Latest news

کولکتہ کی مسلم بستی میں پانی کی بندش، رکن پارلیمان کی اقوام متحدہ سے مدد کی اپیل

Spread the love

محمود احمد, October12,2026

کولکتہ (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اکتوبر 2026ء

بھارتی ریاست مغربی بنگال کے رکن پارلیمان سمیر الاسلام نے کولکتہ کی مسلم آبادی پر مشتمل جیوتی نگر کالونی میں پینے کے پانی کی فراہمی بحال کرانے کے لیے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق ادارے سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ کالونی کی پانی کی سپلائی تقریباً دو ماہ قبل بند کر دی گئی، جس کے باعث ہزاروں رہائشیوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

ترنمول کانگریس سے تعلق رکھنے والے سمیر الاسلام نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ پینے کے صاف پانی تک رسائی کسی حکومت کی جانب سے دیا جانے والا احسان نہیں بلکہ زندگی کے لیے بنیادی ضرورت اور انسانی حق ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کو محض انتظامی یا بلدیاتی مسئلہ سمجھ کر نظرانداز نہ کیا جائے، بلکہ انسانی حقوق اور عوامی صحت کے تناظر میں اس کا جائزہ لیا جائے۔

سمیر الاسلام کے مطابق، شمالی کولکتہ میں واقع جیوتی نگر کالونی میں تقریباً پانچ ہزار مسلمان آباد ہیں، جن میں بڑی تعداد محنت کش طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔ ان کے بقول، بیشتر رہائشی غریب ہیں اور مختلف کارخانوں میں یومیہ اجرت پر کام کرتے ہیں، جس کی وجہ سے پانی کی فراہمی بند ہونے کے اثرات ان کے روزمرہ معمولات اور زندگی پر شدید پڑ رہے ہیں۔

پانی کی بندش پر سیاسی امتیاز کا الزام

سمیر الاسلام نے الزام عائد کیا کہ پانی کی فراہمی کی بندش کا تعلق کالونی کے مسلمانوں کی مذہبی شناخت اور انتخابی حمایت سے ہے۔ ان کے مطابق، مقامی سطح پر بی جے پی کے ایک نو منتخب رکن اسمبلی نے انتخابی نتائج کے بعد ایسے بیانات دیے تھے جن میں ان لوگوں کو سرکاری سہولتیں فراہم نہ کرنے کی بات کی گئی جنہوں نے انہیں ووٹ نہیں دیا۔

فراہم کردہ متن کے مطابق، رتیش تیواری نے 13 مئی کو اپنے حامیوں سے خطاب میں کہا تھا کہ کالونی کے مسلمانوں نے انہیں ووٹ نہیں دیا، اس لیے وہ ان کے کام نہیں کریں گے اور نہ ہی انہیں سرکاری سرٹیفکیٹ جاری کریں گے۔ سمیر الاسلام نے ان بیانات کو پانی کی فراہمی کے معاملے کے تناظر میں پیش کرتے ہوئے حکومتی اقدام پر سوال اٹھائے ہیں۔

تاہم، پانی کی سپلائی بند کرنے کے فیصلے اور مبینہ سیاسی بیانات کے درمیان براہ راست تعلق کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ معلومات میں موجود نہیں۔ اس معاملے پر مقامی انتظامیہ اور متعلقہ حکومتی حکام کا مؤقف بھی سامنے آنا ضروری ہے۔

عدالتی رجوع کے باوجود مسئلہ حل نہ ہونے کا دعویٰ

سمیر الاسلام کا کہنا ہے کہ انہوں نے پانی کی فراہمی بحال کرانے کے لیے مختلف سطحوں پر حکام اور حکومت سے رابطہ کیا، لیکن ان کے بقول کوئی مؤثر پیش رفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی درخواست بھی دائر کی گئی ہے، تاہم ان کے مطابق ابھی تک اس کی سماعت نہیں ہوئی۔

رکن پارلیمان نے کہا کہ جب مقامی اور حکومتی سطح پر کوششوں سے مسئلہ حل نہیں ہوا تو انہوں نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق ادارے سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کی اپیل کا بنیادی مقصد کالونی کے رہائشیوں کے لیے پینے کے پانی کی فراہمی بحال کرانا ہے۔

صاف پانی تک رسائی انسانی حقوق کا معاملہ

پینے کے صاف پانی تک رسائی انسانی صحت اور زندگی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ طویل عرصے تک پانی کی فراہمی متاثر ہونے سے رہائشیوں کو پینے، کھانا پکانے، صفائی اور دیگر روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں، بالخصوص ایسے علاقوں میں جہاں لوگوں کے پاس متبادل ذرائع محدود ہوں۔

جیوتی نگر کالونی کا معاملہ اب سیاسی الزامات، بنیادی شہری سہولتوں اور انسانی حقوق سے متعلق سوالات کو یکجا کر رہا ہے۔ اس کی مکمل صورت حال واضح کرنے کے لیے پانی کی فراہمی بند کیے جانے کی وجوہات، مقامی انتظامیہ کا مؤقف اور عدالتی درخواست پر پیش رفت سامنے آنا ضروری ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

پانی کی سپلائی بند ہونے، سیاسی امتیاز کے الزام اور مقامی رکن اسمبلی سے منسوب بیانات کی تفصیلات فراہم کردہ متن پر مبنی ہیں۔ پانی کی بندش کے پیچھے مبینہ سیاسی محرک کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی، جبکہ متعلقہ انتظامیہ اور بی جے پی کا مؤقف بھی دستیاب متن میں شامل نہیں۔ خبر میں الزامات کو ثابت شدہ حقائق کے بجائے متعلقہ فریق کے مؤقف کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

ماخذ: سمیر الاسلام کا خط اور بیانات، کولکتہ نیوز ڈیسک / نیوز اینڈ نیوز کولکتہ۔