

محمود احمد, October24,2026
تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اکتوبر 2026ء
تہران میں روسی سفارتخانے نے ایران سے اپنے سفارت کاروں اور ماہرین کو واپس بلانے سے متعلق خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ نہ تو سفارتخانے کے عملے کو واپس بلایا جا رہا ہے اور نہ ہی بوشہر جوہری پاور پلانٹ پر تعینات روسی ماہرین کے انخلا کا کوئی منصوبہ زیرِ غور ہے۔ سفارتخانے کے مطابق ایران میں اس کی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔
روسی سفارتخانے نے ہفتے کے روز اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جاری بیان میں ان اطلاعات کو مسترد کیا جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ایران میں موجود روسی سفارتی عملے اور بوشہر جوہری بجلی گھر پر کام کرنے والے ماہرین کو وہاں سے نکالا جا سکتا ہے۔ سفارتخانے نے اپنے بیان میں کہا کہ عملے کی واپسی یا ماہرین کے انخلا کے حوالے سے کوئی منصوبہ نہیں بنایا گیا۔
یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور خطے کی سکیورٹی صورت حال پر بین الاقوامی توجہ برقرار ہے۔ ایسے ماحول میں سفارتی عملے کی نقل و حرکت اور حساس تنصیبات پر کام کرنے والے غیر ملکی ماہرین کی موجودگی سے متعلق اطلاعات اہمیت اختیار کر جاتی ہیں۔ روسی سفارتخانے نے اپنے بیان کے ذریعے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے معمول کی سرگرمیاں جاری رہنے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔
بوشہر جوہری پاور پلانٹ کی اہمیت
ایران کے جنوب میں واقع بوشہر جوہری پاور پلانٹ ملک کی جوہری توانائی کی اہم تنصیبات میں شمار ہوتا ہے۔ اس منصوبے میں روس کا تکنیکی اور عملی تعاون اہم رہا ہے، جبکہ روسی ماہرین جوہری بجلی گھر سے متعلق مختلف کاموں میں حصہ لیتے رہے ہیں۔
جوہری تنصیبات پر کام کرنے والے ماہرین کی موجودگی اور ان کی سلامتی سے متعلق معلومات اس لیے بھی اہم ہوتی ہیں کہ ایسے منصوبوں کے لیے مخصوص تکنیکی مہارت، مسلسل نگرانی اور بین الاقوامی تعاون درکار ہوتا ہے۔ ماہرین کی واپسی سے متعلق خبر درست ثابت ہونے کی صورت میں منصوبے کے انتظامات اور کام کی رفتار پر سوالات اٹھ سکتے تھے، تاہم روسی سفارتخانے نے واضح کیا ہے کہ فی الحال انخلا کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
بوشہر پاور پلانٹ ایران کے بجلی پیدا کرنے کے نظام کا حصہ ہے اور جوہری توانائی کے پُرامن استعمال کے حوالے سے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ اس طرح کے منصوبوں میں تکنیکی تعاون برقرار رہنا متعلقہ ممالک کے لیے توانائی اور صنعتی شعبوں میں اہم سمجھا جاتا ہے۔
روس اور ایران کے سفارتی تعلقات
روسی سفارتخانے کا بیان ایران میں اپنی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رکھنے کے مؤقف کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان توانائی، تکنیکی تعاون اور مختلف سیاسی معاملات پر رابطے موجود ہیں۔ بوشہر جوہری منصوبہ بھی ان شعبوں میں سے ایک ہے جہاں روسی مہارت اور تعاون کا کردار رہا ہے۔
سفارتخانے کی تردید سے یہ واضح ہوتا ہے کہ روس نے فی الحال اپنے سفارتی عملے یا بوشہر میں تعینات ماہرین کی واپسی کا اعلان نہیں کیا۔ تاہم بیان میں عملے کی تعداد، ماہرین کی تعیناتی یا مستقبل میں سکیورٹی انتظامات میں ممکنہ تبدیلیوں سے متعلق مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔
ایران میں کام کرنے والے غیر ملکی سفارتی اور تکنیکی عملے کی صورت حال سے متعلق کسی بھی خبر کا جائزہ لیتے ہوئے سرکاری بیانات اور تصدیق شدہ معلومات کو بنیاد بنانا ضروری ہے۔ محض غیر مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر انخلا یا سرگرمیوں کی معطلی کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
انخلا سے متعلق افواہوں پر سفارتخانے کی وضاحت
روسی سفارتخانے نے اپنے بیان میں دو باتوں پر خاص طور پر زور دیا: سفارتی عملے کو واپس بلانے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور بوشہر جوہری پاور پلانٹ پر کام کرنے والے روسی ماہرین کو نکالنے کا کوئی منصوبہ زیرِ غور نہیں۔ سفارتخانے کے مطابق ایران میں اس کی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔
اس وضاحت کے بعد انخلا سے متعلق اطلاعات کو روسی سفارتخانے کے مؤقف کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ اگر مستقبل میں سفارتی عملے یا جوہری منصوبے سے متعلق انتظامات میں کوئی تبدیلی ہوتی ہے تو اس کی تصدیق متعلقہ حکام کے باضابطہ اعلان سے ہی ہو سکے گی۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: روسی سفارتخانے نے ایران سے سفارت کاروں اور بوشہر جوہری پاور پلانٹ کے ماہرین کے انخلا کی خبروں کو مسترد کیا ہے۔ دستیاب بیان کے مطابق ایران میں روسی سفارتخانے کی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں؛ مستقبل کے سکیورٹی یا انتظامی فیصلوں سے متعلق کوئی اضافی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔
ماخذ: تہران میں روسی سفارتخانے کا بیان