

روزینہ اسماعیل, September 26,2025
نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 25 ستمبر 2026ء —
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں پاکستان نے بھارتی مندوب کے بیان پر حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے بھارت پر دہشت گردی کی سرپرستی، مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے الزامات عائد کیے ہیں۔
پاکستانی مندوب قونصلر صائمہ سلیم نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت اپنے خلاف اٹھنے والے سوالات کا جواب دینے کے بجائے پاکستان کے بارے میں گمراہ کن بیانیہ پیش کرتا ہے۔ انہوں نے بھارتی حکومت کی پالیسیوں، ہندوتوا نظریے اور خطے میں اس کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف طویل عرصے سے قربانیاں دے رہا ہے۔یہ بیان اقوام متحدہ میں بھارتی مندوب کے خطاب کے جواب میں دیا گیا، جس میں پاکستانی وفد نے اپنے مؤقف اور اعتراضات کو عالمی فورم پر پیش کیا۔
پاکستان میں دہشت گردی اور بھارت پر الزامات
صائمہ سلیم نے کہا کہ پاکستان رواں صدی کے آغاز سے دہشت گردی کے نتیجے میں تقریباً ایک لاکھ جانوں کا نقصان برداشت کر چکا ہے، جبکہ ملکی معیشت کو بھی اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔
ان کے مطابق پاکستان نے عالمی برادری کے سامنے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور مجید بریگیڈ سمیت مختلف گروہوں کو بھارت کی جانب سے مالی معاونت اور سرپرستی فراہم کیے جانے کے شواہد پیش کیے ہیں۔
پاکستانی مندوب نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی مذمت کرے۔ انہوں نے بھارتی شہری کلبھوشن جادھو، امریکی مقدمے میں نکھل گپتا کے اعترافِ جرم اور کینیڈا میں سکھ رہنما کے قتل سے متعلق معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے بھارت پر بیرون ملک کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات بھی دہرائے۔
یہ الزامات پاکستانی حکومت کے مؤقف کا حصہ ہیں؛ خطاب میں پیش کیے گئے تمام دعووں کی آزادانہ تصدیق اس خبر میں نہیں کی گئی۔
مسئلہ کشمیر اور حقِ خودارادیت
پاکستانی مندوب نے جموں و کشمیر کو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ملنا چاہیے۔
صائمہ سلیم نے بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کی صورت حال پر تنقید کی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کا حوالہ دیا۔
انہوں نے آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیر انتظام کشمیر کی صورت حال کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کو سیاسی عمل میں شرکت اور اپنے حقوق کے استعمال کا موقع ملنا چاہیے۔
پاکستان طویل عرصے سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور حقِ خودارادیت کے اصول پر زور دیتا رہا ہے، جبکہ بھارت جموں و کشمیر کو اپنا داخلی معاملہ قرار دیتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ تنازع کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے۔
بھارت میں اقلیتوں کے حقوق اور ہندوتوا
صائمہ سلیم نے بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی نظریاتی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ہندوتوا نظریے کو ریاستی پالیسی میں جگہ دی جا رہی ہے۔
انہوں نے مسلمانوں، عیسائیوں، دلتوں اور سکھوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مبینہ تشدد کے واقعات کا ذکر کیا۔ پاکستانی مندوب نے گجرات اور دہلی میں مسلمانوں کے خلاف تشدد، مذہبی منافرت پر مبنی بیانات اور شہریت سے متعلق قوانین کو بھی اپنے اعتراضات میں شامل کیا۔
ان کے بقول اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ اور مذہبی آزادی یقینی بنانا بین الاقوامی ذمہ داریوں کا حصہ ہے۔
سندھ طاس معاہدہ اور امن کا پیغام
پاکستانی مندوب نے سندھ طاس معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے بھارت پر الزام لگایا کہ وہ معاہدے کی ذمہ داریوں کو نظرانداز کرکے پاکستان کے پانی کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے پانی 24 کروڑ عوام کی زندگی اور معیشت سے جڑا بنیادی مسئلہ ہے۔ خطاب میں مئی 2025 کے معرکۂ حق کا ذکر کرتے ہوئے صائمہ سلیم نے بھارت کے بیانیے کو مسترد کیا اور کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور دفاع کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔
خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے اور دنیا میں امن، باہمی احترام، مکالمے اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق پاکستان جارحیت کی صورت میں اپنا دفاع کرے گا، تاہم امن کے راستے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: یہ خبر 25 ستمبر 2026 کو اقوام متحدہ میں پاکستان کے حقِ جواب سے متعلق فراہم کردہ خطاب کے متن کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ بھارت کے خلاف دہشت گردی، انسانی حقوق اور معاہدوں کی خلاف ورزی سے متعلق الزامات پاکستانی وفد کے مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس خبر میں بھارتی حکومت کا جواب یا خطاب میں بیان کردہ ہر دعوے کی آزادانہ تصدیق شامل نہیں ہے۔
ماخذ: پاکستان کے حقِ جواب کے لیے فراہم کردہ خطاب کا متن، مورخہ 25 ستمبر 2026ء۔