

محمود احمد, September 22,2026
نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 22 ستمبر 2026ء
پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں، بالخصوص غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال انتہائی تشویشناک اور عالمی برادری کی فوری و سنجیدہ توجہ کی متقاضی ہے۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی فلسطین سے متعلق چھ رکنی کمیٹی کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ سفارتی کوششوں سے سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کا ایک موقع تو پیدا ہوا ہے، لیکن زمینی سطح پر انسانی بحران اور سکیورٹی چیلنجز بدستور سنگین شکل اختیار کیے ہوئے ہیں۔
پاکستانی وزیرِ خارجہ نے غزہ میں روزمرہ کی بنیاد پر ہونے والی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ، مصر، قطر اور ترکی کی جانب سے تنازع کے جامع حل کے لیے کی جانے والی ثالثی کوششوں کو سراہا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیلی آباد کاری، وائلنٹ اقدامات اور جغرافیائی الحاق کی کوششوں کو اینٹی ڈیموکریٹک اور مستقبل کی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں بڑا سنگِ میل رکاوٹ قرار دیا۔ انہوں نے مسجدِ اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کی پاسداری اور بین الاقوامی قوانین پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
اسحاق ڈار نے او آئی سی اور رکن ممالک سے اپیل کی کہ وہ عالمی فورمز پر مزید مربوط اور یکجا سفارتی اقدامات کریں تاکہ فلسطینی عوام کے بنیادی انسانی و سیاسی حقوق کا مؤثر دفاع ممکن ہو سکے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان کا موقف روزِ اول سے واضح ہے اور وہ ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر جڑی ہوئی فلسطینی ریاست کے قیام کی کامل حمایت کرتا ہے جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔ اجلاس میں موجود دیگر اسلامی ممالک کے نمائندوں نے بھی پاکستان کے موقف کی مکمل تائید کرتے ہوئے مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر منعقدہ او آئی سی چھ رکنی کمیٹی کے اجلاس اور پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے باضابطہ اعلامیے پر مبنی ہے۔ نیویارک میں فلسطین پر ہونے والے مزید اعلیٰ سطحی اجلاسوں کی رپورٹس جاری رکھی جائیں گی۔
ماخذ: بین الاقوامی سفارتی ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز نیویارک / اسلام آباد۔