Latest news

سلامتی کونسل میں پاکستان کا یوکرین جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور مذاکرات پر زور

Spread the love

محمود احمد, October09,2026

اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اکتوبر 2026ء

پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں یوکرین تنازع کے فوری خاتمے، جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی پر زور دیتے ہوئے فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کریں اور جنگی کارروائیاں روکنے کے لیے مذاکرات کی طرف واپس آئیں۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے 9 اکتوبر کو سلامتی کونسل کے یوکرین سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حالیہ دنوں میں لڑائی میں شدت پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حملوں کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا ہے جبکہ شہری بنیادی ڈھانچے، توانائی کی تنصیبات، ذرائع نقل و حمل اور تجارتی جہازوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

بحیرۂ اسود میں حملوں پر تشویش

پاکستانی مندوب نے بحیرۂ اسود میں تجارتی جہازوں پر حملوں کو خصوصی طور پر تشویش ناک قرار دیا۔ ان کے مطابق تنازع کا پھیلاؤ نہ صرف متعلقہ فریقوں بلکہ خطے اور اس کے وسیع تر ہمسایہ علاقوں کے استحکام کے لیے بھی خطرات پیدا کر رہا ہے۔

عثمان جدون نے جنگ کے انسانی اثرات اور عالمی سطح پر خوراک اور توانائی کے تحفظ کو لاحق خطرات کی جانب بھی توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ اس تنازع کے اثرات ترقی پذیر ممالک کے لیے خاص طور پر نقصان دہ ہوسکتے ہیں، کیونکہ عالمی تجارت اور توانائی کی رسد میں خلل ان کی معیشتوں پر اضافی دباؤ ڈال سکتا ہے۔

پائیدار امن کے لیے مذاکرات ضروری

سفیر عثمان جدون نے واضح کیا کہ صرف فوجی کارروائیوں کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق جنگ جاری رہنے سے فریقین کے درمیان تقسیم مزید گہری، انسانی مصائب میں اضافہ اور دیرپا سیاسی حل کے امکانات محدود ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے سفارت کاری اور مذاکرات کو امن کے حصول کا مؤثر راستہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوری اور مؤثر جنگ بندی کے لیے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

پاکستانی مندوب نے یوکرین تنازع ختم کرنے کے لیے امریکہ کی کوششوں کا خیرمقدم بھی کیا۔ انہوں نے امریکہ کی سہولت کاری سے روس اور یوکرین کے درمیان ممکنہ سہ فریقی اجلاس سے متعلق اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ متعلقہ فریق حقیقی سیاسی عزم کے ساتھ بامعنی مذاکرات میں حصہ لیں گے۔

جامع اور دیرپا حل کی حمایت

پاکستان نے تنازع کے جامع اور پائیدار پُرامن حل کے لیے ایسی تمام کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا جن میں تمام فریقوں کے جائز سلامتی خدشات کو مدنظر رکھا جائے اور جو اقوامِ متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور متعلقہ کثیرالجہتی معاہدوں کے مطابق ہوں۔

عثمان جدون کے مطابق جنگ بندی اور مذاکرات کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ فریقین تصادم کے بجائے سیاسی حل کو ترجیح دیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ سفارتی کوششوں کو آگے بڑھا کر خطے میں استحکام بحال کیا جا سکتا ہے اور جنگ کے انسانی و معاشی اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

پاکستان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شہری آبادی اور بنیادی تنصیبات کا تحفظ کیا جائے اور بین الاقوامی انسانی قانون کے تقاضوں کی پابندی یقینی بنائی جائے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے نمائندے کے خطاب کی فراہم کردہ تفصیلات پر مبنی ہے۔ امریکہ کی سہولت کاری سے ممکنہ سہ فریقی اجلاس کا ذکر ایک اطلاع کے طور پر کیا گیا ہے؛ اس کے انعقاد یا حتمی نتائج کی تصدیق فراہم کردہ متن میں موجود نہیں۔

ماخذ: اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی فراہم کردہ پریس ریلیز