

منصور احمد,September 21,2026
تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 21 ستمبر 2026ء
ایران کی پاسدارانِ انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) کی ایرو اسپیس فورس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کے اوپر ایک اور امریکی ایم کیو-1 (پریڈیٹر) ڈرون کو اپنے مربوط اور جدید ترین فضائی دفاعی نظام (ایئر ڈیفنس) کے ذریعے کامیابی سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ‘ارنا’ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے پیر کے روز ایک باضابطہ بیان میں تصدیق کی کہ تباہ کیا گیا ایم کیو-1 ڈرون امریکی فوج کیملکیتی اور فعال کاوشوں کا حصہ تھا، جسے بین الاقوامی و علاقائی فضائی حدود میں جاسوسی اور نگرانی کی کوشش کے دوران روکا گیا۔
ایرانی عسکری ذرائع اور نیم سرکاری خبر رساں ادارے ‘تسنیم’ نے رپورٹ کیا کہ امریکی فوج اپنے پیشرفتہ ایم کیو-9 ریپر (MQ-9 Reaper) ڈرونز کو پہنچنے والے مبینہ بھاری نقصانات کے بعد مجبوراﹰ کئی سال قبل ریٹائر کیے گئے پرانے ایم کیو-1 ڈرونز دوبارہ استعمال کرنے پر مجبور ہوئی ہے۔ ایرانی میڈیا نے اس ڈرون کی تاریخ بتاتے ہوئے یاد دہانی کرائی کہ افغان جنگ میں ہزاروں گھنٹے پرواز کرنے والے اسی ڈرون ماڈل کو بعض عسکری حلقوں میں ‘بیئسٹ آف قندھار’ کا نام بھی دیا گیا تھا۔ پاسدارانِ انقلاب نے واضح کیا کہ 15 ستمبر کو مار گرائے گئے دو ایم کیو-1 ڈرونز کے بعد یہ تازہ کارروائی ایک بالکل نئے اور جدید ترین ایرانی فضائی دفاعی نظام کی آزمائشی و عملی صلاحیت کا مظاہرہ ہے، جبکہ ایک اور الگ واقعے میں ایک آربیٹر (Orbiter) جاسوس ڈرون بھی تباہ کیا گیا ہے۔
آبنائے ہرمز میں امریکی اور اسرائیلی طیاروں و ڈرونز کو نشانہ بنانے کے ان دعووں نے دنیا کے اہم ترین بحری اور تجارتی راستے پر شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق تہران کی جانب سے اس تنازع کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دینے اور علاقائی کشیدگی کے باعث خلیج فارس سے تیل لے جانے والے تجارتی اور آئل ٹینکرز کے گزرنے کی شرح میں شدید کمی واقع ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی توانائی مارکیٹ اور سپلائی چین پر زبردست دباؤ نظر آ رہا ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر ایرانی پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی سرکاری میڈیا (ارنا و تسنیم) کے جاری کردہ بیانات پر مبنی ہے۔ آبنائے ہرمز پر ایم کیو-1 پریڈیٹر اور آربیٹر ڈرون کی تباہی اور امریکی فوج کے ممکنہ مالی یا تکنیکی نقصانات کے حوالے سے امریکی پینٹاگون یا کسی مستقل عالمی ادارے کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔
ماخذ:
ارنا، پاسدارانِ انقلاب ایران، تسنیم، انادولو ایجنسی، رائٹرز۔