور 1,709 کلومیٹر بتائی گئی ہے۔
ان شاہراہوں کا مقصد مختلف علاقوں کے درمیان زمینی رابطے کو بہتر بنانے میں مدد دینا ہے۔ تاہم، ان منصوبوں کے معاشی اور تجارتی اثرات کا اندازہ ان کی تکمیل، آمدورفت میں بہتری اور عملی استعمال کے بعد زیادہ واضح طور پر لگایا جا سکے گا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
اس خبر میں دی گئی مالی تفصیلات فراہم کردہ اے پی پی رپورٹ اور اس میں حوالہ دی گئی سرکاری دستاویزات پر مبنی ہیں۔ 54.9 ارب روپے کی رقم کو فنڈز کے اجرا اور اخراجات کی مد میں مجموعی طور پر ریکارڈ کیا گیا ہے؛ اسے صرف مکمل شدہ تعمیراتی کام یا صرف خرچ شدہ رقم قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
ماخذ: ویلتھ پاکستان میں حوالہ دی گئی سرکاری دستاویزات