Latest news

فاروق عبداللہ کے بیان پر بھارت میں سیاسی ہنگامہ، بی جے پی اور کانگریس کی تنقید

Spread the love

محمود احمد، 25 اکتوبر 2026

سرینگر (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اکتوبر 2026ء

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے سابق وزیرِ اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے رہنما فاروق عبداللہ کے ایک بیان پر بھارتی سیاست میں تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ فاروق عبداللہ نے ضلع بارہمولہ میں پارٹی کے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کا نام لیے بغیر کہا کہ کشمیر کے معاملے پر ان کا ہمسایہ ملک اس خطے کی حفاظت کر رہا ہے۔ ان کے اس بیان پر حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے اسے بھارت مخالف قرار دیا، جبکہ کانگریس کے بعض رہنماؤں نے بھی کہا کہ انہیں اس نوعیت کا بیان نہیں دینا چاہیے تھا۔

یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے، حلقہ بندیوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں سیاسی اختیارات کے معاملات پر بحث جاری ہے۔ فاروق عبداللہ نے اپنی تقریر میں بھارتی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا الزام بھی عائد کیا۔

بارہمولہ میں فاروق عبداللہ کا خطاب

فاروق عبداللہ ہفتے کے روز بارہمولہ میں نیشنل کانفرنس کے ایک پروگرام میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کر رہے تھے۔ اپنی تقریر میں انہوں نے آرٹیکل 370 کے تحت جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت ختم کیے جانے اور حلقہ بندیوں کے عمل کا ذکر کیا۔

انہوں نے بھارتی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دہلی سے انصاف کی توقع رکھنے کے بجائے لوگوں کو اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے حوصلہ پیدا کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگ اپنے مؤقف پر ثابت قدم نہ رہے تو ان کی شناخت اور سیاسی وجود کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اپنی تقریر کے دوران فاروق عبداللہ نے خطے کے تنازع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ہمسایہ ملک دنیا کے مختلف فورمز پر یہ مؤقف پیش کر رہا ہے کہ کشمیر کا فیصلہ ابھی باقی ہے۔ اسی گفتگو میں انہوں نے کہا: ’’وہ ہماری حفاظت کر رہا ہے۔‘‘

اگرچہ انہوں نے اس جملے میں پاکستان کا نام واضح طور پر نہیں لیا، لیکن بیان کو پاکستان کے کردار سے متعلق سمجھا گیا، جس کے بعد بھارتی سیاسی حلقوں میں ردِعمل سامنے آیا۔

بی جے پی کا سخت ردِعمل

فاروق عبداللہ کے بیان پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے اعتراض کرتے ہوئے اسے بھارت مخالف قرار دیا۔ بی جے پی کی جانب سے اس ردِعمل کے بعد کشمیر کے سیاسی مستقبل، پاکستان کے کردار اور بھارتی حکومت کی پالیسیوں سے متعلق بحث مزید نمایاں ہو گئی ہے۔

بی جے پی اور نیشنل کانفرنس کے درمیان جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت اور سیاسی انتظام کے معاملات پر اختلافات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ فاروق عبداللہ کی تنقید سے یہ اختلاف ایک بار پھر سیاسی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔

تاہم کسی سیاسی بیان کو بھارت مخالف قرار دینا بی جے پی کا مؤقف ہے؛ اس اصطلاح کو کسی غیر جانب دار یا عدالتی فیصلے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اس معاملے میں اصل تنازع فاروق عبداللہ کے الفاظ اور ان سے اخذ کیے جانے والے سیاسی مفہوم پر ہے۔

کانگریس رہنماؤں اور مذہبی شخصیات کا ردِعمل

کانگریس کے بعض رہنماؤں نے بھی فاروق عبداللہ کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایسے الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہیے تھے۔ اس ردِعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس معاملے پر اختلاف صرف بی جے پی اور نیشنل کانفرنس تک محدود نہیں رہا، بلکہ دیگر سیاسی حلقوں میں بھی اس بیان پر تحفظات سامنے آئے ہیں۔

متعدد مسلم مذہبی رہنماؤں نے بھی فاروق عبداللہ کے بیان کی مذمت کی۔ تاہم دستیاب معلومات میں ان رہنماؤں کے نام، ان کے مکمل بیانات یا تنقید کی تفصیلی وجوہات بیان نہیں کی گئیں۔

آرٹیکل 370 اور کشمیر کی سیاسی بحث

فاروق عبداللہ کی تقریر کا ایک اہم پہلو آرٹیکل 370 کے تحت جموں و کشمیر کی سابق خصوصی آئینی حیثیت کا خاتمہ تھا۔ اگست 2019 میں بھارتی حکومت نے اس خصوصی حیثیت کو ختم کرنے اور سابق ریاست کو دو مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں، جموں و کشمیر اور لداخ، میں تقسیم کرنے کے اقدامات کیے تھے۔

نیشنل کانفرنس سمیت کئی علاقائی سیاسی جماعتیں ان اقدامات پر اعتراض کرتی رہی ہیں، جبکہ بی جے پی نے انہیں اپنے سیاسی اور انتظامی مؤقف کے مطابق درست قرار دیا ہے۔ حلقہ بندیوں اور نمائندگی کے معاملات بھی کشمیر کی سیاست میں اختلافات کا باعث بنتے رہے ہیں۔

فاروق عبداللہ نے اپنی تقریر میں انہی معاملات کو بنیاد بناتے ہوئے بھارتی حکومت پر مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا الزام لگایا۔ یہ ان کا سیاسی مؤقف ہے، جبکہ حکمران جماعت اس معاملے پر مختلف نقطۂ نظر رکھتی ہے۔

تنازع کا آئندہ سیاسی اثر

فاروق عبداللہ کے بیان پر ردِعمل سے کشمیر کے معاملے پر بھارت کے اندر موجود سیاسی اختلافات دوبارہ نمایاں ہوئے ہیں۔ اس بحث میں ایک طرف قومی سلامتی اور پاکستان کے کردار سے متعلق مؤقف سامنے آ رہا ہے، جبکہ دوسری طرف علاقائی جماعتیں آئینی حیثیت، سیاسی نمائندگی اور شہری حقوق کے سوالات اٹھاتی رہی ہیں۔

تاحال فراہم کردہ معلومات میں اس تنازع کے نتیجے میں کسی قانونی کارروائی یا باضابطہ سرکاری اقدام کی تصدیق نہیں کی گئی۔ آئندہ سیاسی ردِعمل کا انحصار متعلقہ جماعتوں کے مزید بیانات اور اس معاملے کو سیاسی طور پر آگے بڑھانے کے طریقے پر ہوگا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: فاروق عبداللہ کا بیان بارہمولہ میں نیشنل کانفرنس کے پروگرام سے متعلق فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہے۔ بی جے پی نے ان کے بیان کو بھارت مخالف قرار دیا، جبکہ کانگریس کے بعض رہنماؤں اور مذہبی شخصیات نے بھی تنقید کی۔ بیان کے سیاسی مفہوم اور اس پر اعتراضات کو متعلقہ فریقوں کے مؤقف کے طور پر سمجھنا چاہیے۔

ماخذ: فاروق عبداللہ کی تقریر سے متعلق فراہم کردہ معلومات، نیشنل کانفرنس، بھارتیہ جنتا پارٹی، کانگریس کے رہنماؤں کے بیانات