Latest news

پاسدارانِ انقلاب کا انکشاف: نئے سٹریٹیجک ہتھیار میدان میں لانے اور نئے اہداف کو نشانہ بنانے کی مکمل تیاری ہے

Spread the love

منصور احمد,September 21,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 21 ستمبر 2026ء

ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے امریکہ کو سخت ترین خبردار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی نئی فوجی کارروائی کی تو تہران اپنے دفاع اور جوابی کارروائی کے روایتی طریقہ کار میں بنیادی اور نمایاں تبدیلیاں لائے گا۔ ان کے مطابق اس نئی حکمتِ عملی کے تحت نہ صرف جنگ کا جغرافیہ پھیلا دیا جائے گا بلکہ ایسے پیشرفتہ اور غیر متوقع ہتھیار میدان میں اتارے جائیں گے جن کا استعمال دنیا کے لیے حیران کن ثابت ہوگا۔

ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے واضح کیا کہ تہران کے پاس متعدد ایسے نئے سٹریٹیجک ہتھیار اور پیشرفتہ عسکری سامان موجود ہیں جنہیں موجودہ تنازع کے گزشتہ مراحل میں استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران طویل مدتی جنگ کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور نئی امریکی مہم جوئی کی صورت میں جوابی کارروائی کا دائرہ کار ان غیر معمولی اہداف تک بھی بڑھا دیا جائے گا جنہیں ماضی میں کبھی نشانہ نہیں بنایا گیا، جس سے خطے میں موجود امریکی مفادات کو براہِ راست خطرات لاحق ہوں گے۔

یہ سخت بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے اعلیٰ ترین ‘خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈ کوارٹر’ نے بھی امریکی اور اسرائیلی حکام کی ایک یورپی ملک میں علاقائی اتحادیوں کے ساتھ ہونے والی خفیہ بیٹھک پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اگرچہ تہران نے یورپی ملک یا شریک عرب ممالک کا نام ظاہر نہیں کیا، تاہم ایرانی کمانڈ کا دعویٰ ہے کہ امریکہ علاقائی ممالک کے ‘گرین سگنل’ کے بعد حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ دوسری جانب، عسکری تناؤ کے باوجود سفارتی سطح پر بھی پیش رفت کی اطلاعات ہیں، جہاں رائٹرز کے مطابق تہران نے ثالثوں کے ذریعے اپنی شرائط واشنگٹن تک پہنچا دی ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ایرانی حکام سے متوقع ملاقات کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کے بیانات پر مبنی ہے۔ نئے ہتھیاروں کی قسم اور امریکہ کے متوقع فوجی منصوبے کی آزادانہ یا امریکی دفاعی حکام کی جانب سے باضابطہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔

ماخذ: مڈل ایسٹ ملٹری ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز تہران / واشنگٹن۔