

منصور احمد,October10,2026
نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اکتوبر 2026ء
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں احتجاج سے قبل سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق نئی دہلی اور حضرت نظام الدین ریلوے اسٹیشنوں سے آنے اور جانے والی 250 سے زائد ٹرینیں منسوخ کر دی گئی ہیں، جبکہ دہلی میٹرو کے 57 اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی راستے بھی بند کر دیے گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کے مطابق ریلوے بورڈ کے فیصلے کے تحت 9 اکتوبر کو دوپہر دو بجے کے بعد اپنے ابتدائی اسٹیشنوں سے روانہ ہونے والی مسافر ٹرینیں منسوخ کی گئیں۔ اس کے علاوہ 10 اکتوبر کو صبح چار بجے سے دوپہر دو بجے کے درمیان نئی دہلی یا حضرت نظام الدین اسٹیشن پہنچنے والی ٹرینیں بھی منسوخی کے حکم میں شامل ہیں۔
یہ اقدامات نوجوانوں کی قیادت میں سرگرم ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی جانب سے ہفتے کے روز بڑے احتجاج کی کال کے بعد کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق شہر کے مختلف حصوں میں پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ احتجاج کے مجوزہ مقام جنتر منتر کی طرف جانے والی سڑکوں پر بھی رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں۔
انتخابی اصلاحات اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ
احتجاج کرنے والوں کے مطالبات میں انتخابی اصلاحات اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا استعفیٰ شامل ہے۔ مظاہرین نے ان پر ووٹر فہرستوں میں مبینہ ردوبدل کے الزامات عائد کیے ہیں۔ تاہم بھارتی الیکشن کمیشن نے ان الزامات کی تردید کی ہے، جبکہ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق گیانیش کمار نے استعفے کے مطالبے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ احتجاج کے لیے اجازت نہیں دی گئی۔ اسی تناظر میں جنتر منتر کی جانب جانے والے راستوں پر پابندیاں اور اضافی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
ٹرینوں کی منسوخی پر تنقید
بڑی تعداد میں ٹرینیں منسوخ کرنے کے فیصلے پر ریلوے کے سابق عہدیداروں، مسافروں کی تنظیموں اور ملازمین کی یونینوں نے تنقید کی ہے۔ ریلوے بورڈ کے سابق رکن انجینیئرنگ سوبودھ جین نے فیصلے کو احتجاج کرنے والوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے مترادف قرار دیا۔
آل انڈیا ریلوے مینز فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری شیو گوپال مشرا نے بھی فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یاد نہیں کہ ملک میں کسی احتجاج کے باعث اس سے پہلے بیک وقت اتنی بڑی تعداد میں ٹرینیں منسوخ کی گئی ہوں۔ ان کے مطابق اچانک منسوخی سے ہزاروں مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
دہلی میٹرو ریل کارپوریشن کی جانب سے 57 اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی راستے بند کیے جانے سے شہریوں کی آمدورفت بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔ تاہم فراہم کردہ رپورٹ میں بند کیے گئے تمام اسٹیشنوں کے نام اور پابندی ختم ہونے کا وقت درج نہیں۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
ٹرینوں کی منسوخی، میٹرو اسٹیشنوں کی بندش اور احتجاج سے متعلق تفصیلات فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق پیش کی گئی ہیں۔ انتخابی فہرستوں میں ردوبدل کے الزامات متنازع ہیں اور بھارتی الیکشن کمیشن انہیں مسترد کر چکا ہے۔ تصاویر نمائندہ ہیں، احتجاج یا ٹرینوں کی منسوخی کی تصدیق شدہ اصل تصاویر نہیں۔
ماخذ: پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی)، فراہم کردہ رپورٹ