

روزینہ اسماعیل, September 23,2026
نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 23 ستمبر 2026ء
اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے جموں و کشمیر رابطہ گروپ کی جانب سے نیویارک میں جاری کیے گئے ایک تند و تیز مشترکہ اعلامیے کے بعد بھارت نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے او آئی سی کے تمام بیانات اور مطالبات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے اپنے ایک سرکاری بیان میں او آئی سی رابطہ گروپ کے اعلامیے میں بھارت سے متعلق حوالوں کو غیر ضروری، حقیقت کے منافی اور سیاسی مقاصد پر مبنی قرار دیا۔ نئی دہلی نے اپنے روایتی اور سخت ترین سفارتی مؤقف کو دہراتے ہوئے واضح کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر اور لداخ کے تمام تر علاقے بھارت کا ناقابلِ تنسیخ اور اٹوٹ حصہ ہیں، اور تنظیم کے پاس ایسے کسی بھی معاملے پر تبصرہ کرنے یا بات کرنے کا کوئی قانونی یا سفارتی اختیار نہیں ہے جسے نئی دہلی اپنا خالصتاً داخلی معاملہ قرار دیتا ہے۔
یہ شدید سفارتی تنازع اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر نیویارک میں او آئی سی کے جموں و کشمیر رابطہ گروپ کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد پیدا ہوا۔ اجلاس میں او آئی سی کے سیکریٹری جنرل اسماعیل ولد شیخ احمد نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے تنظیم کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے خطے میں انسانی حقوق کی زبوں حالی اور سیکیورٹی کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ او آئی سی کے سیکریٹری جنرل نے بھارت پر زور دیا کہ وہ اگست 2019ء کے بعد سے کشمیر میں کیے گئے تمام یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کو فوری طور پر واپس لے اور کشمیریوں کے حقوق کی بحالی کے لیے عالمی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنائے۔
اجلاس سے پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے بھی خصوصی خطاب کرتے ہوئے پاکستان اور کشمیریوں کے مشترکہ مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کیا۔ مشترکہ اعلامیے میں مسئلہ جموں و کشمیر کے پائیدار حل کو جنوبی ایشیا میں پائیدار امن، ترقی اور استحکام کے لیے لازمی قرار دیا گیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سلامتی قراردادوں کے مطابق فیصلے کی منتقلی پر زور دیا گیا۔ اعلامیے میں بھارت سے کشمیر میں فوری طور پر انسانی حقوق کی صورتحال بہتر بنانے، تمام سیاسی قیدیوں کو بلا تاخیر رہا کرنے، حریت و دیگر سیاسی جماعتوں پر عائد پابندیاں ختم کرنے اور متنازعہ بھارتی قوانین پر نظرثانی کا پرزور مطالبہ کیا گیا، جسے بعد ازاں بھارت نے اپنی خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر رد کر دیا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر او آئی سی کے جموں و کشمیر رابطہ گروپ کے رسمی اعلامیے اور اس کے جواب میں نئی دہلی میں بھارتی وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ دفتری ردعمل کی روشنی میں مرتب کی گئی ہے۔
ماخذ: فارن اینڈ سفارتی ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز نئی دہلی / اسلام آباد۔