
روزینہ اسماعیل,October02,2026
ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اکتوبر 2026ء
کئی خلیجی ممالک نے سعودی عرب کے شہر مدینہ منورہ میں بجلی کی تقسیم کے ایک مرکز پر مبینہ حوثی ڈرون حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اسلامی مقدسات اور سعودی عرب کی خودمختاری کے خلاف کارروائی قرار دیا ہے۔
سعودی قیادت میں یمن میں سرگرم اتحاد کے مطابق 29 ستمبر کو مدینہ منورہ کے طیبہ بجلی تقسیم مرکز کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ سعودی حکام کے مطابق یہ مرکز مسجد نبوی ﷺ کو بجلی فراہم کرنے والے نظام کا حصہ ہے۔ حملے کے نتیجے میں ایک ٹرانسفارمر سروس سے باہر ہوگیا تاہم بجلی کے مجموعی نظام میں خلل نہیں پڑا۔
سعودی قیادت میں اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈرون کے ملبے اور واقعے کے بعد کی تحقیقات سے حملے کی منصوبہ بندی اور کارروائی میں حوثیوں کے ملوث ہونے کی نشاندہی ہوئی ہے۔ حوثی حکام نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے اسے سعودی عرب کی جانب سے عائد کیا گیا بے بنیاد الزام قرار دیا ہے۔
قطر نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مدینہ میں مسجد نبوی ﷺ کو بجلی فراہم کرنے والی تنصیب کو نشانہ بنانا اسلامی مقدسات کی حرمت، شہری تنصیبات اور سعودی عرب کی خودمختاری کے حوالے سے سنگین معاملہ ہے۔ قطر نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔
کویت اور بحرین نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔ دونوں ممالک کی جانب سے واقعے کو اسلامی مقدسات کے حوالے سے انتہائی حساس معاملہ قرار دیتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔
متحدہ عرب امارات نے بھی مدینہ میں بجلی کی تقسیم کے مرکز پر حملے کی مذمت کی، تاہم اپنے بیان میں تنصیب کی مذہبی اہمیت پر تفصیل سے بات کرنے کے بجائے حملے کو سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔
تنظیمِ تعاونِ اسلامی (او آئی سی) اور دیگر عرب ممالک کی جانب سے بھی حملے کی مذمت سامنے آئی ہے۔ او آئی سی نے مدینہ منورہ میں اہم شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کو خطرناک پیش رفت قرار دیتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
حالیہ واقعے کے بعد خطے میں سعودی عرب اور حوثی گروپ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک بار پھر نمایاں ہوئی ہے۔ سعودی قیادت میں اتحاد نے کہا ہے کہ وہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں اسلامی مقدسات اور زائرین کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔
عمان نے تاحال اس مخصوص واقعے کے حوالے سے کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
مدینہ منورہ میں بجلی کی تنصیب پر حملے اور اس میں حوثیوں کے مبینہ کردار کی بنیادی معلومات سعودی قیادت میں اتحاد کی جانب سے سامنے آئی ہیں، جبکہ حوثیوں نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ حملے سے ایک ٹرانسفارمر متاثر ہونے کی اطلاع ہے، تاہم مجموعی بجلی کا نظام متاثر نہیں ہوا۔ خلیجی ممالک اور او آئی سی نے واقعے پر سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
ماخذ:
رائٹرز، الجزیرہ، قطر کی وزارت خارجہ، متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ، او آئی سی، عرب نیوز