Latest news

پاکستان میں امراضِ قلب سے سالانہ لاکھوں اموات کا دعویٰ، فضائی آلودگی بھی خطرے کا اہم عنصر

Spread the love

روزینہ اسماعیل,October12,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اکتوبر 2026ء

پاکستان میں امراضِ قلب کے بڑھتے ہوئے بوجھ، فضائی آلودگی اور علاج کی سہولتوں تک رسائی سے متعلق خدشات نے صحتِ عامہ کے اہم مسائل کو دوبارہ اجاگر کر دیا ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق، ملک میں دل کی بیماریوں کے باعث اموات کی شرح تشویش ناک ہے، جبکہ ماہرین تمباکو نوشی، غیر متوازن غذا، موٹاپے، بلند فشارِ خون اور آلودہ فضا کو دل کی صحت کے لیے اہم خطرات قرار دیتے ہیں۔

رپورٹ میں عالمی ادارۂ صحت سے منسوب اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً 29 فیصد اموات امراضِ قلب سے ہوتی ہیں اور سالانہ چار لاکھ افراد ان بیماریوں کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ تاہم، ان اعداد و شمار کے سال، تعریف اور اصل ماخذ کی آزادانہ تصدیق اس خبر میں نہیں کی گئی، اس لیے انہیں تازہ سرکاری اعداد و شمار کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔

دل کی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے خدشات کے ساتھ علاج کی سہولتوں کی دستیابی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ فراہم کردہ متن کے مطابق، مختلف علاقوں سے مریض علاج کے لیے لاہور کے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) کا رخ کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں دوسرے اضلاع میں خصوصی ہسپتالوں، تشخیصی سہولتوں اور ماہر ڈاکٹروں کی دستیابی بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

نوجوانوں میں بھی دل کی بیماریوں کا خطرہ

طبی ماہرین کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دل کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے کم عمری ہی سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔ تمباکو نوشی، مرغن غذاؤں کا زیادہ استعمال، جسمانی سرگرمیوں کی کمی، موٹاپا اور ہائی بلڈ پریشر دل کی بیماریوں کے اہم خطرات میں شامل ہیں۔

رپورٹ میں یہ نکتہ بھی سامنے آیا ہے کہ دل کے امراض صرف تمباکو نوشی کرنے والوں تک محدود نہیں۔ ایسے افراد بھی ان بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں جنہوں نے کبھی سگریٹ نہیں پی۔ خاندانی تاریخ، ذیابیطس، کولیسٹرول کی زیادتی، جسمانی سرگرمیوں کی کمی اور ماحولیاتی عوامل بھی خطرے میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق، دل کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے متوازن غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی جانچ اور ضرورت کے مطابق طبی مشورہ اہم ہے۔ سینے میں دباؤ یا درد، سانس پھولنے اور اچانک پسینہ آنے جیسی علامات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے، خصوصاً جب یہ علامات اچانک ظاہر ہوں۔

فضائی آلودگی اور دل کی صحت میں تعلق

رپورٹ میں معروف ماہرِ قلب پروفیسر ڈاکٹر شہریار سے منسوب بیان کے مطابق، فضائی آلودگی اور امراضِ قلب کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ ان کے مطابق بڑے شہروں میں آلودگی بڑھنے سے پھیپھڑوں اور نظامِ قلب و دورانِ خون کی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔

لاہور، کراچی اور فیصل آباد جیسے بڑے شہروں میں ٹریفک کا دباؤ، گاڑیوں کا دھواں، صنعتی اخراج اور دیگر آلودگی کے ذرائع شہریوں کی صحت کے لیے چیلنج ہیں۔ فضائی آلودگی صرف اسموگ کے موسم تک محدود نہیں رہتی، اگرچہ سردیوں میں بعض موسمی حالات کے باعث آلودہ ذرات کی مقدار خطرناک سطح تک پہنچ سکتی ہے۔

رپورٹ میں ماحولیاتی ماہرین کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ پنجاب حکومت نے گزشتہ سال اسموگ کے تدارک کے لیے 20 ارب روپے سے زیادہ خرچ کیے، لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔ اس رقم اور اخراجات کے نتائج کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔

مقامی درختوں اور بہتر شہری منصوبہ بندی پر زور

ماہرین نے فضائی آلودگی کم کرنے کے لیے شجرکاری، ٹریفک کے دباؤ میں کمی اور درختوں کے تحفظ کو اہم قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں شہتوت، نیم، سوہانجنا، دھریک اور بکائن جیسے مقامی درخت لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔ ان کے مطابق مقامی ماحول سے مطابقت رکھنے والی انواع کو فروغ دینے سے شہری سبزے میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین نے گھروں کی چھتوں، سرکاری عمارتوں، تعلیمی اداروں اور خالی جگہوں پر پودے لگانے کی حوصلہ افزائی کے ساتھ غیر ضروری درختوں کی کٹائی روکنے پر بھی زور دیا ہے۔ بجلی کی لائنوں کے قریب درختوں کی شاخیں تراشتے وقت صرف ضروری حد تک کٹائی کرنے اور درختوں کو بلاوجہ نقصان سے بچانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

اسی طرح لاہور میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے، عوامی نقل و حمل بہتر بنانے اور آلودگی کی نگرانی کے مؤثر نظام کو فروغ دینے جیسے اقدامات بھی اہم ہو سکتے ہیں۔

پاکستان میں امراضِ قلب کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے نمٹنے کے لیے علاج کی سہولتوں میں اضافہ، بروقت تشخیص، احتیاطی طبی آگاہی اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی کو ایک مشترکہ حکمت عملی کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

رپورٹ میں اموات کی شرح، سالانہ ہلاکتوں اور اسموگ کے تدارک پر سرکاری اخراجات سے متعلق اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔ فضائی آلودگی دل اور پھیپھڑوں کی صحت کے لیے معروف خطرہ ہے، لیکن کسی مخصوص شہر یا فرد میں بیماری کی وجہ متعین کرنے کے لیے الگ شواہد درکار ہوتے ہیں۔ خبر میں صحت سے متعلق معلومات کو عمومی آگاہی کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

ماخذ: ڈبلیو ایچ او ہیلتھ رپورٹس، میڈیکل ریسرچ ڈیسک / نیوز اینڈ نیوز لاہور۔