Latest news

خضدار میں سنگین واردات، سنگِ مرمر کی کان سے مالک کے بیٹے سمیت 18 افراد اغوا

Spread the love

منصور احمد,October18,2026

خضدار (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اکتوبر 2026ء

بلوچستان کے ضلع خضدار کی تحصیل نال کے علاقے بیسار اناری میں نامعلوم مسلح افراد نے سنگِ مرمر کی ایک کان اور اس سے منسلک فیکٹری پر حملہ کرکے کان کے مالک کے بیٹے سمیت 18 افراد کو اغوا کر لیا ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق مغویوں میں 17 مزدور بھی شامل ہیں، جبکہ حملہ آور مبینہ طور پر ایک لوڈر اور دو گاڑیاں بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی صورتِ حال اور مغویوں کی بحفاظت بازیابی سے متعلق تشویش بڑھ گئی ہے۔

تھانہ نال کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) غلام مصطفیٰ کے مطابق مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد گزشتہ شب علاقے میں واقع سنگِ مرمر کی کان اور فیکٹری پہنچی۔ حملہ آوروں نے وہاں موجود افراد کو اپنے قبضے میں لیا اور انہیں نامعلوم مقام کی جانب لے گئے۔ پولیس افسر کے مطابق مغویوں میں کان کے مالک کا بیٹا اور وہاں کام کرنے والے 17 مزدور شامل ہیں۔

حکام کے مطابق اغوا ہونے والے مزدوروں کا تعلق ضلع خضدار کے علاقوں نال اور وڈھ سے ہے۔ تاہم مغویوں کے نام، عمریں اور ان کی موجودہ صورتِ حال کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ حملہ آور کس سمت گئے اور آیا مغویوں کو کسی مخصوص مطالبے کے تحت اغوا کیا گیا یا نہیں۔

لوڈر اور دو گاڑیاں بھی لے جانے کی اطلاع

پولیس کے مطابق حملہ آور افراد کو اغوا کرنے کے علاوہ کان سے ایک لوڈر اور دو گاڑیاں بھی لے گئے۔ یہ مشینری اور گاڑیاں کان اور فیکٹری کے روزمرہ کام کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔ واقعے کے بعد پولیس اور متعلقہ حکام کے لیے مغویوں کا سراغ لگانا اور حملہ آوروں کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات جمع کرنا اہم ہو گیا ہے۔

تاحال کسی گروہ یا تنظیم نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ اس لیے اغوا کے محرکات اور حملہ آوروں کی شناخت کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ پولیس کی جانب سے مزید تحقیقات اور معلومات جمع کیے جانے کے بعد واقعے کے مختلف پہلو واضح ہو سکتے ہیں۔

خضدار بلوچستان کے ان اضلاع میں شمار ہوتا ہے جہاں ماضی میں بدامنی، مسلح حملوں اور تعمیراتی یا کان کنی کے منصوبوں سے وابستہ کارکنوں کو نشانہ بنانے کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ ایسے واقعات سے نہ صرف کارکنوں اور ان کے خاندانوں کو مشکلات پیش آتی ہیں بلکہ مقامی کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔

نال میں مزدوروں کے اغوا کا سابقہ واقعہ

نال کے علاقے میں اس سے قبل بھی تعمیراتی شعبے سے وابستہ کارکنوں کے اغوا کا واقعہ پیش آ چکا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق گزشتہ سال کے آخر میں ایک تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر حملہ کیا گیا تھا۔ حملہ آوروں نے وہاں موجود مشینری کو آگ لگانے کے علاوہ ایک درجن سے زائد مزدوروں کو اغوا کر لیا تھا۔

اس واقعے میں اغوا ہونے والے مزدوروں کا تعلق سندھ سے بتایا گیا تھا اور بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔ سابقہ واقعے اور موجودہ اغوا کے درمیان مماثلت کے باوجود یہ ثابت نہیں کہ دونوں واقعات میں ایک ہی گروہ ملوث ہے یا ان کے محرکات یکساں ہیں۔

تعمیراتی کمپنیوں، کان کنی کے منصوبوں اور صنعتی مقامات پر کام کرنے والے مزدور اکثر دور دراز علاقوں میں رہائش اختیار کرتے ہیں۔ ایسے مقامات پر سکیورٹی کے انتظامات، فوری رابطے اور ہنگامی صورتِ حال میں مدد کی دستیابی خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ کارکنوں کے اغوا جیسے واقعات سے منصوبوں کی سرگرمیاں رک سکتی ہیں اور متاثرہ خاندانوں کو شدید غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

خضدار میں امن و امان کی صورتِ حال

خضدار کے مختلف علاقوں میں ماضی کے دوران بدامنی اور کارکنوں کے اغوا کے واقعات نے مقامی آبادی اور کاروباری حلقوں میں تشویش پیدا کی ہے۔ کان کنی اور تعمیراتی سرگرمیاں مقامی روزگار اور معیشت سے وابستہ ہیں، اس لیے ایسے واقعات کا اثر مزدوروں کے تحفظ سے آگے بڑھ کر کاروبار، روزگار اور ترقیاتی منصوبوں تک پہنچ سکتا ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق علاقے میں صورتِ حال بہتر بنانے کے لیے سکیورٹی فورسز کے آپریشنز اور دیگر اقدامات جاری ہیں۔ تاہم موجودہ واقعے کے بعد کسی مخصوص آپریشن، مشتبہ افراد کی گرفتاری یا مغویوں کی بازیابی کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

اس وقت سب سے اہم معاملہ 18 مغویوں کی بحفاظت بازیابی ہے۔ ان کے اہلِ خانہ کو ان کی خیریت اور مقام کے بارے میں معلومات کی ضرورت ہے، جبکہ پولیس کے لیے ضروری ہے کہ وہ واقعے کی تحقیقات کرتے ہوئے مغویوں کی حفاظت کو ترجیح دے۔ واقعے کی ذمہ داری قبول کیے جانے یا کسی گروہ کی شناخت سامنے آنے تک تمام امکانات کو کھلا رکھنا ضروری ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: پولیس افسر کے بیان کے مطابق نال کے علاقے بیسار اناری سے 18 افراد کو اغوا کیا گیا، جن میں کان کے مالک کا بیٹا اور 17 مزدور شامل ہیں۔ تاحال کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی اور مغویوں کی موجودہ حالت یا بازیابی سے متعلق مصدقہ معلومات سامنے نہیں آئیں۔ اس لیے حملہ آوروں کی شناخت اور اغوا کے محرکات کے بارے میں حتمی دعویٰ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

ماخذ: تھانہ نال پولیس، ایس ایچ او غلام مصطفیٰ کا بیان، سرکاری حکام