Latest news

نظام مکمل طور پر کولیپس ہو چکا، اب سب تسلیم کرنے لگے ہیں: ندیم افضل چن

Spread the love

کاشف عباسی ,October03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اکتوبر 2026ء

پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما ندیم افضل چن نے ملکی سیاسی و انتظامی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ گزشتہ کئی برس سے یہ مؤقف بیان کر رہے ہیں کہ ملک کا نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے، تاہم اب وقت گزرنے کے ساتھ دیگر حلقے بھی اس صورتحال کو تسلیم کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ندیم افضل چن نے کہا کہ ان کے مطابق ریاست کا نظام چند سرمایہ دار طبقوں کے اثر و رسوخ میں آچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک طاقتور اشرافیہ کا ایسا حلقہ موجود ہے جس میں ان کے بقول جرنیل، سیاستدان، بیوروکریٹس، میڈیا ٹائیکونز اور بعض مذہبی علما شامل ہیں۔

پیپلز پارٹی رہنما نے سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی کے ایک مؤقف سے اتفاق کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی اور موجودہ حکومتوں کے کردار کا بھی آئینی اور قانونی دائرے میں جائزہ لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل کا آغاز ماضی کے فوجی ادوار سے کیا جانا چاہیے۔

ندیم افضل چن نے اپنی گفتگو میں سابق حکمرانوں اور آمروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار تمام کرداروں کا احتساب ہونا چاہیے اور جو لوگ ملک کو نقصان پہنچانے کے ذمہ دار ہیں، انہیں قانون کے مطابق جواب دہ ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ صوبوں کے حقوق اور ان کے مطالبات اپنی جگہ اہم ہیں، تاہم ان کے بقول اصل مسئلہ ان سیاسی اور بااثر کرداروں کا ہے جو ان مطالبات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی نظام میں طاقت اور وسائل کا ارتکاز ایک محدود طبقے کے پاس ہے، جس کے اثرات عام شہریوں اور ملک کے مجموعی نظام پر پڑ رہے ہیں۔

ندیم افضل چن نے اس موقع پر ملکی سیاسی نظام میں ماضی کے فوجی اور سیاسی ادوار کے باہمی تعلق پر بھی گفتگو کی اور کہا کہ نظام کی خرابیوں کو دور کرنے کے لیے ماضی کے فیصلوں اور ان کے ذمہ دار کرداروں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان میں سیاسی نظام، حکمرانی، اداروں کے کردار اور اشرافیہ کے اثر و رسوخ سے متعلق بحث ایک بار پھر سیاسی گفتگو کا اہم حصہ بنی ہوئی ہے۔ ندیم افضل چن اس سے قبل بھی ملکی سیاسی نظام میں اصلاحات اور طاقت کے مراکز سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر ندیم افضل چن کی ایک تقریب میں کی گئی گفتگو اور دستیاب رپورٹ پر مبنی ہے۔ ریاست کے نظام، اشرافیہ کے کردار اور ماضی کی حکومتوں کے خلاف قانونی کارروائی سے متعلق خیالات ان کے سیاسی مؤقف ہیں، جنہیں خبر میں انہی سے منسوب کرکے پیش کیا گیا ہے۔ آرٹیکل 6 کے تحت کسی فرد یا حکومت کے خلاف کارروائی کا فیصلہ متعلقہ آئینی و قانونی فورمز کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔

ماخذ: اردو پوائنٹ، دستیاب رپورٹ