

کاشف عباسی ,October18,2026
کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اکتوبر 2026ء
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سکیورٹی فورسز نے 17 اکتوبر کو بلوچستان کے اضلاع کوئٹہ، نوشکی اور خضدار میں شدت پسندوں کی موجودگی سے متعلق اطلاعات پر تین الگ الگ انٹیلیجنس بنیادوں پر کارروائیاں کیں، جن کے دوران مجموعی طور پر آٹھ مبینہ شدت پسند ہلاک ہوئے۔ فوج کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ کارروائیوں کے دوران ایک مبینہ ٹھکانے کو تباہ کیا گیا، اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا جبکہ خضدار میں 490 کلوگرام دھماکا خیز مواد بھی قبضے میں لیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کارروائیاں مختلف مقامات پر شدت پسندوں کی سرگرمیوں اور ان کی موجودگی سے متعلق اطلاعات کی بنیاد پر کی گئیں۔ بیان میں کہا گیا کہ سکیورٹی فورسز نے کارروائیوں کے دوران مقامی آبادی اور آمدورفت کو متاثر کرنے کی کوششوں کو روکنے اور مبینہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے اقدامات کیے۔
فوج کے مطابق ضلع کوئٹہ کے علاقے پنجپائی میں شدت پسندوں نے مقامی ٹریفک میں خلل ڈالنے کے لیے سڑک بند کرنے کی کوشش کی، جسے سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا۔ اس کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں پانچ مبینہ شدت پسند ہلاک ہوئے۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ سڑک بند کرنے کی کوشش کو ناکام بنانے سے علاقے میں آمدورفت متاثر ہونے کا خدشہ کم ہوا۔
نوشکی میں کلیئرنس آپریشن، دو مبینہ شدت پسند ہلاک
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق ضلع نوشکی میں سکیورٹی فورسز نے کلیئرنس آپریشن کیا، جس کے دوران شدت پسندوں کا ایک مبینہ ٹھکانہ تباہ کر دیا گیا۔ کارروائی کے دوران فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا، جس میں دو مبینہ شدت پسند ہلاک ہوئے۔
فوج کے مطابق آپریشن کے بعد مبینہ ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ تاہم بیان میں برآمد ہونے والے اسلحے کی اقسام، مقدار یا اس کے ممکنہ استعمال سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
نوشکی بلوچستان کا ایک اہم ضلع ہے جہاں سکیورٹی اور آمدورفت کے معاملات کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ایسے علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کا مقصد حکام کے مطابق مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور شہریوں کے لیے خطرات کم کرنا ہوتا ہے۔ تاہم کسی بھی کارروائی کے نتائج اور اس کے وسیع تر اثرات کا جائزہ لینے کے لیے مزید تفصیلات اہم ہوتی ہیں۔
خضدار میں مبینہ ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا
آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع خضدار میں بھی انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی گئی، جس کے دوران ایک مبینہ شدت پسند ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق اس کارروائی میں ایک مبینہ شدت پسند ہلاک ہوا جبکہ سکیورٹی فورسز نے 490 کلوگرام دھماکا خیز مواد برآمد کیا۔
دھماکا خیز مواد کی اس بڑی مقدار کی برآمدگی اس کارروائی کا اہم پہلو ہے۔ تاہم فوجی بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ مواد کس مقام سے ملا، اسے کس مقصد کے لیے استعمال کیا جانا تھا یا اس کے ساتھ کوئی دیگر آلات بھی برآمد ہوئے یا نہیں۔ ان تفصیلات کی عدم موجودگی میں مواد کے ممکنہ استعمال کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
کوئٹہ، نوشکی اور خضدار میں ہونے والی کارروائیوں کے بارے میں آئی ایس پی آر نے مجموعی طور پر آٹھ مبینہ شدت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔ یہ اعداد و شمار فوج کے سرکاری بیان پر مبنی ہیں؛ ان کی آزادانہ تصدیق یا ہلاک ہونے والوں کی شناخت سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
محسن نقوی اور سرفراز بگٹی کا سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپنے بیانات میں کوئٹہ، نوشکی اور خضدار میں کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے شدت پسندی کے خلاف کارروائیوں اور امن و امان برقرار رکھنے کی کوششوں کو سراہا۔
بلوچستان میں سکیورٹی کی صورتِ حال صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے لیے اہم معاملہ ہے۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی کارروائیوں کے ساتھ شہریوں کی حفاظت، بنیادی سہولتوں کا تسلسل اور مقامی آبادی کی روزمرہ زندگی کو معمول پر رکھنا بھی اہمیت رکھتا ہے۔
حالیہ کارروائیوں کے بعد مزید تفصیلات، خصوصاً برآمد شدہ اسلحے اور دھماکا خیز مواد کی نوعیت، متعلقہ افراد کی شناخت اور ممکنہ خطرات کے بارے میں حکام کی وضاحت اہم ہوگی۔ اس سے واقعے کے مختلف پہلوؤں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: آٹھ مبینہ شدت پسندوں کی ہلاکت، نوشکی میں ٹھکانے کی تباہی اور خضدار میں 490 کلوگرام دھماکا خیز مواد کی برآمدگی سے متعلق معلومات آئی ایس پی آر کے بیان پر مبنی ہیں۔ فراہم کردہ معلومات میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت یا ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق شامل نہیں۔ اس لیے کارروائیوں کے نتائج کو سرکاری مؤقف کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
ماخذ: پاک فوج کا شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر)، وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا بیان، وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا بیان