

محمود احمد, October09,2026
نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 9 اکتوبر 2026ء
پاکستان نے اقوام متحدہ کے امن مشنز کی ادارہ جاتی صلاحیتیں محفوظ رکھنے اور انہیں مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ مالی دباؤ کو مستقبل کے امن مشنز کی تشکیل اور دائرۂ کار طے کرنے کا بنیادی معیار نہیں بننا چاہیے۔
پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے اقوام متحدہ کے چیلنجز سالانہ فورم کے تحت ’’امن مشنز کے لیے بدلتے حالات میں نئی پیش رفت: امن کے قیام کے لیے رفتار کیسے بڑھائی جائے‘‘ کے موضوع پر منعقدہ پینل مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا مؤقف امن مشنز میں چھ دہائیوں سے زائد تجربے پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اقوام متحدہ کو نمایاں تعداد میں فوجی اہلکار فراہم کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور اقوام متحدہ کے قدیم ترین امن مشنز میں سے ایک، اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے بھارت و پاکستان (UNMOGIP)، کی میزبانی بھی کرتا ہے۔
سفیر عثمان جدون نے بتایا کہ گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران پاکستان کے 2 لاکھ 70 ہزار سے زائد اہلکار اقوام متحدہ کے پرچم تلے خدمات انجام دے چکے ہیں، جبکہ 183 اہلکار امن مشنز کے دوران اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی حالات، جغرافیائی و سیاسی تبدیلیوں اور زمینی ضروریات کے مطابق اقوام متحدہ کے امن مشنز کے دائرۂ کار اور حکمت عملی میں تبدیلی آتی رہی ہے۔ اس لیے کسی مشن کے حجم میں کمی کو لازماً امن کارروائیوں کے زوال کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔
پاکستانی مندوب نے خبردار کیا کہ مالی مشکلات کے باعث کئی دہائیوں میں قائم ہونے والی عملی صلاحیتوں، ادارہ جاتی ڈھانچے اور بین الاقوامی شراکت داریوں کو کمزور کرنا مستقبل میں نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایک مرتبہ یہ صلاحیتیں ختم ہو جائیں تو انہیں دوبارہ اسی سطح پر بحال کرنا آسان نہیں ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ امن مشنز کے لیے ’’محدود اور مرکوز مینڈیٹس‘‘ کا مطلب صرف اہلکاروں کی تعداد یا زمینی موجودگی میں کمی نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے بجائے مشنز کی ذمہ داریاں واضح سیاسی حکمت عملی، متعین ترجیحات اور مناسب وسائل کی بنیاد پر طے کی جانی چاہییں۔ ان کا کہنا تھا کہ امن مشنز کی منصوبہ بندی زمینی حقائق اور متعلقہ ضروریات کو سامنے رکھ کر ہونی چاہیے، نہ کہ دستیاب بجٹ کی کمی کو پہلے ہی ان کے دائرۂ کار محدود کرنے کی بنیاد بنایا جائے۔
عثمان جدون نے نامیبیا، کمبوڈیا، موزمبیق، ایل سلواڈور، لائبیریا، کوٹ دیواغ اور سیرالیون میں اقوام متحدہ کے امن مشنز کی کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر تنازع اور علاقے کے حالات مختلف ہوتے ہیں، اس لیے ایک ہی طریقۂ کار تمام جگہوں پر مؤثر نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے وسطی افریقی جمہوریہ میں اقوام متحدہ کے کثیرالجہتی امن مشن (MINUSCA) کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ سازگار حالات میں امن مشنز شہریوں کے تحفظ، سیاسی عمل کی معاونت اور ریاستی عمل داری کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
پاکستانی مندوب نے مالی مشکلات کو سیاسی حمایت میں کمی کے مترادف قرار دینے سے بھی خبردار کیا۔ انہوں نے امن کارروائیوں سے متعلق خصوصی کمیٹی (C34) کی رپورٹ پر اتفاقِ رائے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2823 کی متفقہ منظوری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت عالمی برادری کی جانب سے امن مشنز کی حمایت کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان امن مشنز کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے، ان کی کارکردگی بہتر بنانے اور تنازعات کی بدلتی نوعیت سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اصلاحات کی حمایت کرتا ہے۔ تاہم، ان اصلاحات کا مقصد امن مشنز کو زیادہ مؤثر اور قابلِ عمل بنانا ہونا چاہیے، نہ کہ ان کی صلاحیتیں کمزور کرنا۔
سفیر عثمان جدون نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے فیصلوں پر عمل درآمد، جنگ بندی کی نگرانی، کشیدگی میں اضافے کی روک تھام، شہریوں کے تحفظ اور سیاسی عمل کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں قابلِ اعتماد امن مشنز اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق عالمی برادری کو عارضی مالی دباؤ کے باعث مستقبل کی امن کارروائیوں کی استعداد متاثر نہیں ہونے دینی چاہیے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: یہ خبر پاکستان کے مستقل مشن کی جانب سے جاری کردہ بیان کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ امن مشنز میں پاکستان کی خدمات، اہلکاروں کی تعداد اور جانوں کے نقصان سے متعلق اعداد سرکاری بیان میں فراہم کیے گئے ہیں؛ انہیں الگ آزادانہ تحقیق کے ذریعے دوبارہ شمار نہیں کیا گیا۔
ماخذ: پاکستان مستقل مشن برائے اقوام متحدہ