

کاشف عباسی , September 20,2026
ہنگو (نیوز اینڈ نیوز) — 20 ستمبر 2026ء
خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان فائرنگ کے شدید تبادلے کے نتیجے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے 8 شدت پسند ہلاک جبکہ پاک فوج کے دو نوجوان افسران سمیت 6 سکیورٹی اہلکار جاں بحق ہو گئے ہیں۔ پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ہنگو کے علاقے میں شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر بروقت اور موثر کارروائی کی، جس کے دوران دباؤ میں آئے دہشت گردوں کو بھاری جانی نقصان پہنچایا گیا۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق شدید جھڑپ کے دوران پاک فوج کے دو نوجوان افسران اپنے دستوں کی اگلی صفوں سے مردانہ وار قیادت کر رہے تھے اور دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے جاں بحق ہوئے۔ جاں بحق ہونے والے افسران کی شناخت 23 سالہ کیپٹن ابوذر فاروق (رہائشی گوجرانوالہ) اور 22 سالہ لیفٹیننٹ شیراز بابر (رہائشی چکوال) کے نام سے ہوئی ہے۔ آپریشن میں ان افسران کے شانہ بشانہ لڑتے ہوئے مزید چار سکیورٹی اہلکاروں نے بھی اپنے وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
علاقے میں ممکنہ طور پر روپوش دیگر دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے کے لیے سکیورٹی فورسز کا کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن بلا تعطل جاری ہے۔ خیبر پختونخوا اور بالخصوص سرحدی اضلاع میں جاری اس انسدادِ دہشت گردی مہم کا مقصد خطے سے مسلح عناصر کا صفایا کرنا ہے۔ آئی ایس پی آر نے عزم ظاہر کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کے نفاذ اور بدامنی کے خاتمے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں اور ہمارے جوانوں کی یہ عظیم قربانیاں عزمِ استحکام اور قومی سکیورٹی کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے باضابطہ اعلامیے پر مبنی ہے۔ علاقے میں سینیٹائزیشن آپریشن کی تکمیل اور مزید تفصیلات کارروائی مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گی۔
ماخذ: سکیورٹی ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز پشاور / ہنگو۔