Latest news

فیصل کریم کنڈی کا اعلان: خیبر پختونخوا میں سکیورٹی بجٹ بڑھائیں گے، راستے کھولنے کا وعدہ

Spread the love

کاشف عباسی ,October12,2026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اکتوبر 2026ء

خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے کو درپیش سکیورٹی اور انتظامی مشکلات کے باوجود حکومت نے درست سمت میں سفر شروع کر دیا ہے۔ گورنر راج کے نفاذ کے بعد پشاور میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ سکیورٹی فورسز کو درکار وسائل فراہم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں گے اور ان کے بجٹ میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ محاذ آرائی اور تلخ بیانات کے بجائے دلیل اور مؤثر مکالمے کے ذریعے خیبر پختونخوا کے مسائل پیش کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کی پالیسی اسلام آباد میں طے ہوگی، نہ کہ کابل، قندھار یا جلال آباد سے۔

گورنر کے اس بیان میں صوبے کے انتظامی معاملات، وفاق کے ساتھ تعلقات اور سکیورٹی پالیسی کے حوالے سے حکومتی ترجیحات واضح کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم، ان ترجیحات پر عمل درآمد اور صوبے کی سکیورٹی صورتحال میں بہتری کا اندازہ آئندہ عملی اقدامات اور ان کے نتائج سے لگایا جا سکے گا۔

سہیل آفریدی کی تحویل سے متعلق بیان

سہیل آفریدی کی موجودگی سے متعلق سوال پر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اس وقت ان کا اسٹیٹس ’’آف لائن‘‘ ہے اور وہ حفاظتی تحویل میں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جن افراد کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں ہوگا، انہیں رہا کر دیا جائے گا، جبکہ مقدمات کا سامنا کرنے والے افراد کے معاملات قانون کے مطابق آگے بڑھیں گے۔

گورنر نے تاہم اس بیان میں سہیل آفریدی کی تحویل کی قانونی بنیاد، مقام یا ان کے خلاف کسی مخصوص مقدمے کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ ان امور کی وضاحت کے لیے متعلقہ حکام کی باضابطہ معلومات اہم ہوں گی۔

انٹرنیٹ بحالی اور بند راستے کھولنے کا اعلان

گورنر خیبر پختونخوا نے بتایا کہ صوبے میں انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا عمل شروع ہو چکا ہے اور ایک یا دو روز میں بند راستے بھی کھول دیے جائیں گے۔ ان کے مطابق، ان اقدامات سے معمولاتِ زندگی کی بحالی میں مدد ملے گی۔

حالیہ پابندیوں اور راستوں کی بندش کے باعث شہریوں کو پیش آنے والی مشکلات کے تناظر میں ان کا یہ اعلان اہم ہے۔ تاہم، انٹرنیٹ سروس کی مکمل بحالی اور تمام راستے کھولنے کے لیے کسی حتمی وقت یا تفصیلی شیڈول کا ذکر نہیں کیا گیا۔

فیصل کریم کنڈی نے احتجاجی سرگرمیوں میں استعمال ہونے والے کنٹینر نما ٹرک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ لاوارث کھڑا ہے اور وہ انتظار کر رہے ہیں کہ کوئی اسے لے جائے۔ یہ بیان بظاہر سہیل آفریدی کے احتجاجی جلسوں میں استعمال ہونے والے ٹرک سے متعلق تھا۔

سکیورٹی فورسز کے لیے اضافی وسائل

گورنر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فوج یا پولیس نہیں بلکہ پوری قوم مل کر لڑتی ہے۔ ان کے مطابق، عوام سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور پولیس و دیگر اداروں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

انہوں نے صدر کے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے اسے سرجری سے تشبیہ دی اور کہا کہ جب اینٹی بائیوٹک سے مسئلہ حل نہ ہو تو سرجری ناگزیر ہو جاتی ہے۔ فیصل کریم کنڈی کے مطابق، خیبر پختونخوا پولیس طویل عرصے سے قربانیاں دے رہی ہے اور اب سکیورٹی مسائل کا مستقل حل نکالنے کی ضرورت ہے۔

ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبائی انتظامیہ سکیورٹی اداروں کی استعداد بڑھانے، وفاق کے ساتھ رابطہ کاری بہتر بنانے اور معمولاتِ زندگی بحال کرنے کو ترجیح دے رہی ہے۔ تاہم، ان اقدامات کی کامیابی کا انحصار عملی نفاذ، قانونی تقاضوں اور سکیورٹی صورتحال میں قابلِ پیمائش بہتری پر ہوگا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر گورنر فیصل کریم کنڈی سے منسوب نیوز کانفرنس کے فراہم کردہ متن پر مبنی ہے۔ سہیل آفریدی کی تحویل کی قانونی حیثیت، ان کے خلاف ممکنہ مقدمات، انٹرنیٹ کی بحالی اور راستے کھولنے کے اعلانات کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔ گورنر کے سیاسی اور سکیورٹی سے متعلق تبصروں کو ان کے مؤقف کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

ماخذ: گورنر ہاؤس پشاور، گورنر سیکریٹریٹ خیبر پختونخوا / نیوز اینڈ نیوز پشاور۔