Latest news

ریلوے ورکشاپس اور یارڈز میں جدید سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کی ہدایت

Spread the love

کاشف عباسی ,October03,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اکتوبر 2026ء

وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ریلوے کے تمام ورکشاپس اور یارڈز میں جدید سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے اور نجی سکیورٹی تعینات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سامان کی ترسیل میں تاخیر کرنے والے نجی وینڈرز کو فوری طور پر بلیک لسٹ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ریلوے ہیڈکوارٹرز لاہور میں ہفتہ کو اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ مالی سال کے ریونیو اہداف کے حصول کے لیے تمام متعلقہ افسران کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

اجلاس میں ریلوے اسکریپ اور اسپیئر پارٹس کی چوری کی روک تھام کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے ریلوے کے نظام میں شفافیت اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کو لازمی قرار دیتے ہوئے تمام معاملات میں واضح پالیسی اور مؤثر نگرانی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

محمد حنیف عباسی نے ریلوے کے تمام ورکشاپس اور یارڈز میں جدید سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے ساتھ نجی سکیورٹی اہلکار تعینات کرنے کی ہدایت بھی کی، تاکہ حساس مقامات، قیمتی سامان، اسکریپ اور اسپیئر پارٹس کی نگرانی مؤثر بنائی جا سکے۔

اجلاس میں یکساں پالیسی کے تحت تمام بریک اور لگیج وینز کی فوری آؤٹ سورسنگ کی ہدایت بھی دی گئی۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملت، عوام، میانوالی اور قراقرم ایکسپریس رواں ماہ نجی شعبے کے حوالے کی جائیں گی۔

وفاقی وزیر نے ریلوے حکام کو ہدایت کی کہ تمام شعبوں میں کارکردگی بہتر بنانے، اخراجات پر قابو پانے اور آمدن میں اضافے کے لیے عملی اقدامات تیز کیے جائیں۔ انہوں نے ریپیئر ہونے والے لوکوموٹیوز کو بھی طے شدہ شیڈول کے مطابق دوبارہ ٹریک پر لانے کی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ ریلوے کے مختلف شعبوں میں کارکردگی کی نگرانی اور وسائل کے مؤثر استعمال کو ترجیح دی جائے تاکہ ادارے کی آمدن میں اضافہ اور اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔ وفاقی وزیر نے افسران کو ہدایت کی کہ مقررہ اہداف کے حصول کے لیے باہمی رابطے اور مربوط حکمت عملی کے ساتھ کام کیا جائے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
اجلاس میں ریلوے کے سکیورٹی نظام، سامان کی ترسیل، آمدن میں اضافے، اخراجات میں کمی اور بعض ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ سے متعلق ہدایات دی گئیں۔ نجی شعبے کے حوالے کی جانے والی ٹرینوں اور دیگر اقدامات کی تفصیلات خبر میں فراہم کردہ سرکاری معلومات کے مطابق بیان کی گئی ہیں۔

ماخذ: اے پی پی، پاکستان ریلوے