

محمود احمد, October13,2026
ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 13 اکتوبر 2026ء
یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے ریاض کی جانب آنے والے میزائل کو روک کر تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ دعوے ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حوثیوں کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا طرزِ عمل درست نہیں۔
حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ ان کی فورسز نے ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا اور جنوبی سعودی عرب میں خمیس مشیط ایئربیس پر ڈرون حملہ بھی کیا۔ تاہم ان دعووں کے نتائج اور ہوائی اڈے یا فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ معلومات میں موجود نہیں۔
دوسری جانب سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ خمیس مشیط کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کو روک کر تباہ کر دیا گیا۔ یوں حملوں کے بارے میں حوثیوں اور سعودی اتحاد کے بیانات میں فرق سامنے آیا ہے، جبکہ کسی آزاد ذریعے سے ان واقعات کی مکمل تفصیلات کی تصدیق دستیاب نہیں۔
رپورٹ کے مطابق سعودی حکام نے ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی بندش سنیچر تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے، جبکہ متعدد فضائی کمپنیوں نے پروازیں منسوخ یا محدود کی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ حوثیوں کے مسلسل حملوں کے خطرے کے باعث سعودی دارالحکومت کی فضائی حدود میں آمدورفت متاثر ہوئی ہے۔
فراہم کردہ متن کے مطابق ریاض ایئرپورٹ 10 اکتوبر کو ہونے والے حملے کے بعد سے بند ہے، جس میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ متن میں اتوار کے ایک اور حملے میں ایک شخص کی ہلاکت اور دس سے زائد افراد کے زخمی ہونے کا بھی ذکر ہے، تاہم ان ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے حوثیوں کے رویے کو نامناسب قرار دیا۔ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث فضائی سفر، شہریوں کی سلامتی اور سعودی عرب کی اہم تنصیبات کے تحفظ سے متعلق خدشات برقرار ہیں۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں سے متعلق بیانات کو دعووں کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جبکہ سعودی اتحاد کا مؤقف الگ سے منسوب کیا گیا ہے۔ ہوائی اڈے کی بندش، فضائی حدود کی صورتحال اور ہلاکتوں کے اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق اس خبر کی تیاری کے دوران نہیں کی گئی۔
ماخذ: حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع اور سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد سے منسوب بیانات؛