

محمود احمد, October04,2026
تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اکتوبر 2026ء
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا نے حال ہی میں ثالثوں کے ذریعے ایران کو کچھ تجاویز پیش کی ہیں، تاہم تہران آبنائے ہرمز کو اس وقت تک دوبارہ کھولنے کے لیے تیار نہیں جب تک اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت میں طے کردہ سات شرائط پوری نہیں کی جاتیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمد باقر قالیباف نے امریکی تجاویز کی تفصیلات بتائے بغیر کہا کہ ایران کے نزدیک وقت ضائع کرنے اور یکطرفہ مطالبات مسلط کرنے کا مرحلہ ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی پوزیشن واضح اور مضبوط ہے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کا فیصلہ متعلقہ شرائط پوری ہونے سے مشروط ہے۔
قالیباف نے کہا کہ امریکا کی جانب سے میڈیا میں مختلف نوعیت کے بیانات سامنے آتے رہے ہیں، تاہم ایرانی حکومت اپنی قومی سلامتی اور پالیسی کا تعین امریکی حکام کے سوشل میڈیا پیغامات یا روزانہ کی بنیاد پر دیے جانے والے انٹرویوز کو دیکھ کر نہیں کرتی۔
ان کے مطابق ایران اپنے فیصلے مخالف فریق کے حقیقی رویے اور عملی اقدامات کو سامنے رکھتے ہوئے کرتا ہے، نہ کہ میڈیا میں ہونے والی بیان بازی کی بنیاد پر۔ انہوں نے کہا کہ سفارتی کوششیں جاری رکھنے کے ساتھ ایران فوجی محاذ پر بھی اپنی دفاعی تیاری برقرار رکھے ہوئے ہے۔
قالیباف نے کہا کہ ایران نہ تو امریکی اقدامات سے مرعوب ہے اور نہ ہی موجودہ صورتحال پر غیر معمولی جوش کا شکار، بلکہ ایک طرف فوجی محاذ پر مقابلہ کر رہا ہے اور دوسری طرف مذاکرات کا راستہ بھی کھلا رکھے ہوئے ہے۔ ان کے بقول ایران سفارت کاری کے ذریعے اپنے حقوق کے حصول اور فوجی میدان میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کی کوشش جاری رکھے گا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے مزید کہا کہ ایران اپنی پوری طاقت کے ساتھ دفاعی محاذ پر موجود ہے اور ضرورت پڑنے پر نئی کارروائیوں کے ذریعے مخالفین کا مقابلہ کرے گا۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے کسی مخصوص کارروائی یا ہدف کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔
آبنائے ہرمز سے متعلق ایرانی مؤقف عالمی سطح پر خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے درمیان ایک اہم بحری گزرگاہ ہے اور عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ آبنائے کی بندش یا دوبارہ کھولنے سے متعلق کسی بھی پیش رفت کے عالمی تیل اور تجارتی منڈیوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ایرانی مؤقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثوں کے ذریعے بالواسطہ سفارتی رابطے جاری ہیں۔ حالیہ رابطوں میں آبنائے ہرمز کی صورتحال، پابندیوں اور دیگر معاملات پر دونوں فریقین کے درمیان اختلافات کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
محمد باقر قالیباف کی جانب سے سات شرائط اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے بیان ایران کا سرکاری مؤقف ہے۔ خبر میں ان شرائط کی مکمل تفصیل شامل نہیں کی گئی کیونکہ قالیباف کے حالیہ بیان میں ان کی تفصیلی فہرست بیان نہیں کی گئی۔ امریکا کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے تجاویز پیش کیے جانے کا دعویٰ بھی ایرانی مؤقف کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔
ماخذ: رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس، اناطولیہ نیوز ایجنسی، ایرانی میڈیا رپورٹس