

محمود احمد, September 19,2026
تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 19 ستمبر 2026ء
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے زور دے کر کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں دائمی و پائیدار سلامتی بیرونی طاقتیں مسلط نہیں کر سکتیں، بلکہ خطے کی تمام ریاستوں کو اپنی سلامتی، استحکام اور مشترکہ مستقبل کا فیصلہ خود باہمی مذاکرات سے کرنا ہوگا۔ انہوں نے یہ بات انڈونیشیا کی فارن پالیسی کمیونٹی (FPCI) کے زیر اہتمام منعقدہ ‘گلوبل ٹاؤن ہال 2026ء’ سے ویڈیو خطاب کرتے ہوئے کہی، جس کا بنیادی موضوع عالمی ترقی، انسانی وقار اور انصاف کی بحالی تھا۔
عباس عراقچی نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ دہائیوں پر محیط بیرونی مداخلتوں اور جنگوں نے ثابت کیا ہے کہ فوجی قوت اور دباؤ کبھی امن کی ضمانت نہیں بن سکتے۔ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کے اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں غیر قانونی و جارحانہ قرار دیا اور خبردار کیا کہ اگر بین الاقوامی قوانین کی پامالی نہ روکی گئی تو عالمی نظام تباہ ہو جائے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے جنوبی ایران کے شہر میناب میں ایک اسکول پر حملے کا حوالہ دیا، جس میں 168 طالب علم جاں بحق ہوئے تھے، اور کہا کہ ان ہلاکتوں کو محض اعداد و شمار نہ سمجھا جائے کیونکہ ہر بچے کے ساتھ ایک انسانی زندگی اور خاندان وابستہ تھا۔
انہوں نے اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں کے دہرے معیار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حل کثیرالجہتی نظام کا خاتمہ نہیں بلکہ اسے منصفانہ اور بااثر بنانا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ عسکریت پسندی کے بجائے قومی خودمختاری، شہریوں کے تحفظ، انصاف اور پائیدار ترقی کو اولین ترجیح دی جائے تاکہ مشرق وسطیٰ اور دنیا بھر میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ رپورٹ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے گلوبل ٹاؤن ہال 2026ء میں کیے گئے ویڈیو خطاب کے جاری کردہ اقتباسات پر مبنی ہے۔
ماخذ: فارن پالیسی کمیونٹی آف انڈونیشیا (FPCI)، ایرانی وزارت خارجہ سے متعلق بیان، تسنیم نیوز۔