

منصور احمد، 25 اکتوبر 2026
ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اکتوبر 2026ء
یمن کے حوثی گروہ کے خلاف کارروائیاں کرنے والے سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کے جنوبی علاقے کی جانب داغے گئے 10 بیلسٹک میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے راستے میں ہی روک کر تباہ کر دیا گیا۔ اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے اتوار کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ میزائل حوثی گروہ کی جانب سے داغے گئے تھے اور انہیں اپنے اہداف تک پہنچنے سے پہلے ناکارہ بنا دیا گیا۔
ترکی المالکی نے اپنے بیان میں حوثیوں کو ’’دہشت گرد ملیشیا‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے جنوبی علاقے کی طرف آنے والے تمام 10 بیلسٹک میزائلوں کو روک لیا گیا۔ تاہم بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ میزائل کہاں سے داغے گئے، ان کے ممکنہ اہداف کیا تھے یا انہیں کس مقام پر تباہ کیا گیا۔
جنوبی سعودی عرب کی جانب میزائل حملوں کی اطلاع
سعودی اتحاد کے ترجمان کے مطابق میزائلوں کو روکنے کی کارروائی فضائی دفاعی نظام کے ذریعے انجام دی گئی۔ ایک ہی بیان میں 10 میزائلوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ خطے میں سکیورٹی صورت حال کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے، کیونکہ بیلسٹک میزائل طویل فاصلے تک سفر کرتے ہوئے شہری آبادیوں اور اہم تنصیبات کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
تاہم دستیاب معلومات میں میزائلوں کی قسم، ان کی پرواز کی سمت اور ممکنہ ہدف کے بارے میں مزید تکنیکی تفصیلات شامل نہیں۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ میزائلوں کو روکنے کے دوران کسی قسم کا ملبہ گرا یا کسی علاقے میں جانی و مالی نقصان ہوا۔
سعودی فضائی دفاع کا کردار
سعودی عرب نے ماضی میں بھی اپنی فضائی حدود کی نگرانی اور میزائل و ڈرون حملوں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے فضائی دفاعی نظام استعمال کیا ہے۔ ایسے نظاموں کا مقصد آنے والے میزائلوں کی نشاندہی کرنا اور انہیں ہدف تک پہنچنے سے پہلے روکنا ہوتا ہے۔
اگر کسی علاقے کی طرف بیک وقت متعدد میزائل داغے جائیں تو دفاعی نظام کے لیے ان کی بروقت شناخت اور روک تھام خاص اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ تاہم موجودہ واقعے میں سعودی اتحاد نے میزائلوں کی تباہی کا دعویٰ تو کیا ہے، لیکن کارروائی کے تکنیکی پہلوؤں کی تفصیل جاری نہیں کی۔
یمن کے تنازع کا علاقائی سلامتی پر اثر
یمن میں کئی برس سے جاری تنازع کے اثرات سعودی عرب اور خطے کے دیگر ممالک کی سلامتی پر بھی مرتب ہوتے رہے ہیں۔ حوثی گروہ اور سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے درمیان کشیدگی کے دوران سرحد پار حملوں اور میزائلوں کو روکنے سے متعلق دعوے مختلف اوقات میں سامنے آتے رہے ہیں۔
میزائل حملوں کی کوششوں سے متعلق ایسی اطلاعات کے بعد شہریوں کے تحفظ، اہم تنصیبات کی سلامتی اور فضائی نگرانی کے انتظامات پر توجہ بڑھ جاتی ہے۔ جنوبی سعودی عرب کی جانب میزائل داغے جانے کا تازہ دعویٰ بھی اسی تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔
تاہم اس مخصوص واقعے کے بارے میں حوثیوں کی جانب سے فوری ردعمل یا میزائل داغنے کی ذمہ داری قبول کرنے کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ اس لیے حملے کی ذمہ داری اور واقعے کے تمام پہلوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
مزید تفصیلات کا انتظار
سعودی اتحاد کے بیان کے بعد اب اہم سوالات میں میزائلوں کے داغے جانے کے مقامات، ممکنہ اہداف اور کارروائی کے نتائج شامل ہیں۔ ان تفصیلات کے سامنے آنے سے واقعے کی نوعیت اور اس کے ممکنہ اثرات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
فی الحال دستیاب معلومات کے مطابق 10 بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے کیا ہے۔ کسی جانی نقصان یا عمارتوں کو پہنچنے والے نقصان کی تصدیق فراہم کردہ بیان میں موجود نہیں۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: 10 بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کی اطلاع سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی سے منسوب ہے۔ میزائلوں کے ممکنہ اہداف، حملے کے مقام اور نقصان سے متعلق مزید تفصیلات دستیاب نہیں، جبکہ حوثیوں کی جانب سے اس دعوے پر فوری ردعمل کی اطلاع بھی فراہم نہیں کی گئی۔
ماخذ: سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد، ترجمان ترکی المالکی کا بیان