Latest news

مذاکرات ناکام، پی ٹی آئی کا لکی مروت سے لانگ مارچ شروع

Spread the love

کاشف عباسی ,October04,2026

لکی مروت (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اکتوبر 2026ء

حکومت کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں ضلع لکی مروت سے لانگ مارچ کا آغاز کردیا ہے۔ گنڈی چوک پر موجود کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے تحریک کے اگلے مراحل اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے پارٹی کا مؤقف بیان کیا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ لانگ مارچ کے شرکا ضلع خیبر کی جانب روانہ ہوں گے اور پیر کو خیبر میں کارکنوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب قافلہ صوابی پہنچے گا تو وہاں بڑی تعداد میں لوگ موجود ہوں گے اور تحریک مزید علاقوں تک پھیل چکی ہوگی۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ تحریک کے دوران ہر روز ایک نئے منصوبے کا اعلان کیا جائے گا۔ ان کے بقول صوابی پہنچنے تک ملک کے مختلف علاقوں میں تحریک کے اثرات نمایاں ہوچکے ہوں گے اور مختلف مقامات سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن جائیں گے۔

مذاکرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ اسلام آباد جانے والی پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی کا مقصد سیاسی درجہ حرارت کم کرنا تھا۔ ان کے مطابق مذاکراتی عمل کے ذریعے سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم ان کے بقول ایسے فیصلے کیے جا رہے تھے جنہیں وہ عوام پر مسلط کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔

سہیل آفریدی نے اپنی تقریر میں عمران خان کے سیاسی وژن اور پالیسی کو خیبر پختونخوا میں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں عمران خان کی پالیسی ہی چلے گی اور پی ٹی آئی کسی ایسی پالیسی کو قبول نہیں کرے گی جس سے پشتونوں کو نقصان پہنچے۔

انہوں نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے امکان کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نہ گورنر راج قبول کرے گی اور نہ ہی ایمرجنسی کو تسلیم کرے گی۔

پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ ایسے وقت شروع کیا گیا ہے جب وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات میں مختلف معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ سیاسی سرگرمیوں اور احتجاج کے دوران آئین، قانون اور عدالتی احکامات کی پابندی ضروری ہے، جبکہ پی ٹی آئی اپنے سیاسی مطالبات کے لیے احتجاج کو آئینی حق قرار دے رہی ہے۔

لانگ مارچ کے آئندہ مرحلے میں خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے مزید کارکنوں اور قافلوں کے شامل ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم شرکا کی متوقع تعداد اور تحریک کے مستقبل کے سیاسی اثرات کے بارے میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے بیانات کو سیاسی دعووں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
سہیل آفریدی کی جانب سے عمران خان کی پالیسی، گورنر راج اور ایمرجنسی سے متعلق بیانات ان کا سیاسی مؤقف ہیں۔ خبر میں لانگ مارچ کے شرکا کی مستقبل میں متوقع تعداد یا تحریک کے ممکنہ سیاسی نتائج کو حتمی حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ حکومت اور پی ٹی آئی دونوں کے مؤقف کو ان کے اپنے سیاسی بیانات کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔

ماخذ: نیوز اینڈ نیوز، پی ٹی آئی قیادت کے بیانات، دستیاب میڈیا رپورٹس