Latest news

پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے پُرعزم، یمن میں پاکستانی طیاروں کی کارروائیوں کی خبریں مسترد

Spread the love

محمود احمد, October09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 اکتوبر 2026ء

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے لیے مملکت کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی رکھتا ہے۔ ترجمان کے مطابق مکہ دفاعی اتحاد ایک دفاعی نوعیت کا معاہدہ ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کی اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔

جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان نے بتایا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کی اور سعودی افواج کی جانب سے شہریوں کے تحفظ کے اقدامات کو سراہا۔ ترجمان کے مطابق پاکستان نے مدینہ میں طیبہ پاور ڈسٹری بیوشن اسٹیشن پر حملے کی بھی شدید مذمت کی اور حرمین شریفین کی حرمت اور زائرین کی سلامتی یقینی بنانے پر زور دیا۔

ترجمان نے بتایا کہ 5 اکتوبر کو ریاض میں مکہ اتحاد کی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ دفاع خواجہ آصف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی سیاسی و عسکری قیادت نے علاقائی صورتحال اور اجتماعی دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔

یمن میں پاکستانی طیاروں کی کارروائیوں کی خبریں مسترد

ترجمان نے ان میڈیا رپورٹس کو قیاس آرائی قرار دے کر مسترد کیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستانی لڑاکا طیارے یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں شریک ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان پہلے بھی ایسی خبروں کی تردید کر چکا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ مکہ دفاعی اتحاد کا مقصد سعودی عرب کے دفاع کو مضبوط بنانا ہے، نہ کہ یمن میں کارروائیاں کرنا۔ ترجمان کے مطابق پاکستانی فوجی کئی دہائیوں سے دفاعی اور تربیتی ذمہ داریوں کے تحت سعودی عرب میں موجود ہیں، جبکہ کسی اضافی تعیناتی کا فیصلہ اتحاد کی ضروریات کے مطابق کیا جائے گا۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے دورۂ پاکستان کا خیرمقدم

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے 6 سے 8 اکتوبر تک دورۂ پاکستان کو پاکستان اور اقوامِ متحدہ کے درمیان دیرینہ شراکت داری کے لیے اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق دورے کے دوران صدرِ مملکت، وزیرِ اعظم، نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار، عسکری قیادت اور دیگر حکام سے ملاقاتیں ہوئیں۔

ترجمان نے بتایا کہ ملاقاتوں میں فلسطین، کشمیر، افغانستان، دہشت گردی، موسمیاتی تبدیلی اور علاقائی امن سمیت اہم امور زیرِ بحث آئے۔ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر، سندھ طاس معاہدے اور افغان سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی سے متعلق اپنے تحفظات بھی پیش کیے۔

کشمیر اور فلسطین پر پاکستان کا مؤقف برقرار

ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود بین الاقوامی تنازع ہے، جس کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے بھارت کے نئے سیاسی نقشے کو ’’کارٹوگرافک جارحیت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یک طرفہ نقشہ سازی سے کشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل نہیں ہوسکتی۔

فلسطین کے معاملے پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کا حامی ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

سرحدی فائرنگ پر بھارت سے احتجاج

دفترِ خارجہ کے مطابق 2 اکتوبر کو بین الاقوامی سرحد کے بیڈیاں سیکٹر میں بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کی فائرنگ سے دو پاکستانی شہری ہلاک ہوئے۔ اس واقعے پر بھارتی ناظم الامور کو طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔

ترجمان کے مطابق پاکستان نے واقعے کی شفاف تحقیقات، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کا مطالبہ کیا ہے۔

سعودی عرب میں پاکستانی شہریوں کی سلامتی اہم قرار

ترجمان نے بتایا کہ سعودی عرب میں تقریباً 25 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں، اس لیے وہاں امن و سلامتی پاکستان کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت جاری رکھے گا، تاہم سعودی عرب کی خودمختاری اور دفاع کے حوالے سے اپنے عزم پر قائم ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

اس خبر میں دفترِ خارجہ کے بیانات اور پاکستان کے سرکاری مؤقف کو واضح طور پر ان سے منسوب کیا گیا ہے۔ یمن میں پاکستانی طیاروں کی کارروائیوں سے متعلق رپورٹس کو ترجمان نے مسترد کیا ہے؛ اس دعوے اور تردید کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ معلومات میں شامل نہیں۔

ماخذ: دفترِ خارجہ پاکستان کی ہفتہ وار بریفنگ، فراہم کردہ رپورٹ